Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1جب بلعام نے دیکھا کہ خدا کو یہی منظو ر ہے کہ وہ اسرائیل کو برکت دے تو پہلے کی طرح شگون دیکھنے کو ادھر اُدھر نہ گیا بلکہ بیابان کی طرف اپنا منہ کر لیا
2اور بلعام نے نگاہ کی اور دیکھا کہ بنی اسرائیل اپنے اپنے قبیلے کی ترتیب سے مقیم ہیں اور خداوندکی روح اس پر نازل ہوئی
3اور اس نے اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگا بعور کا بیٹا بلعام کہتا ہےیعنی وہی شخص جس کی آنکھیں بند تھیں یہ کہتا ہے ۔
4بلکہ یہ اسی کا کہنا ہے جو خداوندکی باتیں سنتا ہے اور سجدہ میں پڑا ہوا کھلی آنکھوں سےقادر مطلق کی رویا دیکھتا ہے
5اے یعقوب تیرے ڈیرے اے اسرائیل تیرے خیمے کتنے خوشنما ہیں
6وہ ایسے پھیلے ہوئے ہیں جیسے وادیاں اور دریا کے کنارے باغ اور خداوندکے لگائے ہوئے عود کے درخت اور ندیوں کے کنارے دیودار کے درخت
7اسکے کے چرسوں سے پانی بہے گا اور سیراب کھیتوں سے اسکا بیج پڑیگااسکا بادشاہ اجاج سے بڑھ کر ہوگااور اسکی سلطنت کو عروج حاصل ہوگا
8خدا اسے مصر سے نکال کر لے آ رہا ہے اس میں جنگلی سانڈھ کی سی طاقت ہےو ہ ان قوموں کو جو اس کی دشمن ہیں چٹ کر جائیگا اور انکی ہڈیوں کو توڑ ڈالیگا اور ان کو تیروں سے چھید چھید کر مارے گا
9وہ دبک کر بیٹھا ہے وہ شیر کی طرحبلکہ شیرنی کی مانند لیٹ گیا ہے اب کو ن اسے چھیڑے؟جو تجھے برکت دے وہ مبارک اور جو تجھ پر لعنت کرے وہ ملعون ہو
10بت بلق کو بلعام پر طیش آیا اور وہ اپنے ہاتھ پیٹنے لگا پھر اس نے بلعام سے کہا کہ میں نے تجھے بلایا کہ تو میرے دشمنوں پر لعنت کرے لیکن تو نے تینوں بار ان کو برکت ہی برکت دی
11سو اب تو اپنے ملک کو بھا گ جا میں نے تو سوچا تھا کہ تجھے عالی منصب پر ممتا ز کروں گا لیکن خداوند نے تجھے ایسے اعزاز سے محروم رکھا
12بلعام نے بلق کو جواب دیا کیا میں نے تیرے ان ایلچیوں کو بھی جن کو تو نے میرے پاس بھیجا تھا یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ
13اگر بلق اپنا گھر سونے اور چاندی سے بھر کر دے تو بھی میں اپنی مرضی سے بھلا یا برا کرنے کی خاطر خداوند کے حکم سے تجا وز نہیں کر سکتا بلکہ جو خداوند کہےگا میں وہی کہوں گا؟
14اور اب اپنی قوم کے پاس لوٹ کر جاتا ہوں سو تو آ میں تجھے آگاہ کردوں کہ یہ لوگ آخری دنوں میں کیا کیا کریں گے
15چنانچہ اس نے اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگابعور کا بیٹا بلعام یہ کہتا ہےیعنی وہی شخص جسکی آنکھیں بند تھیں یہ کہتا ہے
16بلکہ یہ اسی کا کہنا ہے جو خداوند کی باتیں سنتا ہے اور حق تعالیٰ کا عرفان رکھتا ہے اور سجدہ میں پڑا ہوا کھلی آنکھوں سے قادر مطلق کی رویا دیکھتا ہے
17میں اسے دیکھوں گا تو سہی پر ابھی نہیں وہ مجھے نظر آئے گا پر نزدیک سے نہیں یعقوب میں سے ایک ستارہ نکلے گااور اسرائیل میں سے ایک عصا اٹھے گا اور موآب کی نواحی کو مار مار کر صاف کرے گا اور سب ہنگامہ کرنے والوں کو ہلاک کرے ڈالیگا
18اور اس کے دشمن ادوم کی اور شعیر اور اسرائیل دلاوری کرے گا
19اور یعقوب ہی کی نسل سے وہ فرمانروا اٹھے گا جو شہر کے باقی ماندہ لوگوں کو نابود کرڈالے گا
20پھ�� اس نے عمالیق پر نظر کرکے اپنی یہ مثل شروع کی اور کہنے لگا قوموں میں پہلی قوم عمالیق تھی پر اسکا انجام ہلاکت ہے
21اور قینیوں کی طرف نگاہ کر کے یہ مثل شروع کی اور کہنے لگا تیرا مسکن مضبوط ہے اورتیرا آشیانہ بھی چٹان پر بنا ہوا ہے
22تو بھی قین خانہ خراب ہو گا یہاں تک کہ امور تجھے اسیر کر کے لے جائے گا
23اور اس نے یہ مثل بھی شروع کی اور کہنے لگا ہائے افسوس ! جب خدا یہ کرے گا تو کون جیتا بچے گا
24پر کتیم کے ساحل سے جہاز آئیں گے اور وہ اسور اور عبر دونوں کو دکھ دیں گےپھر وہ بھی ہلا ک ہو جائیگا
25اسکے بعد بلعام اٹھ کر اپنے ملک کو روانہ ہوا اور اپنے ملک کو لوٹا اور بلق نےبھی اپنی راہ لی ۔