Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
15 verses
1اور داؔؤد نؔوب میں اؔخیملک کاہن کے پاس آیا اور اؔخمیلک داؔؤد سے مِلنے کو کانپتا ہُؤا آیا اور اُس سے کہا تُو کیون اکیلا ہے اور تیرےساتھ کو ئی آدمی نہیں ؟۔
2داؔؤد نے اِخؔمیلک کاہن سے کہا کہ بادشاہ نے مھے ایک کام کا حُکم کر کے کہا ہے کہ جِس کرم پر مَیں تجھے بھیجتا ہوُں اور جو حُکم میں تجھے نے تجھے دیا ہے وہ کِسی شخص پر ظاہر نہ ہو ۔ سو میں نے جونوں کو فُلانی فُلانی جگہ بِٹھا ید اہے۔
3پس اب تیرے ہاں کیا ہے؟ میرے ہاتھ میں روٹیوں کے پانچ گِدے یا جو کچُھ موَجوُ د ہوے۔
4کاہن نے داؔؤد کو جواب دیا میرے ہاں عام روٹیاں تو نہیں پر مُقدس روٹیا ہیں بشرطیکہ وہ جوان عَورتوں سے الگ رہے ہوَ
5داؤد نے کاہن کو جواب دِیا سچ تو یہ ہے کہ تین دِن سے عَورتیں ہم سے الگ رہی ہیں اور اگرچہ یہ معُمولی سفت ہے تَو بھی جب مَیں چلا تھا تب اِن جوانوں کے برتن پاک تھے تو آج تو ضرُور ہی وہ برتن پاک ہونگے ۔
6تب کاہن نے مُقدّس روٹی اُسکو دی کیونکہ اَور روٹی وہاں نہیں تھ فقط نذر کی روٹی تھی جو خُداوند کے آگے سے اُٹھائی گئی تھی۔ تاکہ اُسکے عِوض اُس دِن جب وہ اُٹھائی جائے گرم روٹی رکھی جائے۔
7اور وہاں اُس دِن ساؔؤل کے خادِموں میں سے ایک شخص خُداوند کے آگے رُکا ہُؤا تھا ۔ اُسکا نام ادومی دوؔئنگ تھا ۔ یہ ساؔؤل کے چرواہوں کا سردار تھا۔
8پھر داؔؤد نے اِخؔیملک سے پوچھا کیا یہاں تیرے پاس کوئی نیزہ یا تلوار نہیں؟ کیونکہ اپنی تلوار اپنے ہتھار اپنے ساتھ نہیں لایا؟ کیونکہ بادشاہ کے کام کی جلدی تھی۔
9اپس کاہِن نے کہا کہ فلِستی جؔولیت کی تلوار جِسے تُو نے اؔیلاہ کی وادی میں قتل کیا کپڑے میں لپٹی ہُؤئی اَفوُ د کے پیچھے رکھّی ہے ۔ اگر تُو اُسے لینا چاہتا ہے تو لے ۔ اُسکے سِوا یہاں کو ئی اور نہیں ہے۔ داؔؤد نے کہا وَیسی تو کوئی ہے ہی نہیں ۔ وہی مجھے دے۔
10اور داؔؤد اُٹھا اور ساؔؤل کے خَوف سے اُسی دِن بھاگا اور جاؔت کے بادشاہ اِکؔیس کے پاس چلا گیا۔
11اور اکؔیس کے مُلازِموں نے اُس سے کہ کے کیا یہی اُس مُلک کا بادشا ہ داؤد نہیں ؟ کیا اِسی کے بارہ میں ناچتے وقت گا گا کر اُنہوں نے آپس میں نہیں کہا تھا کہ ساؔؤل نے تو ہزاروں کو پر داؤد نے لاکھوں کو مارا؟۔
12داؔؤد نے یہ باتیں اپنے دِل میں رکھّیں اور جاؔت کے بادشاہ اِکؔیس سے نہایت ڈرا۔
13سو وہ اُنکے آگے دُوسری چال چلا اور اُنکے ہاتھ پڑ کر اپنے کو دِیوانہ بنا لیا اور پھاٹک کے کواڑوں پر لکیرٰیں کھینچنے اور اپنے تھُوک کو اپنی داڑی پر بہانے لگا۔
14تب اِکؔیس نے اپنے نوکروں سے کہا لو یہ آدمی تو سِڑہے ۔ تُم اُسے میرے پاس کیوں لائے؟۔
15کیا مُجھے سِڑیوں کی ضرُورت ہے جو تُم اُسکو میرے پاس لائے ہو کہ میرے سامنے سِڑی پن کرے؟ کیا اَیسا آدمی میرے گھر میں آنے پائیگا۔؟۔