Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1باب نمبر 9سُن لے اے اسرائیل آج تجھے یردن پار اِس لیے جانا ہے کہ تُو ایسی قوموں پر جو تُجھ سے بڑی اور زور آور ہیں اور ایسے بڑے شہروں پر جنکی فصلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں قبضہ کرے ۔
2وہاں عناقیم کی اولاد ہیں جو بڑے بڑے اور قد آور لوگ ہیں ۔ تجھے اُنکا حال معلوم ہے اور تُو نے اُنکی باب نمبرت یہ کہتے سُنا ہے کہ بنی عناق کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ؟
3پس تو آج کے دن جان لے کہ خداوند تیرا خدا تیرے آگے آگے بھسم کرنے والی آگ کی طرح پا جا رہا ہے ۔ وہ اُنکو فنا کے گا اور وہ اُنکو تیرے آگے پست کرے گا ایسا کہ تُو اُنکو نکال کر جلد ہلاک کر ڈالے گا جیسا خداوند نے تجھ سے کہا ہے ۔
4اور جب خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے آگے سے نکال چُکے تو تُو اپنے دل میں یہ نہ کہنا کہ میری صداقت کے سبب سے خداوند مجھے اِس ملک پر قبضہ کرنے کو یہاں لایا کیونکہ فی الواقع اِنکی شرارت کے سبب سے خداوند اِن قوموں کو تیرے آگے سے نکالتا ہے ۔
5تُو اپنی صداقت یا اپنے دل کی راستی کے سبب سے اُس ملک پر قبضہ کرنے کو نہیں جا رہا ہے بلکہ خداوند تیرا خدا اِن قوموں کی شرارت کے باعث اِنکو تیرے آگے سے خارج کرتا ہے تاکہ یوں وہ اُس وعدہ کو جسکی قسم اُس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے کھائی پورا کرے ۔
6غرض تُو سمجھ لے کہ خداوند تیرا خدا تیری صداقت کے سبب سے یہ اچھا ملک تجھے قبضہ کرنے کے لیے نہیں دے رہا ہے کیونکہ تُو ایک گردن کش قوم ہے ۔
7اِس با ت کو یاد رکھ اور کبھی نہ بھول کہ تُو نے خداوند اپنے خدا کو بیابان میں کس کس طرح غصہ دلایا بلکہ جب سے تُم ملک مصر سے نکلے ہو تب سے اِس جگہ پہنچنے تک تُم برابر خداوند سے بغاوت ہی کرتے رہے ۔
8اور حورب میں بھی تم نے خداوند کو غصہ دلایا چنانچہ خداوند ناراض ہو کر تمکو نیست و نابود کرنا چاہتا تھا ۔
9جب میں پتھر کی دونوں لوحوں کو یعنی اُس عہد کی لوحوں کو جو خداوند نے تُم سے باندھا لینے کو پہاڑ پر چڑھ رہا اور نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔
10اور خداوند نے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی پتھر کی دونوں لوحیں میرے سپرد کیں اور اُن پر وہی باتیں لکھی تھیں جو خداوند نے پہاڑ پر آگ کے بیچ میں سے مجمع کے دن تُم سے کہی تھیں ۔
11اور چالیس دن اور چالیس رات کے بعد خداوند نے پتھر کی وہ دونوں لوحیں یعنی عہد کی لوحیں مجھ کو دیں ۔
12اور خداوند نے مجھ سے کہا اُٹھ کر جلد یہاں سے نیچے جا کیونکہ تیرے لوگ جنکو تو مصر سے نکال لایا ہے بگڑ گئے ہیں ۔ وہ اُس راہ سے جسکا میں نے اُنکو حکم دیا جلد برگشتہ ہو گئے اور اپنے لیے ایک مورت ڈھا ل کر بنا لی ہے ۔
13اور خداوند نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ میں نے اِن لوگوں کو دیکھ لیا ۔ یہ گردن کش لوگ ہیں ۔
