Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
54 verses
1پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا
2مدیانیوں سے بنی اسرائیل کا انتقام لے اسکے بعد تو اپنے لوگوں میں جا ملے گا
3تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ اپنے میں سے جنگ کے لیے آدمیوں کو مسلح کرو تاکہ وہ مدیانیوں پر حملہ کریں اور مدیانیوں سے خداوند کا انتقام لیں ۔
4اور اسرائیل کے سب قبیلوں میںسےفی قبیلہ ایک ہزار آدمی لے جنگ کے لیے بھیجنا
5سو ہزاروں ہزار بنی اسرائیل میں سے فی قبیلہ ایک ہزار کے حساب سے بارہ ہزار آدمی جنگ کے لیے چنے گئے
6یوں موسیٰ نے ہر قبیلہ ایک ہزار آدمیوں کو جنگ کے لیے بھیجا اورا لیعزر کاہن کے بیٹے فنیحاس کو بھی جنگ پر روانہ کیا اور مقدس کے ظروف بلند آواز کے نرسنگے اسکے ساتھ کردئیے
7اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی انہوں نے مدیانیوں کے ساتھ جنگ کی اور سب مردوں کو قتل کیا
8اور انہوں نے ان کے مقتولوں کے سوا عوی اور رقم اور صور اور حور اور ربع کو بھی جو مدیان کے پانچ بادشاہ تھے جان سے مارا اور بعور کے بیٹے بلعام کو بھی تلوار سے قتل کیا
9اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا اور ان کے چوپائے اور بھیڑ بکریاں اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا
10اور ان کی سکونت گاہ کے سب شہروں کو جن میں وہ رہتے تھے اور ان کی سب چھاؤنیوں کو آگ سے پھونک دیا
11اور انہوں نے سار امال غنیمت اور سب اسیر کیا ہو انسان اور کیا حیوان ساتھ لے گئے
12اور ان اسیروں کو موسی ٰ اور الیعزر کاہن اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس اس لشکر گاہ میں لے آئے جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے کنارے موآب کے میدانوں میں تھی ۔
13تب موسیٰ ااور الیعزر کاہن اور جماعت کے سب سردار انکے استقبال کے لیے لشکر گاہ کے باہر گئے
14اور موسیٰ ان فوجی سرداروں جو ہزاروں اور سینکڑوں کے سردار تھےاور جنگ سے لوٹے تھے جھلایا
15اور ان سے کہنے لگا کیا تم نے سب عورتیں جیتی بچا رکھی ہیں؟
16دیکھو ان ہی نے بلعام کی صلاح سے فغور کے معاملہ میں بنی اسرائیل سے خداوند کی حکم عدولی کرائی اوریوں خداوند کی جماعت میں وبا پھیلی
17اس لیے ان بچوں میں سے جنتے لڑکے ہیں ان کو مار ڈالو اور جتنی عورتیں مرد کا منہ دیکھ چکی ہیں ان کو قتل کر ڈالو
18لیکن ان لڑکیوں کو جو مرد سے واقف نہیں اور اچھوتی ہیں اپنے لیے زندہ رکھو
19اور تم سات دن لشکر گاہ کے باہر ہی ڈیرے ڈالے پڑے رہو اور تم میں سے جتنوں نے بھی کسی آدمی کو جان سے مارا ہو اور جتنوں نے کسی مقتول کا چھوا ہو وہ سب اپنے آپ کو اور اپنے قیدیوں کو تیسرے دن اور ساتویں دن پاک کریں
20اور تم اپنے کپڑے اور چمڑے اور بکری کے بالوں کی بنی ہوئی سب چیزوں کو اور لکڑی کے سب برتنوں کو پاک کرنا
21اور الیعزر کاہن نے ان سپاہیوں سے جو جنگ پر گئے تھے کہ شریعت کا وہ آئیں جسکا حکم خداوند نے موسیٰ کو دیا وہ یہی ہے کہ
22سونا چاندی اور پیتل اور لوہا اور رانگا اور سیسا
23غرض جو کچھ آگ میں ٹھہر سکے وہ سب کچھ تم آگ میں ڈالنا تب وہ صا ف ہوگا اور تو بھی ناپاکی دور کرنے کےلیے اسکے پانی سے پاک کرنا پڑے گا اور جو کچھ آگ میں نہ ٹھہر سکے اسے تم پانی میں ڈالنا
24اور تم ساتویں دن اپنے کپڑے دھونا تب تم پاک ٹھہرو گے اس کے بعد لشکر گاہ میں داخل ہونا ۔
25اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
