Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1اخسویرس کے دنوں میں ایسا ہوا(یہ وہی اخسویرس ہے جو ہندوستان سے کوش تک ایک سو ستائیں صبوں پر سلطنت کرتا تھا)
2کہ ان دنوں میںجب اخسویرس بادشاہ اپنے تخت سلطنت پر جو قصر سوسن میں تھا بیٹھا۔
3تو اس نے اپنی سلطنت کے تیسرے سال اپنے سب حاکموں اور خادموں کی ضیافت کی اور فارس اور مادی کی طاقت اور صوبوں کے امراور سردار اسکے حضور حاضر تھے۔
4تب وہ بہت دن یعنی ایک سو اسی دن تک اپنی جلیل اقدر سلطنت کی دولت اور اپنی اعلی عظمت کی شان انکو دکھاتا رہا۔
5جب یہ دن گذر گئے تو بادشاہ نے سب لوگوں کی کیابڑے کیاچھوٹے جو قصر سوسن موجود تھے شاہی محل کے باغ کے صحن میں سات دن ضیافت کی۔
6وہاں سفید اور سبز اور آسمانی رنگ کے پردے تھے جو کتانی اور ارغوانی ڈوریوں سے چاندی کے حلقوں اور سنگ مرمرکے ستونوں سے بندھے تھے اور سرخ اور سفید اور زرد اور سیاہ سنگ مرمر کے فرش پر سونے اور چاندی کے تخت تھے۔
7اور انہوں نے انکو سونے کے پیالوں میں جو مختلف شکلوں کے تھے پینے کو دیا بادشاہی مے بادشاہ کے کرم کے موافق کثرت سے پلائی۔
8اور مے نوشی اس قاعدہ سے تھی کہ کوئی مجبور نہیں کر سکتا تھا کیونکہ بادشاہ نے اپنے محل کے سب عہدہ داروں کو تاکید فرمائی تھی کہ وہ ہر شخص کی مرضی کے مطابق کریں۔
9اور دشتی ملکہ نے بھی اخسویرس بادشاہ کے شاہی محل میں عورتوں کی ضیافت کی۔
10ساتویں دن جب بادشاہ کادل مے سے مسرور تھا تو اس نے ساتویں خواجہ سراؤں یعنی مہوبان اور بزتا اور خربوماہ اور بگتا اور ابگتا اور زتار اور کرکس کو جو اخسویرس بادشاہ کے حضور خدمت کرتے تھے حکم دیا۔
11کہ وشتی ملکہ کو شاہی تاج پہنا کر بادشاہ کے حضور لائیں تاکہ اسکا جمال لوگوں اور امرا کو دکھائے کیونکہ وہ دیکھنے میں خبصورت تھی۔
12لیکن وشتی ملکہ نے شاہی حکم پر جو خواجہ سراؤں کی معرفت ملا تھا آنے سے انکار کیا۔سو بادشاہ بہت جھلایا اور دل ہی دل میں اسکا غضب بھڑکا۔
13تب بادشاہ نے ان دانشمندوں سے جنکو وقتوں کا امتیاز تھا پوچھا (کیونکہ بادشاہ کا دستور سب قانون دانوں اور دعل شناسوں کے ساتھ ایسا ہی تھا۔
14اور فارس اور مادی کے ساتویں امیر یعنی کارشینا اور ستاراور ادماتا اور ترسیس اور مرس اور مرسنا اور مموکان اسکے مقرب تھے جو بادشاہ کا دیدار حاصل کرتے اور مملکت میں صدر نشین تھے۔
15کہ قانون کے مطابق وشتی ملکہ سے کیا کرنا چاہیے کیونکہ اس نے اخسویرس بادشاہ کا حکم جو خواجہ سراؤں کی معرفت ملا نہیں مانا ہے؟۔
16اور مموکان نے بادشاہ اور امیروں کے حضور جواب دیا کہ سشتی ملکہ نے فقط بادشاہی کا نہیں بلکہ سب امرا اور سب لوگوں کا بھی اخسویرس بادشاہ کے کل صبوں میں ہیں قصور کیا ہے۔
17کیونکہ ملکہ کی یہ بات باہر سب عورتوں تک پہنچگی جس سے انکے شوہر انکی نظر میں ذلیل ہو جائینگے جب یہ خبر پھیلیگی کہ اخسویرس بادشاہ نے حکم دیا کہ وشتی ملکہ اسکے حضور لائی جائے پر وہ نہ آئی۔
18اور آج کے دن فاس اور مادی کی سب بیگمیں جو ملکہ کی بات سن چکی ہیں بادشاہ کے سب امرا سے ایسا ہی کہنے لگینگی ۔یوں بہت حقارت اور طیش پیدا ہوگا۔
19اگر بادشاہ کو منظور ہو تو اسکی طرف سےشاہی فرمان نکلے اور وہ فارسیوں اور مادیوں کے آئین میں مندرج ہو تاکہ بدلا نہ جائے کہ وشتی اخسوریرس بادشاہ کے حضور پھر کبھی نہ آئے اور بادشاہ اسکا شاہانہ رتبہ کسی اور کو جو اس سے بہتر ہے عنایت کرے۔
20اور جب بادشاہ کا فرمان جسے وہ صادر کریگا اسکی ساری سلطنت میں (جو بڑی ہے) شہرت پائیگا تو سب بیویاں اپنے اپنے شوہر کی کیا بڑا کیا چھوٹا عزت کرینگی۔
21یہ بات بادشاہ اور امرا کو پسند آئی اور بادشاہ نے مموکان کے کہنے کے مطابق کیا۔۔
22کیونکہ اس نے سب شا��ی صوبوں میں صوبہ صوبہ کے حروف اور قوم قوم کی بولی کے مطابق خط بھیجدئے کہ ہر مرد اپنے گھر میں حکومت کرے اور اپنی قوم کی زبان میں اسکا چرچا کرے۔(