Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
35 verses
1باب نمبر 21جب عراد کے کنعانی بادشاہ نے جو جنو ب کی طرف رہتا تھا سنا کہ اسرائیلی اتھارم کی راہ سے آ رہے ہیں تو وہ اسرائیلیوں سے لڑا اور ان میں سے کئی کو اسیر کر لیا
2تب اسرائیلیوں نے خداوند کے حضور منت مانی اور کہا کہ اگر تو سچ مچ ان لوگوں کو ہمارے حوالہ کردے تو ہم ان کے شہروں کو نیست کردیں گے
3اور خداوند نے ان کی فریاد سنی اور کنعانیوں کو انکے حوالہ کردیا اور انہوں نے انکو اور انکے شہروں کو نیست کر دیا چنانچہ اس جگہ کا نام بھی حرمہ پڑ گیا
4پھر انہوں نے کوہ ہور سے ہو کر بحر قلزم کا راستہ لیا تاکہ ملک ادوم کے باہر باہر گھوم کر جائیں لیکن ان لوگوں کی جان اس راستہ سے عاجز آ گئی
5اور لوگ خدا کی اور موسیٰ کی شکایت کر کے کہنے لگے کہ تم کیوں ہمیں مصر سے بیابان میں مرنے کےلیے لے آئے؟ یہاں تو نہ روٹی ہےنہ پانی اور ہمارا جی اس نکمی خوراک سے کراہیت کرتا ہے
6تب خداوند نے ان لوگوں میں جلانے والے سانپ بھیجے انہوں نے لوگوں کو کاٹا اور بہت سے اسرائیلی مر گئے
7تب وہ لوگ موسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ہم نے گناہ کیا کیونکہ ہم نے خداوند کی اور تیری شکا یت کی سو تو خداوند سے دعا کر کہ ان سانپوں کو ہم سے دور کرے چنانچہ موسیٰ نے لوگوں کے لیے دعا کی
8تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ایک جلانے والا سانپ بنا لے اور اسے ایک بَلی پر لٹکا دے اور جو سانپ کا ڈسا ہو اس پر نظر کرے گا وہ جیتا بچے گا۔
9چنانچہ موسیٰ نے پیتل کا ایک سانپ بنا کر اسے بَلی پر لٹکا دیا اور ایسا ہوا کہ جس جس سانپ کے ڈسے ہو ئے آدمی نے اس پیتل کے سانپ پر نگاہ کی وہ جیتا بچ گیا
10اور بنی اسرائیل نے وہاں سے کوچ کیا اور اوبوت میں آ کر ڈیرے ڈالے
11پھر اوبوت سے کوچ کیا عیے عباریم میں جو مشرق کی طرف موآب کے سامنے کے بیابان میں واقع ہے ڈیرے ڈالے
12وہاں سے کوچ کر کے وادی زرد میں ڈیرے ڈالے
13جب وہاں سے طلے تو ارنون سے پار ہو کر جو اموریوں کی سرحد سے نکل کر بیابان میں بہتی ہے ڈیرے ڈالے کیونکہ موآب اور اموریوں کے درمیان ارنون موآب کی سرحد ہے
14اسی سبب سے خداوند کے جنگ نامہ میں یہ لکھا ہےواہیب جو سوفہ میں ہے اور ارنون کے نالے۔
15اور ان نالوں کا ڈھلان جو عار شہر تک جاتا ہے اور موآب کی سرحد سے متصل ہے۔
16پھر اس جگہ سے وہ بیر کو گئے یہ وہی کوآں ہے جس کے بار ے خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ان لوگوں کو ایک جگہ جمع کر اور میں انکو پانی دونگا۔
17تب اسرائیل نے یہ گیت گایا اے کوئیں تو ابل آ ۔ تم اس کوئیں کی تعریف گاؤ۔
18یہ وہی کاآں ہے جسے رئیسوں نے بنایا اور قوم کے اسیروں نے اپنے عصا اور لاٹھیوں سے کھوداتب وہ اس دشت سے متنہ کو گئے
