Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آگئی اور لوگ قادس میں رہنے لگے اور مریم نے وہاں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئی
2اور جماعت ک ے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا سو وہ موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھےہوئے
3اور لوگ موسیٰ سے جھگڑے اور کہنے لگےہائے کاش ہم بھی اسی وقت مر جاتے جب ہمارے بھائی خداوند کےحضور مرے
4تم خداوند کی جماعت کو یہا ں دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہا ں مریں؟
5اور تم نے ہم کو کیوں مصر سے نکال کر اس بری جگہ پہنچایا ہے؟ یہ تو بونے کی اور انجیروں کی اور اناروں کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو پینے کےلیے پانی تک میسر نہیں ہے
6اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خٰیمہ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے تب خداوند کا جلال ان پر ظاہر ہوا
7اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
8اس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون دونوں جماعت کو اکٹھا کرواور ان کی آنکھوں کے سامنے اس چٹان سے کہو کہ وہ پانی دے اور ان کے لیے چٹان ہی سے پانی نکلنا یوں جماعت کو اور انکے چوپایوں کو پلانا
9چنانچہ موسیٰ نے خداوند کےحضور سے حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی
10اور موسیٰ اور ہارون نے اس جماعت کو چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اس نے ان سے کہا کہ سنو اے باغیو ! کیا ہم تمہارے لیے اس چٹان سے پانی نکالیں؟
11تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور چٹان پر دوبارہ لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نکلا اور جماعت نے اور انکے چوپایوں نے پیا
12پر موسیٰ اور ہارون نے خداوند سے کہا کہ چونکہ تم نے میرا یقین نہیں کیا کہ بنی اسرائیل کے سامنے میری تقدیس کرتےاس لیے تم اس جماعت کو اس ملک میں جو میں نے انکو دیا ہے نہیں پہنچانے پاؤ گے
13مریبہ کا چشمہ یہی ہے کیونکہ بنی اسرائیل نے خداوند سے جھگڑا کیا اور وہ ان کے درمیان قدوس ثابت ہو ا
14اور موسیٰ نے قادس سے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ تیرا بھائی اسرائیل یہ عرض کرتا ہے کہ تو ہماری سب مصیبتوں سے جو ہم پر آئیں واقف ہے ۔
15ہمارے باپ دادا مصر میں گئے اور ہم بہت مدت تک مصر میں رہے اور مصریوں نے ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے برا برتاؤ کیا
16اور جب ہم نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے ہماری سنی اور ایک فرشتہ بھیج کر ہم کو مصر سے نکال لے آیا اور ہم قادس شہر میں ہیں جو تیری سرحد کے آخر میں واقع ہے
17سو ہم کو اپنے ملک میں سے ہو کر جانے کی اجازت دے ہم کھیتوں اور تاکستانو ںمیں سے ہو کر نہیں گذریں گے اور نہ کوؤں کا پانی پیئیں گے ہم شاہراہ پر چلیں گے اور دہنے یا بائیں نہیں مڑیں گے جب تک تیری سرحد سے باہر نہ نکل جائیں
18پر شاہ ادوم نے کہلا بھیجا کہ تو میرے ملک سے ہو کر جانے نہیں پائے گا اور نہ میں تلوار لے کر تیرا مقابلی کروں گا
19بنی اسرائیل نے اسے پھر کہلا بھیجا کہ ہم سڑک سڑک ہی جائیں گے اور اگر ہم یا ہمارے چوپائے تیرا پانی بھی پیئیں تو اس کا دام دیں گے ہم کو کچھ نہیں چاہیےسوائے اس کے کہ تو ہمکو پاؤں پاؤں چل کر جانے دے
20پر اس نے کہا کہ تو ہرگز نکلنے نہیں پائے گا اور ادوم اسکےمقابلہ کے لیے بہت سے آدمی اور ہتھیار لے کر نکل آیا
21یوں ادوم نے اسرائیل کو اپنی حدود سے گذرنے کا راستہ دینے سے انکار کیا اس لیے اسرائیل اسکی طرف سے مڑ گیا
22اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت قادس سے روانہ ہو کر کوہ ہور پہنچی
23اور خداوند نے کوہ ہور پر جو ادوم کی سرحد سے ملا ہوا تھا موسیٰ اور ہارون سے کہا
24ہارون اپنے لوگوں میں جا ملے گا کیونکہ وہ اس ملک میں جو میں نے اسرائیل کو دیا ہے جانے نہیں پائے گا اس لیے کہ مریبیہ کے چشمہ پر تم نے میرے کلام کے خلاف عمل کیا
25سو تو ہارون اور اس کے بیٹے الیعزر کو اپنے ساتھ لے کر کوہ ہور کے اوپر آ جا
26اور ہارون کے لباس کو اتار کر اس کے بیٹے الیعزر کو پہنا دیا کیونکہ ہارون وہیں وفات پا کر اپنے لوگوں میں جا ملا
27اور موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطابق عمل کیا اور وہ ساری جماعت کی آنکھوں کے سامنے کوہ ہور پر چڑھ گئے
28اور موسیٰ نے ہارون کے لباس کو اتار کر اسکے بیٹے الیعزر کو پہنا دیا اور ہارون نے وہیں پہاڑ کی چوٹی پر رحلت کی ۔تب موسیٰ اور الیعزر پہاڑ پر سے اتر آئے
29جب جماعت نے دیکھا کہ ہارون نے وفات پائی تو اسرائیل کے سارے گھرانے کے لوگ ہارون پر تیس دن تک ماتم کرتے رہے۔