26الیعزر کاہن اور جماعت کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو ساتھ لے کر تو ان آدمیوں اور جانوروں کو شمارکر جو لوٹ میں آئے ہیں
27اور لوٹ کے اس مال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ ان مردوں کو دے جو لڑائی میں گئے تھےاور دوسرا حصہ جماعت کو دے ۔
28اور ان جنگی مردوں کے لیے خواہ آدمی ہو یا گائے بیل یا گدھے یا بھیڑ بکریاں ہر پانچسو پیچھے ایک کو حصہ کے طور پر لے
29ان ہی کےنصف میں سے اس حصہ کو لے کر الیعزر کاہن کو دینا تاکہ یہ خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی ٹھہرے
30اور بنی اسرائیل کے نصف میں سے خواہ آدمی ہو یا گائے بیل یا گدھے یا بھیڑ بکریاں یعنی سب قسم کے چوپایوں میں سے پچاس پچاس پیچھے ایک ایک لے کر لاویوں کو دینا جو خداوند کے مسکن کی محافظت کرتے ہیں
31چنانچہ موسیٰ اور الیعزر کاہن نے جیسا خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا ویسا ہی کیا
32اور جو کچھ مال غنیمت جنگی مردوں کے ہاتھ آیا تھا اسے چھو ڑ کر لوٹ کے مال میں سے چھ لاکھ پچھتر ہزار بکریاں تھیں
33اور بہتر ہزار گائے بیل
34اور اکسٹھ ہزار گدھے
35اور نفوس انسانی میں سے بتیس ہزار ایسی عورتیں جو مرد سے ناواقف اور اچھوتی تھیں
36اور لوٹ کے مال کے اس نصف میں سے جو جنگی مردوں کا حصہ تھا تین لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو بھیڑ بکریاں تھیں
37جن میں سے چھ سے پچھتر بھیڑ بکریا ں خداوند کے حصہ کے لیے تھیں
38اور چھتیس گائے بیل تھے جن میں سے بہتر خداوند کے حصہ کے تھے
39اور تین ہزار پانچ سو گدھے تھے جن میں سے اکسٹھ گدھے خداوند کے تھے
40اور نفوس انسانی کا شمار سولہ ہزار تھا جن میں سے بتیس جانیں خداوند کے حصہ کی تھیں
41سو موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطابق اس حصہ کو جو خداوند کے اٹھانے کی قربانی تھی الیعزر کاہن کو دیا
42اب رہا بنی اسرائیل کا نصف حصہ جسے موسیٰ نے جنگی مردوں کے حصہ سے الگ رکھا تھا
43سو اس نصف میں سے جو جماعت کو دیا گیا تین لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو بھیڑ بکریاں تھیں
44اور چھتیس ہزار گائے بیل
45اور تیس ہزار پانچ سو گدھے
46اور سولہ ہزار نفوس انسانی
47اور بنی اسرائیل کے اس نصف میٰں سے خداوند کے حکم کے موافق کیا انسا ن کیا حیوان ہر پچاس پیچھے ایک کو لے کر لاویوں کو دیا جو خداوند کے مسکن کی محافظت کرتے تھے
48تب وہ فوجی سردار جو ہزاروں اور سینکڑوں سپاہیوں کے سردار تھے موسیٰ کے پاس آ کر
49کہ تیرے خادم نے ان سب جگنی مردوں کو ہمار ے ماتحت ہیں گنا اور ان میں سے ایک جوان بی کم نہ ہوا
50سو ہم میں سے جو کچھ جس کے ہاتھ لگا یعنی سونے کے زیور اور پازیب اور کنگن اور انگوٹھیا ں اور مندرے اور بازو بند اور یہ سب ہم خداوند کے ہدیہ کے طور پر لے آئے ہیں تاکہ ہماری جانوں کے لیے خداوند کے حضور کفارہ دیا جائے
51چنانچہ موسیٰ اور الیعزر کاہن نے ان یہ سب سونے کے گھڑے ہوئے زیور لیے
52اور اس ہدیہ کا سارا سونا جو ہزاروں اور سینکڑوں کے سرداروں نے خداوند کے حضور گذرانا وہ سولہ ہزار سات سو پچاس مثقال تھا۔
53کیونکہ جنگی مردوں میں سے ہر ایک کچھ نہ کچھ لوٹ کر لے آیا تھا
54سو موسیٰ اور الیعزر کاہن نے اس سونے کو جو انہوں نے ہزاروں سینکڑوں کے سرداروں سے لیا تھا خیمہ اجتماع میں لائے تاکہ وہ خداوند کے حضور بنی اسرائیل کی یاد گا ر ٹھہرے ۔