19اور متنہ سے نحلی ایل اور نحلی ایل سے بامات کو
20اور بامات سے اس وادی میں پہنچ کر جو موآب کے میدان میں ہے پسگہ کی اس چوٹی تک نکل گئے جہاں سے یشیمون نظرآتا ہے
21اور اسرائیلیوں نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے پاس ایلچی روانہ کیے اور یہ کہلا بھیجا کہ
22ہم کو اپنے ملک سے گذر جانے دے ہم کھیتوں اور انگور کے باغوں میں نہیں گھسینگے اور نہ کوؤں کا پانی پیئیں گے بلکہ شاہراہ سے سیدھے چلےجائیں گے جب تک تیری سرحد سے باہر نہ ہو جائیں
23پر سیحون نے اسرائیلیوں کو اپنی سرحد سے گزرنے نہ دیابلکہ سیحون اپنے لو گوں کو اکٹھا کر کے اسرائیلیوں کے مقابلہ کے لیے بیابان میں پہنچا اور اس نے یہض میں آ کر اسرائیلیوں سے جنگ کی
24اور اسرائیل سے اسے تلوار کی دھار سے مارا اور اسکے ملک پر ارنون سے لے کر یبوق تک جہاں بنی عمون کی سرحد ہے قبضہ کر لیا کیونکہ بنی عمون کی سرحد مضبوط تھی
25سو بنی اسرائیل نے یہاں کے سب شہروں کو لے لیا اور اور سب شہروں میں یعنی حسبون اور اس کے آس پاس کے قصبوں میں بنی اسرائیل بس گئے
26حسبون اموریوں کے بادشاہ سیحون کا شہر تھا اس نے موّب کے اگلے بادشاہ سے لڑ کر اس کے سارے ملک کو ارنون تک اس سے چھین لیا تھا
27اسی سبب سے مثل کہنے والوں کی یہ کہاوت ہےکہ حسبون میں آؤتاکہ حسبون کا شہر بنایا اور مضبوط کیا جائے
28کیونکہ حسبون سےآگ نکلی سیحون کے شہر سے شعلہ برآمد ہوااس نے موآب کے عات شہر کو اور ارنون کے اونچے مقامات کے سرداروں کو بھسم کیا
29اے موآب ! تجھ پر نوحہاے کموس کے ماننے والوں ! تم ہلاک ہوئے اس نے اپنے بیٹوں کو جو بھاگتے تھے اور اپنی بیٹیوں کو اسیروں کی مانند اموریوں کے بادشاہ سیحون کے حوالہ کیا
30ہم نے ان پر تیر چلائے سو حسبون دیبون تک تباہ ہو گیا بلکہ ہم نے نفح تک سب کچھ اجاڑ دیا وہ نفح جو میدبا سے متصل ہے
31بنی اسرائیل اموریوں کے ملک میں رہنے لگے
32اور موسیٰ نے عزیر کی جاسوسی کرائی پھر انہوں نے اس کے گاؤں لے لیے اور اموریں کو جو وہاں تھے نکال دیا
33اور وہ گھوم کر بسن کے راستہ سے آگے کو بڑھے اور بسن کا بادشاہ عوج اپنے لشکر کر لے کر نکلا تاکہ ادرعی میں ان سے جنگ کرے
34اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اس سے مت ڈر کیونکہ میں نے اس کو اور اسکے سارے لشکر کو اور اس کے سارے ملک کو تیرے حوالہ کر دیا ہے سو جیسا تو نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے ساتھ جو حسبون میں رہتا تھا کیا ویسا ہی اس کے ساتھ بھی کرنا ۔
35چنانچہ انہوں نے اسکو اور اسکے بیٹو ں اور اسب لوگوں کو یہاں تک مارا کہ اسکا کوئی باقی نہ رہا اور اس کے ملک کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