Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1اور ان ہی ایّام میں جب قاضی انصاف کیا کرتےتھے ایسا ہوا کہ اس سر زمین میں کال پڑا اور یہوادہ کے بیت لحم کا ایک مرد اپنی بیوی اور دو بیٹوںکو لیکر چلا کہ موآب کے ملک میں جا کر بسے۔
2اس مرد کا نام الیملک اور اسکی بیوی کا نام نعومی تھا اور اسکے دونوں بیٹوں کےنام محلون اور کلیون تھے ۔ یہ یہوداہ کے بیت لحم کے افراتی تھے ۔ سو وہ موآب کے ملک میں آ کر رہنے لگے ۔
3اورنعومی کا شوہر الیملک مر گیا ۔ پس وہ اور اسکے دونوں بیٹے باقی رہ گئے۔
4ان دونوں نے ایک ایک موآبی عورت بیاہ لی ۔ ان میں سے ایک کا نام عرفہ اوردوسری کا نام روت تھا۔ اور وہ دس برس کے قریب وہاں رہے۔
5اورمحلون اور کلیون دونوں مر گئے۔ سو وہ عورت اپنے دونوں بیٹوں اور خاوند سے چھوٹ گئی۔
6تب وہ اپنی دونوں بہووں کو لیکر اٹھی کہ موآب کے ملک سے لوٹ جائے اس لیے کہ اس نے موآب کے ملک میں یہ حال سنا کہ خداوند نے اپنے لوگوں کو روٹی دی اور یوں انکی خبر لی۔
7سو وہ اس جگہ سے جہاں وہ تھی دونوں بہووں کو ساتھ لیکر چل نکلی اور وہ سب یہوداہ کی سر زمین کو لوٹنے کے لئے راستہ پر ہو لیں۔
8اور نعومی نے اپنی دونوں بہووں سے کہا کہ تم دونوں اپنے اپنے اپنے میکے کو جاؤ جیسا تم نے مرحوموں کے ساتھ اور جیسا میرے ساتھ کیا ویسا ہی خداوند تمہارے ساتھ مہر سے پیش آئے۔
9خداوند یہ کرے کہ تم کو اپنے اپنے شوہر کے گھر میں آرام ملے ۔ تب اس نے انکو چوما اور وہ چلا چلا کر رونے لگیں۔
10پھر ان دونوں نے اس سے کہا کہ نہیں بلکہ ہم تیرے ساتھ لوٹ کر تیرے لوگوں میں جائینگی۔
11نعومی نے کہا اے میری بیٹیو لوٹ جاؤ تم میرے ساتھ کیوں چلو؟ کیا میرے رَحِم میں اور بیٹے ہیں جو تمہارے شوہر ہوں ؟۔
12اے میری بیٹیو لوٹ جاؤ اور اپنا راستہ لو کیونکہ میں زیادہ بڑھیا ہوں اور شوہر کرنے کے لائق نہیں ۔ اگر میں کہتی کہ مجھے اُمید ہے بلکہ اگر آج کی رات میرے پاس شوہر بھی ہوتا اور میرے لڑکے پیدا ہوتے۔
13تو بھی کیا تم انکے بڑے ہونے تک انتظار کر تیں اورشوہر کر لینے سے باز رہیتیں ؟ نہیں میری بیٹیو میں تمہارے سبب سے زیادہ دلگیر ہوں اس لیے کہ خداوند کا ہاتھ میرے خلاف بڑھا ہوا ہے۔
14تب وہ پھر چلا چلا کر روئیں اورعرفہ نے اپنی ساس ہو چوما پر روت اس سے لپٹی رہی۔
15تب اس نے کہا کہ دیکھ تیری جٹھانی اپنے کنبے اور اپنے دیوتا کے پاس لوٹ گئی ۔ تو بھی اپنی جٹھانی کے پیچھے چلی جا۔
16روت نے کہا تو منت نہ کر کہ میں تجھے چھوڑوں اورتیرے پیچھے سے لوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تو جائیگی میں جاؤنگی اور جہاں تو رہیگی میں رہونگی تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا۔
17جہاں تو مریگی میں مرونگی اور وہیں دفن بھی ہونگی خداوند مجھ سے ایسا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ کرے اگر موت کے سوا کوئی چیز مجھ کو تجھ سے جدا کر دے ۔
18جب اس نے دیکھا کہ اس نے اسکے ساتھ چلنے کی ٹھان لی ہے تو اس سے اور کچھ نہ کہا ۔
19سو وہ دونوں چلتے چلتےبیت لحم میں آئیں۔ جب وہ بیت لحم میں آئیں تو سارے شہر میں دھوم مچی اور عورتیں کہنے لگی کی کیا یہ نعومی ہے؟ ۔
20اس نے ان سے کہا کہ مجھ کو نعومی نہیں بلکہ ماراہ کہا اس لیے کہ قادر مطلق میرے ساتھ نہایت تلخی سے پیش آیا ہے۔
21میں بھری پوری گئی تھی اور خداوند مجھ کو خالی پھیر لایا ہے۔ پس تم کیوں مجھے نعومی کہتی ہو حالانکہ خداوند میرے خلاف مدعی ہوا اورقادر مطلق نے مجھے دکھ دیا ؟ ۔
22غرض نعومی لوٹی اور اس کے ساتھ اس کی بہو موآبی روت تھی جو موآب کے ملک سے یہاں آئی اور وہ دونوں جَو کاٹنے کے موسم میں بیت لحم میں داخل ہوئیں۔