Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
38 verses
1باب نمبر 22پھر بنی اسرائیل نے کوچ کیا اور دریائے یردن کے پار موآب کے میدانوں میں یریحو کے مقابل خیمے کھڑے کیے
2اور جو کچھ بنی اسرائیل نے اموریوں کے ساتھ کیا تھا وہ سب لقن بن صفور نے دیکھا اس لیے موآبیوں کو ان لوگوں سے بڑا خوف آیاکیونکہ وہ بہت سے تھے غرض موآبی بنی اسرائیل کے سبب سے پریشان ہوئے سو موآبیوں نے مدیانی بزرگوں سے کہا کہ جو کچھ ہمارے آس پاس ہے اسے اننوہ ایسا چٹ کر جائے گا جیسے بیل میدان کی گھا س کو چٹ کر جاتا ہے اس وقت بلق بن صفور موآبیوں کا بادشاہ تھا
5سو اس نے بعور کے بیٹے بلعام کے پاس فتور کو جو بڑے دریا کے پاس کے کنار ے اس کی قوم کے لوگوں کا ملک تھا قاصد روانہ کیے کہ اسے بلا لائیں اور یہ کہلا بھیجا کہ دیکھ ایک قوم مصر سے نکل کر آئی ہے ان سے زمین کی سطح چھپ گئی ہے اب وہ میرے مقابل ہی آ کر جم گئے ہیں
6سو تو اب آ کر ان لوگوں پر لعنت کر کیونکہ یہ مجھ سے بہت قوی ہیں پھر ممکن ہے کہ میں غالب آؤں اور ہم ان کو مار کر اس ملک سے نکال دیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جسے تو برکت دیتا ہے اسے برکت ملتی ہے اور جس پر تو لعنت کرتا ہے وہ ملعون ہو تا ہے
7سو موآب کے بزرگ اور مدیان کے بزرگ فال کھو،نے کا انعام لے کر ساتھ روانہ ہوئے اور بلعام کے پاس پہنچے اور بلق کا پیغام اسے دیا
8اس نے ان سے کہا کہ آج رات تم یہیں ٹھہرو اور جو کچھ خداوند مجھ سے کہے گا اس کے مطابق میں تم کو جواب دونگا چنانچہ موآب کے امرا بلعام سے ساتھ ٹھہرگئے
9اور خداوند نے بلعام کے پاس آ کر کہا کہ تیرے پاس یہ آدمی کون ہیں ؟
10بلعام نے خدا سے کہا کہ موآب کے بادشاہ بلق بن صفور نے میرے پاس کہلا بھیجا ہے کہ
11جو قوم مصر سے نکل کر آئی ہے اس سے زمین چھپ گئی ہے سو تو اب آ کر میری خاطر ان پر لعنت کر پھر ممکن ہےکہ میں ان سے لڑ سکوں اور ان کو نکال دوں
12خدا نے بلعام سے کہا تو ان کے ساتھ مت جانا تو ان لوگوں پر لعنت نہ کرنا کیونکہ وہ مبارک ہیں
13بلعام نے صبح اٹھ کر بلق کے امرا سے کہا تم اپنے ملک کو لوٹ جاؤ کیونکہ خداوند مجھے تمہارے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دیتا
14اور موآب کے امرا چلے گئے اور واپس جا کر کہا کہ بلعام ہمارے ساتھ آنے سے انکار کرتا ہے تب دوسری دفعہ بلق نے اور امرا کو بھیجا جو پہلو ں سے بڑھکر معزز اور شمار میں زیادہ تھے
16انہوں نے بلعام کے پاس جا کر کہا کہ بلق صفو ر نے یہ کہا ہے کہ میرے پاس آنے میں تیرے لیے کو ئی رکاوٹ نہ ہو
17کیونکہ میں نہایت عالیٰ منصب پر تجھے ممتاز کروں گا اور جو کچھ تو مجھ سے کہے وہی کروں گا سو تو آ جا اور میری خاطر ان لوگوں پر لعنت کر
18بلعام نے بلق کے خادموں کو جواب دیا اگر بلق اپنا گھر بھی چاندی اور سونے سے بھر کر مجھے دے تو بھی میں خداوند اپنے خدا کے حکم سے تجاوز نہیں کر سکتا کہ اے گھٹا کر یا بڑھا کر مانوں
19سو تم بھی آج رات یہیں ٹھہرو تاکہ میں دیکھوں کہ خداوند مجھے اور کیا کہتا ہے
20اور خدا نے رات کو بلعام کے پاس آ کر کہا کہ اگر یہ آدمی تجھے بلانے کے لیے آئے ہوئے ��یں تو تو اٹھکر ان کے ساتھ جا مگر جو بات میں تجھ سے کہوں اسی پہ عمل کرنا
21سو بلعام اٹھا اور اپنی گدھی پر زین کس کر موآب کے امرا کے ہمراہ چلا
