Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
48 verses
1تب سب بنی اسرائیل نکلے اور ساری جماعت جلعاد کے ملک سمیت دان ست بیر سبع تک ایک تن ہو کر خداوند کے حضور مصفاہ میں اکٹھی ہو ئی ۔
2اور تمام قوم کے سردار بلکہ بنی اسرائیل کے سب قبیلوں کے لوگ جو چار لاکھ شمشیر زب پیادے تھے خدا کے لوگوں کے مجمع میں حاضر ہو ئے ۔
3(اور بنی بنیمین نے سنا کہ بنی اسرائیل مصفاہ میں آئے ہیں )اور بنی اسرائیل پوچھنے لگے کہ بتاﺅ تو سہی یہ شرارت کیونکر ہوئی ؟
4تب اس لاوی نے جو اس مقتول کا شوہر تھا جواب دیا کہ میں اپنی حرم کو ساتھ لیکر بینیمن کے جبعہ میں ٹکنے کو گیا تھا ۔
5اور جبعہ کے لوگ مجھ پر چڑھ آئے اور رات وقت اس گھر کو جسکے اندر میں تھا چاروں طرف سے گھیر لیا اور مجھے تو وہ مار ڈالنا چاہتے تھے اور میری حرم کو جبراََایسا بے حرمت کیا کہ وہ مر گئی ۔
6سو میں نے اپنی حرم کو لیکر اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا او ر ان کو اسرائیل کی میراث کے سارے ملک میں بھیجا کیونکہ اسرائیل کے درمیان انہوں نے شہدا پن اورمکرو کام کیاہے ۔
7اے بنی اسرائیل تم سب کے سب دیکھو اور یہیں اپنی صلاح اور مشورت دو ۔
8اور سب لوگ یک تن ہو کر اکٹھے اور کہنے لگے ہم میں سے کوئی پانے ڈیرے کو نہیں جائیگا اور نہ ہم سے کوئی اپنے گھر کی طرف رخ کر یگا ۔
9بلکہ ہم جبعہ سے یہ کریں گے کہ قرعہ ڈال کر اس پر چڑھائی کریں گے ۔
10اور ہم اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے سو پیچھے دس اور ہزار پیچھے سو اور دس ہزار پیچھے ایک ہزار مرد لوگوں کے لئے رسد لانے کو جدا کریں تاکہ وہ لوگ جب بینیمین کے جبعہ میں پہنچیں تو جیسا مکرو کام انہوں نے اسرائیل میں کیا اس کے مطابق اس سے کاروائی کر سکیں ۔
11سو سب بنی اسرائیل اس شہر کے مقابل گٹھے ہو ئے یک تن ہو کو جمع ہوئے ۔
12اور بنی اسرائیل کے قبیلوں نے بینیمین کے سارے قبیلہ میں لوگ روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ یہ کیا شرارت ہے جو تمہارے درمیان ہوئی ؟
13اس لئے اب ان مردوں یعنی ان خبیثوں کو جو جبعہ میں ہیں ہمارے حوالہ کرو کہ ہم ان کو قتل کریں اور اسرائیل میں ست بدی کو دور کر ڈالیں لیکن بنی بینمین نے اپنے بھائیوں بنی اسرائیل کا کہا نہ مانا۔
14بلکہ بنیمین شہروں میں سے جبعہ میں جمع تاکہ بنی اسرائیل کو لڑنے کو جائیں ۔
15اور بنی بینمین جو شہروں میںسے اس وقت جمع ہوئے وہ شمار میں چھبیس ہزار شمشیر زن مرد تھے ۔سوا جبعہ کے باشندوں کے جو شمار میں سات سو چنے ہوئے جوان تھے ۔
