Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
21 verses
1دارا کے دوسرے برس کے آٹھویںمہینے میں خدا وند کا کلام زکریاہ نبی بن برکیاہ بن عرو پر نازل ہُوا۔
2کہ خداوند تمہارے باپ دادا سے سخت ناراض رہا۔
3اس لے تو اُن سے کہہ ربُ الاافوج یوں فرماتا ہے کہ تم میری طرف رجوع ہُو رب الافواج کا فرمان ہے تو میں تمہاری طرف رجوع ہوں گا ربُ الا فواج فرماتا ہے ۔
4تُم اپنے باپ دادا کی مانند نہ بنو جن سے اگلے نبیوں نے بآواز بلند کہا ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ تُم اپنی بُری روش اور بداعمالی سے باز آو پر اُنہوں نے نہ سُنا اور مجھے نہ مانا خُداوند فرماتا ہے۔
5تمہارے باپ دادا کہاں ہیں؟ کیا انبیا ہمیشہ زندہ رہتے ہیں؟۔
6لیکن میرا کلام اور میرے آئین جو میں نے اپنے خدمت گزار نبیوں کو فرماے تھے کیا وہ تُمہارے باپ دادا پر پُورے نہیں ہُوے؟ چُنانچہ اُنہوں نے رجوع لا کر کہا کہ رب الافواج نے اپنے ارادہ کے مطابق ہماری عادات اور ہمارے اعمال کا بدلہ دیا ہے۔
7داراکے دُوسرے برس اور گیارھویں مہنیے یعنی ماہ سباط کی چوبیسویں تاریخ کو خدا وندکا کلام زکریاہ نبی بن برکیاہ بن عد وپر نازل ہوا۔
8کہ میں نے رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک شخص سُرنگ گھوڑے پر سوار مہندی کے درختوں کے درمیان نشیب میں کھڑا تھا اور اُس کے پیچھےسُرنگ اورکُمیت اور نقرہ گھوڑے تھے۔
9تب میں نے یہ کہا اے میرے آقا یہ کیا ہیں؟ اس پر فرشتے نے جو مُجھ سے گفتگو کرتا تھا کہا میں تجھے دیکھاوں گا کہ یہ کیا ہیں۔
10اور جو شخص مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا کہنے لگا یہ وہ ہیں جن کو خداوند نے بھیجا ہے کہ ساری دُنیا میں سیر کریں۔
11اور اُنہوں نے خداوند کے فرشتہ سے جو مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا کہا ہم نے ساری دُنیا کی سیر کی ہے اور دیکھا کہ ساری زمین میں امن و امان ہے۔
12پھر خدا وند کے فرشتے نے کہا اے رب الافواج تُو یروشیلم اور یُہوداہ کے شہروں پر جن سے تُو ستر برس سے ناراض ہے کب تک رحم نہ کرے گا؟۔
13اور خداوند نے اُس فرشہ کو جو مُجھ سے گفتگو کرتا تھا مُلائم اور تسلی بخش جواب دیا۔
14تب اُس فرشہ نے جو مجھ سے گفتگو کرتا تھا مجھ سے کہا بُلند آواز سے کہہ رُب الافواج یُوں فرماتا ہے کہ مُجھے یروشیلم اور صیون کے لے بڑی غیرت ہے۔
15اور میں اُن قوموں سے جو آرام میں ہیں نہایت ناراض ہوں کیونکہ جب میں تھوڑا ناراض تھا تُو اُنہوں نے اُس آفت کو بُہت زیادہ کر دیا۔
16اس لے خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں رحمت کے ساتھ یروشیلم کو واپس آیا ہوں۔ اُس میں میرا مسکن تعمیر کیا جاے گا ربُ الافواج فرماتا ہے اور یروشیلم پر پھر کھینچا جاے گا۔
17پھر بُلند آواز سے کہہ ربُ الافواج یوں فرماتا ہے کہ میرے شہر دوبارہ خُوشحالی سے معمُور ہوں گے کیونکہ خُداوند پھر ڈیون کو تسلی بخشے گا اور یروشیلم کو قبول فرماے گا۔
18پھر میں نے آنکھ اُٹھا کر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ چار سینگ ہیں۔
19اور میں نے اُس فرشتہ سے جو مجھ سے گفتگو کرتا تھا پوھا کہ یہ کیا ہیں؟ اُس نے مجھے جواب دیا یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے یُہوداہ اور اسرائیل اور یروشیلم کو پراگندہ کیا ہے۔
20پھر خداوند نے مُجھے چار کاریگر دکھاے۔
21تب میں نے کہا یہ کیوں آے ہیں؟ اُس نے جواب دیا یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے یہُوداہ کو ایسا پراگندہ کیا کہ کوئی سر نہ اُٹھا سکا لیکن یہ اس لے آے کہ اُن کو ڈرائیں اور اُن قوموں کے سینگوں کو پست کریں جنہوں نے یہُوداہ کے مُلک کو پراگندہ کرنے کے لے سینگ اُٹھایا۔