14سو اب تُو مجھے اِنکو ہلاک کرنے دے تاکہ میں اِنکا نام صفحہ روز گار سے مٹا ڈالوں اور میں تجھ سے ایک قوم جو اِن زور آور اور بڑی ہو بناونگا ۔
15تب میں اُلٹا پھرا اور پہاڑ کے نیچے اُترا اور پہاڑ آگ سے دہک رہا تھا اور عہد کی وہ دونوں لوحیں میرے دونوں ہاتھوں میں تھیں ۔
16اور میں نے دیکھا کہ تُم نے خداوند اپنے خدا کا گناہ کیا اور اپنے لیے ایک بچھڑا ڈھالکر بنا لیا ہے اور بہت جلد اُس راہ سے جسکا خداوند نے ت��کو حکم دیا تھا برگشتہ ہو گئے ۔
17تب میں نے اُن دونوں لوحوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے لیکر پھینک دیا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے اُنکو توڑ ڈالا ۔
18اور میں پہلے کی طرح چالیس دن اور چالیس رات خداوند کے آگے اوندھا پڑا رہا ۔ میں نے نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا کیونکہ تُم سے بڑا گناہ سرزد ہوا تھا اور خداوند کو غصہ دلانے کے لیے تُم نے وہ کام کیا جو اُس کی نظ میں بُرا تھا ۔
19اور میں خداوند کے قہر اور غضب سے ڈر رہا تھا کیونکہ وہ تُم سے سخت ناراض ہو کر تمکو نیست و نابود کرنے کو تھا لیکن خداوند نے اُس بار بھی میری سُن لی ۔
20اور خداوند ہارون سے ایسا غصہ تھا کہ اُسے ہلاک کرنا چاہا پر میں نے اُس وقت ہارون کے لیے بھی دعا کی ۔
21اور میں نے تمہارے گناہ کو یعنی اُس بچھڑے کو جو تُم نے بنایا تھا لیکر آگ میں جلایا ۔ پھر اُسے کُوٹ کُوٹ کر ایسا پیسا کہ وہ گرد کی مانند باریک ہو گیا اور اُسکی اُس راکھ کو اُس ندی میں جو پہاڑ سے نکل کر نیچے بہتی تھی ڈال دیا ۔
22اور تبعیرہ اور مسہ اور قبروت ہتا وہ میں بھی تُم نے خداوند کو غصہ دلایا ۔
23اور جب خداوند نے تمکوقادس برنیع سے یہ کہہ کر روانہ کیا کہ جاو اور اُس مُلک پر جو میں نے تُمکو دیا ہے قبضہ کرو تو اُس وقت بھی تُم نے خداوند اپنے خدا کے حکم کو عدول کیا اور اُس پر ایمان نہ ائے اور اُس کی بات نہ مانی ۔
24جس دن سے میری تُم سے واقفیت ہوئی ہے تُم برابر خداوند سے سر کشی کرتے رہے ہو ۔
25سو وہ چالیس دن اور چالیس رات جو میں خداوند کے آگے اوندھا پڑا رہا اِسی لیے پڑا رہا کیونکہ خداوند نے کہہ دیا تھا کہ وہ تمکو ہلاک کرے گا ۔
26اور میں نے خداوند سے یہ دعا کی کہ اے خداوند خدا ! تُو اپنی قوم اور اپنی میراث کے لوگوں کو جنکو تُو نے اپنی قدرت سے نجات بخشی اور جنکو تُو اپنے زور آور ہاتھ سے مصر سے نکال لایا ہلاک نہ کر ۔
27تا ایسا نہ ہو کہ جس ملک سے تُو ہمکو نکال لایا ہے وہاں کے لوگ کہنے لگیں کہ چونکہ خداوند اُس ملک میں جسکا وعدہ اُس نے اُن سے کیا تھا پہنچا نہ سکا اور چونکہ اُسے اُن سے نفرت بھی تھی اِس لیے وہ اُن کو نکال لے گیا تاکہ اُنکو بیابان میں ہلاک کر دے ۔
29آخر یہ لوگ تیری قو م اور تیری میراث ہیں جنکو تُو اپنے بڑے زور اور بلند بازو سے نکال لایا ہے ۔