16ان سب لوگوں میں سے سات سو چنے ہوئے ہیں ہتھے جوان تھے جن میں سے ہر ایک فلاخن سے بال کے نشانہ پر بغیر خطا کئے پتھر مار سکتا تھا۔
17اور اسرائیل کے لوگ بینمین کے علاوہ چار لاکھ شمشیر زن مرد تھے ۔یہ سب صاحب جنگ تھے ۔
18اور بنی اسرائیل اٹھ کر بیت ایل کو گئے اور خدا سے مشورت چاہی اور کہنے لگے کہ ہم سے کون بنی بینمین سے لڑنے کو پہلے جائے ؟خدا وند نے فرمایا پہلے یہوداہ جائے۔
19سو بنی اسرائیل صبح سویرے اٹھے اور جبعہ کے سامنے ڈیرے کھڑے کئے ۔
20اور اسرائیل کے لوگ بینمین سے لڑنے کو نکلے اور اسرائیل کے لوگوں نے جبعہ میں ان کے مقابل صف آرائی کی ۔
21تب بنی بینمین نے جبعہ سے نکل کر اس دن بائیس ہزاراسرائیلیوں کو قتل کر کے خا ک میں ملادیا ۔
22پر بنی اسرائیل کے لوگ حوصلہ کرکے دوسرے دن اسی مقام پر جہاں پہلے دن صف باندھی تھی پھر صف آراہو ئے ۔
23(اور بنی اسرائیل جا کر شام تک خداوند کے آگے روتے رہے اور انہوں نے خداون سے پوچھا کہ ہم اپنے بھائی بینمین کی اولاد سے لڑنے کے لئے پھر بڑھیں یا نہیں ؟خداوند نے فرمایا اس پر چڑھائی کرو )۔
24سو بنی اسرائیل دوسرے دن بنی بینمین کے مقابلہ کےلئے نزدیک آئے ۔
25اور اس دوسرے دن بنی بنیمین ان کے مقابل جبعہ سے نکلے اور اٹھارا ہزار اسرائیلیوں کو قتل کر کے خاک میں ملا دیا۔ یہ سب شمشیر زن تھے ۔
26تب سب بنی اسرائیل اور سب لوگ اٹھے اور بیت ایل میں آئے اور وہاں خداوند کے حضور بیٹھے رو تے رہے اور اس دن شام تک روزہ رکھا اور سوختنی قربانیا ں اور سلامتی کی قربانیاں خداوند کے آگے گذرانیں ۔
27اور بنی اسرائیل نے اس سبب سے کہ خدا کے عہد کا صندوق ان دنوں وہیں تھا ۔
28اور ہارون کے بیٹے الیعزر کا بیٹا فینحاس ان دنوں اس کے آگے کھڑا رہتا تھا خداوند سے پوچھا کہ میں اپنے بھائی بینمین کی اولاد سے ایک دفعہ اور لڑنے کو جاﺅں یا رہنے دوں ؟خداوند نے فرمایا کہ جائیں کل اس کوتیرے ہاتھ میں کر دونگا ۔
29سو بنی اسرائیل نے جبعہ کے گردا گرد لوگوں کو گھات میں بٹھا دیا ۔
30ور بنی اسرائیل تیسرے دن بنی بینمین کے مقابلہ کو چڑ ھ گئے اور پہلے کی طرح جبعہ کے مقابل پھر صف آرا ہوئے ۔
31اور بنی بینمین اس لوگوں کا سامنا کرنے کو نکلے اور شہر سے دور کھینچے چلے گئے اور ان شاہ راہوں پر جن میں سے ایک بیت ایل کو اور دوسری میدان میں سے جبعہ کو جاتی تھی پہلے کی طرح لوگوں کو مارنا اور قتل کرنا شروع کیا اور اسرائیل کے تیس آدمی کے قریب مار ڈالے ۔
32اور بنی بینمین کہنے لگے کہ وہ پہلے کی طرح ہم سے مغلوب ہوئے لین بنی اسرائیل نے کہا اور آﺅ بھاگیں اور انکو شہر سے دور شاہ راہوں پر کھینچ لائیں ۔
