Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1اور اسرائیل کے لوگوں نے مصفاہ میں قسم کھاکر کہا تھا کہ ہم میں سے کوئی اپنی بیٹی کسی بینمین کو نہ دیگا ۔
2اور لوگ بیت ایل میں آئے اور شام تک وہاں خدا کے آگے بلند آواز سے زار زار روتے رہے ۔
3اور انہوں نے کہا اے خداوند اسرائیل کے خدا !اسرائیل میں ایسا کیوں ہوا کہ اسرائیل میں سے آج کے دن ایک قبیلہ کم ہو گیا ؟
4اور دوسرے دن وہ لوگ صبح سویرے اٹھے اور اس جگہ ایک مذبح بنا کر سوختنی قربانیاں گذرانیں ۔
5اور بنی اسرائیل کہنے لگے کہ اسرائیل کے سب قبیلوں میں ایسا کون ہے جو خدا وند کے حضور جماعت کے ساتھ نہیں آیا ؟کیونکہ انہوں نے سخت قسم کھائی تھی کہ جو خداوند کے حضور مصفاہ میں حاضر نہ ہوگا وہ ضرور قتل کیا جائیگا ۔
6سو بنی اسرائیل اپنے بھائی بنیمن کی وجہ سے پچھتائے اور کہنے لگے کہ آج کے دن بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ کٹ گیا ۔
7اور وہ جو باقی رہے ہیں ہم ان کے لئے بیویوں کی نسبت کیا کریں ؟کیونکہ ہم نے تو خداوند کی قسم کھائی ہے کہ ہم اپنی بیٹیاں ان کو نہیں بیاہیں گے ۔
8سو وہ کہنے لگے کہ بنی اسرائیل میں وہ کون سا قبیلہ جو مصفاہ میں خداوند کے حضور نہیں آیا ؟اور دیکھو لشکر گاہ میں جماعت میں شامل ہو نے کے لئے یبیس جلعاد سے کوئی نہیں آیا تھا ۔
9کیونکہ جب لوگوں کا شمار کیا گےا تو یبیس جلعاد کے باشندوں میں سے وہاں کوئی نہ ملا۔
10تب جماعت نے بارہ ہزار سورما روانہ کئے اور ان کو حکم دیا کہ جا کر یبیس جلعاد کے باشندوں کو عورتوں اور بچوں سمیت قتل کرو ۔
11اور جو تم کو کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ سب مردوں اور ایسی عورتوں کو جو مرد سے واقف ہو چکی ہوں ہلاک کر دینا ۔
12اور ان کو یبیس جلعاد کے باشندوں میں چار سو کنواری عورتیں ملیں جو مر سے ناواقف اور اچھوتی تھیں اور وہ ان کو ملک کنعان میں سیلا کی لشکر گاہ میں لے آئے ۔
13تب ساری جماعت نے بنی بینمین کو جو رمون کی چٹان میں تھے کہلا بھیجا کہ اور سلامتی کا پیغام انکو دیا ۔
14تب بینمینی لوٹے اور انہوں نے وہ عورتیں انکو دیدیں جنکو انہوں نے یبیس جلعاد کی عورتوں میں سے زندہ بچایا تھا پر وہ انکے لئے بس نہ ہو ئیں ۔
15اور لوگ بینمین کی وجہ سے پچھتائے اسلئے کہ خداوند نے اسرائیل کے قبیلوں میں رخنہ ڈال دیا تھا ۔
16تب جماعت کے بزرگ کہنے لگے کہ ان کے لئے جو بچ رہے ہیں بیویوں کی نسبت ہم کیا کریں کیو نکہ بنی بینمین کی سب عورتیں نابود ہو گئیں ؟
17سو انہوں نے کہا کہ بنی بینمین کے باقی ماندہ لوگوں کے لئے میراث ضروری ہے تا کہ اسرائیل میں سے ایک قبیلہ ہٹ نہ جائے ۔
18تو بھی ہم تو اپنی بیٹیاں ان کو بیاہ نہیں سکتے کیونکہ بنی اسرائیل نے یہ کہہ کر قسم کھائی تھی کہ جو کسی بینمین کو بیٹی دی وہ ملعون ہو ۔
19پھروہ کہنے لگے دیکھو سیلا میں جو بیت ایل کے شمال میں اور اس شاہراہ کی مشرقی سمت میں جو بیت ایل سے سکم کو جاتی ہے اور لبونہ کے جنوب میں ہے سال بسال خداوند کی ایک عید ہوتی ہے ۔
20تب انہوں نے بنی بینمین کو حکم دیا کہ جاﺅ اور تاکستانوں میں گھات لگائے بیٹھے رہو ۔
21اور دیکھتے رہنا کہ اگر سیلا کی لڑکیاں ناچ ناچنے کو نکلیں تو تم تاکستانوں میں سے نکل کر سیلا کی لڑکیوںمیں سے ایک ایک بیوی اپنے اپنے پکڑ لینا اور بینمین کے ملک کو چل دینا ۔
22اور جب ان کے باپ یا بھائی ہم سے شکایت کرنے کو آئیں گے تو ہم ان سے کہہ دینگے کہ انکو مہربانی سے ہمیں عنایت کرو کیونکہ اس لرائی میں ہم ان میں سے ہر ایک کے لئے بیوی نہیں لائے اور تم نے ان کو اپنے آپ نہیں دیا ورنہ تم گناہ گار ہوتے ۔
23غرض بنی بنیمن نے ایسا ہی کیا اور اپنے شمار کے موافق ان میں سے جو ناچ رہی تھیں جن کو پکڑ کر لے بھاگے انکو بیاہ لیا اور اپنی میراث کو لوٹ گئے اور ان شہروں کو بنا کر ان میں رہنے لگے ۔
24تب بنی اسرائیل وہاں سے اپنے اپنے قبیلہ اور گھرانے کو چلے گئے اور اپنی میراث کو لوٹے ۔
25اور ان دنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا ۔ہر ایک شخص جو کچھ اسکی نظر میں اچھا معلوم ہوتا تھا وہی کرتا تھا ۔