Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1اور ان دنوں میں جب اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا ایسا ہوا کہ ایک شخص نے جو لاوی تھا اور افرائیم کے کوہستانی ملک کے پر لے سرے پر رہتا تھا بیت لحم یہوداہ سے ایک حرم اپنے لئے کر لی ۔
2اسکی حرم نے اس سے بیوفائی کی اوراس کے پاس سے بیت لحم یہوداہ میں اپنے باپ کے گھر چلی گئی اور چار مہینے وہیں رہی ۔
3اور اس کا شوہر اٹھ کر اور ایک نوکر اور دو گدھے اتھ لیکر اس کے پیچھے روانہ ہوا کہ اسے منا پھسلا کر واپس لے آئے ۔سو وہ اسے اپنے باپ کے گھر میں لے گئی اور اس جوان عورت کا باپ اسے دیکھ کر اس کی ملاقات سے خوش ہوا۔ اور اس کے خسر یعنی اس جوان عورت کے باپ نے اسے روک لیا اور وہ اس کے ساتھ تین دن تک رہا اور انہوں نے کھانا کھایا پیا اور وہاں ٹکے رہے ۔
4چوتھے روز جب وہ صبح سویرے اٹھے اور وہ چلنے کو کھڑا ہوا تو ا س جوان عورت کے باپ نے اپنے داماد سے کہا ایک ٹکڑا روٹی کھا کر تازہ دم ہو جا ۔اس کے بعد تم اپنی راہ لینا ۔
6سو وہ دونوں بیٹھ گئے اور مل کر کھایا پیا ۔پھر اس جوان عورت کے باپ نے اس شخص سے کہا کہ رات پھر اور ٹکنے کو راضی ہو جا اور اپنے دل کو خوش کر ۔
7پر وہ مرد چلنے کو کھڑا ہو گیا لیکن اس کا خسر اس سے بجد ہوا سو پھر ا س نے وہیں رات کاٹی ۔
8اور پانچویں روز وہ صبح سویرے اٹھا تا کہ روانہ وہ اوراس جوان عورت کے باپ نے ا س سے کہا ذرا خاطر جمع رکھ اور دن ڈھلنے تک یہاں ٹھہرے رہو ۔سو دونوں نے روٹی کھائی ۔
9اور جب وہ شخص اور اس کی حرم اور اسکا نوکر چلنے کو کھڑے ہوئے تو اس کے خسر یعنی اس جوان عورت کے باپ نے کہا دیکھ اب تو دن ڈھلا اوت شام ہو چلی سو میں تم سے منت کرتا ہوں کہ تم رات بھر ٹھہر جاﺅ ۔ دیکھ دن تو خاتمہ پر ہے سو یہیں ٹک جا ۔تیرا دل خوش ہو اور کل صبح ہی صبح تم اپنی راہ لگنا کہ تو اپنے گھر کو جائے ۔
10پر وہ شخص اس رات رہنے پر راضی نہ ہوا بلکہ اٹھ کر روانہ ہوا اور یبوس کے سامنے پہنچا ۔(یروشلیم یہی ہے)اور دو گدھے زین کسے اس کے ساتھ تھے اور اس کی حرم بھی ساتھ تھی ۔
11جب وہ یبوس کے برابر پہنچے تو دن بہت ڈھل گیا تھا اور نوکر نے اپنے آقا سے کہا آہم یبوسیوں کے اس شہر میں مڑ جائیں اور یہیں ٹکیں ۔
12اس کے آقا نے اس سے کہا ہم کسی اجنبی کے شہر میں جو بنی اسرائیل میں سے نہیں داخل نہ ہونگے بلکہ ہم جبعہ کو جائینگے ۔
13پھر اس نے اپنے نوکر سے کہا کہ آہم ان جگہوں میں سے کسی میں چلے چلیں اور جبعہ یا رامہ میں رات کاٹیں ۔
14سو وہ آگے بڑھے اور راستہ چلتے ہی رہے اور بنیمین کے جبعہ کے نزدیک پہنچتے پہنچتے سوج ڈوب گےا ۔
15سو وہ ادھر کو مڑے تا کہ جبعہ میں داخل ہو کر وہاںٹکیں اور وہداخل ہو کر شہر کے چوک میں بیٹھ گیا کیونکہ وہاں کو ئی آدمی اس کو ٹکانے کو اپنے گھر نہ لے گیا۔