33µ تب سب اسرائیلی مرد اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بعل تمر میں صف آرا ہوئے ۔اس وقت وہ اسرائیلی جو کمین میں بیٹھے تھے معرے جبعہ سے جو ان کی جگہ تھی نکلے ۔
34اور سارے اسرائیل میں سے دس ہزار چیدہ مرد جبعہ کے سامنے آئے اور لڑائی سخت ہونے لگی پر انہوں نے نہ جانا کہ کہ ن پر آفت آنے والی ہے ۔
35اور خداوند نے بینمین کو اسرائیل کے آگے مارا اور بنی اسرائیل نے اس دن پچیس ہزار ایک سو بینمینوں کو قتل کیا ۔یہ سب شمشیر زن تھے ۔
36پس بنی بنیمین نے دیھا کہ وہ مغلوب ہوئے کیونکہ اسرائیلی مرد ان لوگوں کا بھروسا کر کے جن کو انہوں نے جبعہ کے خلاف گھات میں بٹھا یا تھا بینمین کے سامنے سے ہٹ گئے۔
37تب کمین والوں نے جلدی کی اور جبعہ پر جھپٹے اور ان کمین والوں نے آگے بڑھ کر سارے شہر کو تہ تیغ کیا ۔
38اور اسرائیلی مردوں اور ان کمین والوں میں یہ نشان مقرر ہوا تھا کہ وہ ایسا کریں کہ دھوئیں کا بہت بڑا بادل شہر سے اٹھائیں۔
39سو اسرائیلی مردلڑائی میں ہٹنے لگے اور بینمین نے ان میں سے قریب تیس کے آدمی قتل کر دئے کیونکہ انہوں نے کہا کہ وہ یقینا ہمارے سامنے مغلوب ہوئے جیسے پہلی لڑائی میں ۔
40پر جب دھوئیں کے ستون میں بادل سا اس شہر سے اٹھا توبنی بینمین نے اپنے پیچھے نگاہ کی اور کیا دیکھا کہ شہر کا شہر دھوئیں میں آسمان کو اڑا جاتاہے ۔
41پھر تو اسرئیلی مرد پلٹے اور بینمین کے لوگ ہکا بکا ہو گئے کیو نکہ ں نے دیکھا کہ ن پر آفت آپڑی ۔
42سو انہوں نے اسرائیلی مردوں کے آگے پیٹھ پھیر کر بیابان کی راہ لی پر لڑائی نے انکا پیچھا نہ چھوڑا اور ان لوگوں نے جو اور شہروں سے آئے تھے ان کو ان کے بیچ میں فنا کردیا ۔
43یوں انہوں نے بینمینوں کو گھیر لیا اور ان کو رگید ا اور مشرق میں جبعہ کے مقابل انکی آرمگاہوں میں انکو لتاڑا۔
44سو اٹھارہ ہزاربینمینی کھیت آئے ۔یہ سب سورما تھے ۔
45اور وہ پھر کر زیتون کی چٹان کی طرف بیابان میں بھاگ گئے پر انہوں نے شاہ راہوں میںچن چن کر ان کے پانچ ہزار اور مارے اور جدوم تک ان کو خوب رگید کر ان میں سے دو ہزار مرد اور مار ڈالے ۔
46سو سب بنی بینمین جو اس دن کھیت آئے پچیس ہزار شمشیر زن مرد تھے اور یہ سب کے سب سورما تھے ۔
47پر چھ سو آدمی پھر کر اوربیابان کی طرف بھاگ کر زیتون کی چٹان کو چل دئے اور زیتون کی چٹان میں چار مہینے رہے ۔
48اور اسرائیلی مرد لوٹ کر پھر بنی بینمین پر ٹوٹ پڑے اور ان کوتہ تیغ کیا یعنی سارے شہر اور چوپایوں اور ان سب کو جو ان کے ہاتھ آئے اور جوجو شہر ان کو ملے انہوں نے ان سب کو پھونک دیا ۔