22اور اسکے جانے کے سبب سے خدا کا غضب اس پر بھڑکا اور خداوند کا فرشتہ اس سے مزاہمت کرنے کے لیے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا وہ تو اپنی گدھی پر سوار تھا اور اس کے ساتھ دو ملازم تھے
23اور اس گدھی نے خداوند کے فرشتہ کو دیکھا وہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیے کھڑا ہے تب گدھی راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو گئی اور کھیت میں چلی گئی سو بلعام نے گدھی کو مارا تاکہ اسے راستہ پر لائے۔
24تب خداوند کا فرشتہ ایک نیچی راہ میں جا کھڑا ہو جو کہ تاکستانوں میں بیچ سے ہو کر نکلتی تھی اور اس کی دونوں طرف دیواریںٰ تھیں
25گدھی خداوند کے فرشتہ کو دیکھ کر دیوار سے جا لگی اور بلعام کے پاؤں کو دیوار کے ساتھ پچا دیا سو اس نے پھر اسے مارا
26تب خداوند کا فرشتہ آگے بڑھ کر ایک ایسے تنگ مقام میں کھڑا ہو گیا جہاں دہنی یا بائیں طرف مڑنے کی جگہ نہ تھی
27پھر جو گدھی نے خداوند کے فرشتہ کو دیکھا تو بلعام کو لیے ہوئے بیٹھ گئی پھر تو بلعام جھلا اٹھا اور اس نے اپنی گدھی کولاٹھی سے مارا
28تب خداوند نے گدھی کی زبان کھول دی اور اس نے بلعام سے کہا کہ میں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے کہ تو مجھے تین بار مارا؟
29بلعام بے گدھی سے کہا اس لیے کہ تو نے مجھے چڑایا کاش ! میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو میں تجھے ابھی مار ڈالتا
30گدھی نے بلعام سے کہا کیا میں تیری وہی گدھی نہیں ہو ں جس پر تو اپنی ساری عمر آ ج تک سوار ہوتا آیا ہے؟ کیا میں تیرے ساتھ پہلے کبھی ایسا کرتی تھی ؟ اس نے کہا نہیں
31تب خداوند نے بلعام کی آنکھیں کھولیں اور اس نے خداوند کے فرشتہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیے ہوئے کھڑا ہے سو اس نے اپنا سر جھکا لیا اور اوندھا ہو گیا
32خداوند کے فرشتہ نے اسے کہا کہ تو نے اپنی گدھی کو تین بار کیوں مارا؟ دیکھ میں تجھ سے مزاحمت کرنے کو آیا ہو ں اس لیے کہ تیری چال میری نظر میں ٹیڑھی ہے
33اور گدھی نے مجھکو دیکھا اور تین بار میرے سامنےسے مڑ گئی اگر وہ میرے سامنے سے نہ ہٹتی تو میں ضرور تجھے مار ہی ڈالتا اور اسکو جیتی چھوڑ دیتا
34بلعام نے خداوند کے فرشتہ سے کہا کہ مجھ سے خطا ہوئی ہے کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ تو میرا راستہ روک ےکھڑا ہے سو اگرا ب تجھے برا لگتا ہے تو میں لوٹ جاتا ہوں
35خداوند کے فرشتہ نے بلعام سے کہا تو ان آدمیوں کے ساتھ ہی چلا جا لیکن فقط وہی بات کہنا جو میں تجھ سے کہوں سو بلعام بلق کے امرا کے ساتھ گیا
36بج بلق نے سنا بلعام آ رہا ہے تو اس کے استقبا ل کے لیے موآب کے اس ہر تک گیا جو ارنون کی سرحد پر اس کی حدود کے انتہائی حصہ پر واقعہ تھا
37تب بلق نے بلعام سے کہا کیا میں نے بڑی امید کے ساتھ تجھے نہیں بلوا بھیجا تھا ؟ پھر تو میرے پاس کیوں نہ چلا آیا کیا میں اس قابل نہیں کہ تجھے عالیٰ منصب پر ممتاز کروں ؟
38بلعام نے بلق کو جواب دیا دیکھ میں تیرے پاس آ تو گیا ہو ں پر کیا میری اتنی مجال ہے کہ میں کچھ بولوں؟ جو بات خدا میرے منہ میں ڈالے گا وہی میں کہو ں گا
39اور بلعام بلق کے ساتھ چلا گیا اور وہ قریت حصات میں پہنچے
40بلق نے بیل اور بھیڑوں کی قربانی گذرانی اور بلعام اور ان امرا کے پاس جو اس کے ساتھ تھے قربانی کا گوشت بھیجا
41دوسرے دن صبح بلق بلعام کو ساتھ لے کر اسے بعل کے بلند مقاموں پر لے گیا وہاں سے اس نے دور دور کے اسرائیلیوں کو دیکھا۔