16اور شام کو ایک پیر مرد اپنا کام کر کے وہاں آیا ۔یہ آدمی افرائیم کے کوہستانی ملک کا تھا اور جبعہ میں آبسا تھا پر اس مقام کے باشندے بینمینی تھے ۔
17اس نے جو آنکھیں اٹھائیں تو اس مسافر کو اس شہر کے چو ک میں دیکھا ۔تب اس پیر مرد نے کہاتو کدھر کو جاتا ہے اور کہاں سے آیا ہے ؟
18اس نے اس سے کہا ہم یہوداہ کے بیت الحم سے افرائیم کے کوہستانی ملک کے پرلے سرے کو جاتے ہیں ۔میں وہیں کا ہوں اور یہوداہ کے بیت الحم کو گیا ہوا تھا اور اب خداوند کے گھر کو جاتا ہوں ۔یہاں کوئی مجھے اپنے گھر میں نہیں اتارتا۔
19حالانکہ ہمارے ساتھ ہمارے گدھوں کے لئے بھوسا اور چارا ہے اور میرے اور تیری لونڈی کے واسطے اور اس جوان کے لئے جو تیرے بند��ں کے ساتھ ہے روٹی اور مے بھی ہے اور کسی چیز کی کمی نہیں ۔
20اس پیر مرد نے کہا تیری سلامتی ہو ۔تیری سب ضرورتیں بہر صورت میرے ذمہ ہوں لیکن اس چوک میں ہر گز نہ ٹک ۔
21وہ اسے اپنے گھر لے گیا اور اس کے گدھوں کو چارا دیا اور وہ اپنے پاﺅں دھو کر کھانے پینے لگے ۔
22اور جب وہ اپنے دلوں کو خوش کرنے لگے تو اس شہر کے لوگوں میں سے بعض خبیثوں نے اس گھر کو گھیر لیا اور دروازہ پیٹنے لگے اور صاحبِ خانہ یعنی پیر مرد سے کہا اس شخص کو جو تیرے گھر میں آیا ہے باہر لے آتا کہ ہم اس کے ساتھ صحبت کر یں ۔
23وہ آدمی جو صاحب خانہ تھا با ہر ان کے پاس جا کر ان سے کہنے لگا نہیں میرے بھائیو ایسی شرارت نہ کرو ۔چونکہ یہ شخص میرے گھر میںآیا ہے اس لئے یہ حماقت نہ کرو ۔
24دیکھو میری کنواری بیٹی اوراس شخص کی حرم یہاں ہیں ۔میں ابھی ان کو باہر لائے دیتا ہوں ۔تم ان کی حرمت لو اور جو کچھ تم کو بھلا دکھائی دے ان سے کرو پر ا س شخص سے ایسا مکرو کام نہ کرو ۔پر وہ لوگ س کی سنتے ہی نہ تھے۔
25پس وہ مرد اپنی حرم کو پکڑ کر ان کے پاس باہر لے آیا ۔انہوں نے اس سے صحبت کی اور ساری رات صبح تک اس کے ساتھ بدذاتی کرتے رہے اور جب دن نکلنے لگا تو اس کو چھوڑ دیا ۔
26وہ عورت پو پھٹتے ہوئے آئی اور اس مرد کے دروازہ پر جہاں اس کا خاوند تھا گری اور روشنی ہو نے تک پڑی رہی ۔
27اور اس کا خاوند صبح کو اٹھا اور گھر کے دروازے کھولے اور باہر نکلا کہ روانہ ہو اور دیکھو وہ عورت جو اسکی حرم تھی گھر کے دروازہ پر اپنے ہاتھ آستا نہ پر پھیلائے پڑی تھی ۔
28اس نے اس سے کہا اٹھ ہم چلیں پر کسی نے جواب نہ دیا ۔تب اس شخص نے اسے اپنے گدھے پر لاد لیا اور وہ مرد اٹھا اور اپنے مکان کو چلا گیا۔
29اور اس نے گھر پہنچ کر چھری لی اور اپنی حرم کو لے کر اس کے عضا کاٹے اوراس کے بارہ ٹکڑے کر کے اسرائیل کی سب سرحدوں میں بھیج دئے۔
30اور جتنوں نے یہ دیکھا وہ کہنے لگے کہ جب سے بنی اسرائیل ملک مصر سے نکل آئے اس دن سے آج تک ایسا فعل نہ کبھی ہوا اور نہ دیکھنے میں آیا ۔سو اس پر غور کرو اور صلاح کر کے بتاﺅ ۔