Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1اے میرے بیٹے!میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے ۔
2کیونکہ تو اِن سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کریگا۔
3شفقت اور سچائی تجھ سے جدانہ ہوں۔تو اُنکو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دِل کی تختی پر لکھ لینا۔
4یوں تو خدا اور اِنسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کریگا ۔
5سارے دِل سے خداوند پر توکل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر ۔
6اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا ۔
7تو اپنی ہی نگاہ میں دانشمندنہ بن۔خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔
8یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہو گی۔
9اپنے مال سے اور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھلوں سے خداوند کی تعظیم کر۔
10یُوں تیرے کھتے خوب بھرے رہینگے اور تیرے حوض نئی مے سے لبریز ہونگے ۔
11اے میرےبیٹے!خداوند کی تنبیہ کو حقیر نہ جٓاناور اُسکی ملامت سے بی نہ ہو ۔
12کیونکہ خداوند اُسی کو ملامت کرتا ہے ج سے اُسے محبت ہے ۔ جیسے باپ اُس بیٹے کو جِس سے وہ خوش ہے۔
13مُبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہےاور وہ جو فہم حاصل کرتا ہے
14کیونکہ اِسکا حصول چاندی کے حصول سے اور اُسکا نفع کندن سے بہتر ہے۔
15وہ مرجٓان سے زیادہ بی بہا ہے اور تیری مرغوب چیزوں میں بے نظیر۔
16اُسکے دہنے ہاتھ میں عمر کی درازی ہے اور اُسکے با ہاتھ میں دولت وعزت۔
17اُسکی راہیں خوشگوار راہیں ہیں اور اُسکے سب راستے سلامتی کے ہیں۔
18جو اُسے پکڑے رہتے ہیں وہ اُنکے لئے حیات کا درخت ہےاور ہر ایک جو اُسے لئے رہتا ہے مبارک ہے۔
19خداوند نے حکمت سے زمین کی بُنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔
20اُسی کے علم سے گہراؤ کے سوتے پھوٹ نکلے اور افلاک شبنم ٹپکاتے ہیں۔
21اَے میرے بیٹے !دانائی اور تمیز کی حفاظت کر۔اُنکو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے ۔
22یوں وہ تیری جٓان کی حیات اور تیرے گلے کی زینت ہو نگی ۔
23تب تو بے کھٹکے اپنے راستہ پر چلیگا اور تیرےپاؤں کو ٹھیس نہ لگیگی۔
24جب تو لیٹیگا تو خوف نہ کھا یئگا ۔ بلکہ تو لیٹ جٓایئگا اور تیری نیند میٹھی ہو گی۔
25نا گہانی دہشت سے خوف نہ کھانااور نہ شریروں کی ہلاکت سے جب وہ آئے۔
26کیونکہ خداوند تیرا سہارا ہوگا اور تیرے پاؤں کو پھنس جٓانے سے محفوظ رکھیگا۔
27بھلائی کے حقدار سے اُسے دریغ نہ کر نا
28جب تیرے پاس دینے کو کُچھ ہو تواپنے ہمسایہ سے یہ نہ کہنا اب جٓا ۔پھر آنا۔میں تجھے کل دُونگا ۔
29اپنے ہمسا یہ کے خلاف بُرائی کا منصوبہ نہ باندھنا ۔جِس حال کہ وہ تیرے پڑوس میں بے کھٹکے رہتا ہے۔
30اگر کسی تجھے نقصان نہ پہنچایا ہو تو اُس سے بے سبب جھگڑا نہ کرنا۔
31تندخو آدمی پر حسد نہ کرنا اور اُسکی کسی روش کو اختیار نہ کرنا ۔
32کیونکہ کجروسے خداوند کو نفرت ہےلیکن راستباز اُسکے محرم راز ہیں۔
33شریروں کے گھرپر خداوند کی لعنت ہے لیکن صادقوں کے مسکن پر اُسکی برکت ہے ۔
34یقیناًوہ ٹھٹھابازوں پر ٹھٹھے مارتاہے لیکن فروتنوں پر فضل کرتا ہے۔دانا جلال کے وارِث ہونگےلیکن احمقوں کی ترقی شرمندگی ہو گی ۔