Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1ان باتوں کے بعد جب اخسویرس بادشاہ کا غضب ٹھنڈا ہوا تو اس نے وشتی کو اور جو کچھ اس نے کیا تھا اور جو کچھ اسکے خلاف حکم ہوا تھا یاد کیا۔
2تب بادشاہ کے ملازم جو اسکی خدمت کرتے تھے کہنے لگے کہ بادشاہ کے لئے جوان خوبصورت کنواریاں ڈھونڈی جائیں۔
3اور بادشاہ اپنی مملکت کے سب صوبوں میں منصبداروں کو مقرر کرے تاکہ وہ سب جوان خوبصورت کنواریوں کو قصر سوسن کے بیچ حرم سرامیں اکٹھا کرکے بادشاہ کے خواجہ سراہیجا کے سپرد کریں جو عورتوں کا محافظ ہے اور طہارت کے لئے انکا سامان انکو دیا جائے۔
4اور جو کنواری بادشاہ کو پسند ہو وہ وشتی کی جگہ ملکہ ہو۔یہ بات بادشاہ کو پسند آئی اور اس نے ایسا ہی کیا۔
5اور قصر سوسن میں ایک یہودی تھا جسکا نام مردکی تھا جو یائربن سمعی بن قیس کا بیٹا تھا جو بنیمینی تھا۔
6اور یروشلم سے ان اسیروں کے ساتھ گیا تھا جو شاہ یہوداہ یکونیاہ کے ساتھ اسیری میں گئے تھے جنکو شاہ بابل بنوکدنضر اسیر کرکے لے گیا تھا۔
7اس نے اپنے چچا کی بیٹی بدساہ یعنی آستر کو پالا تھا کیونکہ اسکے ماں باپ نہ تھے اور وہ لڑکی حسین اور خوبصورت تھی اور جب اسکے ماں باپ مرگئے تو مردکی نے اسے اپنی بیٹی کر کے پالا۔
8سو ایسا ہوا کہ جب بادشاہ کا حکم اور فرمان سننے میں آیا اور بہت سی کنواریاں قصر سوسن میں اکٹھی ہو کر ہیجا کے سپرد ہوئیں تو آستر بھی بادشاہ کے محل میں پہنچائی گئی اور عورتوں کے محافظہیجا کے سپرد ہوئی۔
9اور وہ لڑکی اسے پسند آئی اور اس نے اس پر مہربانی کی اور فورأ اسے شاہی محل میں سے طہارت کے لئے اسکے سامان اور کھانے کے حصے اور ایسی سات سہیلیاں جو اسکے لائق تھیں اسے دیں اور اسے اور اسکی سہیلیوں کو حرم سرا کی سب سے اچھی جگہ میں لے جا کر رکھا۔
10آستر نے نہ اپنی قوم نہ اپنا خاندان ظاہر کیا تھا کیونکہ مردکی نے اسے تاکید کردی تھی کہ نہ بتائے۔
11اور مردکی ہر روز حرم سرا کے صحن کے آگے پھرتا تھا تاکہ دریافت کرے کہ آستر کیسی ہے اور اسکا کیا حال ہوگا۔
12جب ایک ایک کنواری کی باری آئی کہ عورتوں کے دستور کے مطابق بارہ مہینے کی صفائی کے بعد اخسویرس بادشاہ کے پاس جائے(کیونکہ اتنے مرکا تیل لگانے میں اور چھ مہینے عظر اور عورتوں کی صفائی کی چیزوں کے لگانے میں)
13تب اس طرح سے وہ کنواری بادشاہ کے پاس جاتی تھی کہ جو کچھ وہ چاہتی کہ حرم سرا سے بادشاہ کے محل میں لے جائے وہ اسکو دیا جاتا تھا۔
14شام کو وہ جاتی تھی اور صبح کو لوٹکر دوسرے حرم سرا میں بادشاہ کے خواجہ سرا شعشجز کے سپرد ہو جاتی تھی جو حرموں کا محافظ تھا۔وہ بادشاہ کےپاس پھر نہیں جاتی تھی مگر جب بادشاہ اسے چاہتا تب وہ نام لیکر بلائی جاتی تھی۔
15جب مردکی کے چچا ابییل کی بیٹی آستر کی جسے مردکی نے انی بیٹی کرکے رکھا تھا بادشاہ کے پاس جانے کی باری آئی تو جو کچھ بادشاہ کے خواجہ سرا اور عورتوں کے محافظ ہیجا نے ٹھہرایا تھا اسکے سوا اس نے اور کچھ نہ مانگا اور آستر ان سب کی جنکی نگاہ اس پر پڑی منظور نظر ہوئی۔
16سو آستر اخسویرس بادشاہ کے پاس اسکے شاہی میں اسکی سلطنت کے ساتویں سال کے دسویں مہینے میں جو طیبت مہینہ ہے پہنچائی گئی۔
17اور بادشاہ نے آستر کو سب عورتوں سے زیادہ پیار کیا اور وہ اسکی نظر میں ان سب کنواریوں سے زیادہ عزیز اور پسندیدہ ٹھہری پس اس نے شاہی تاج اسکے سر پر رکھدیا اور وشتی کی جگہ اسے ملکہ بنایا۔
18اور بادشاہ نے اپنے سب امرا اور ملازموں کے لئے ایک بڑی ضیافت یعنی آستر کی ضیافت کی اور صوبوں میں معافی کی اور شاہی کرم کے مطابق انعام بانٹے۔
19اور جب کنواریاں دوسری بار اکٹھی کی گئیں تو مردکی بادشاہ کے پھاٹک پر بیٹھا تھا۔
20اور آستر نے نہ تو اپنے خاندان اور نہ اپنی قوم کا پتا دیا تھا جیسا مردکی نے اسے تاکید کر دی تھی اسلئے کہ آستر مردکی کا حکم ایسا ہی مانتی تھی جیسا اس وقت جب وہ اسکے ہاں پرورش پارہی تھی۔
21ان ہی دنوں جب مردکی بادشاہ کے پھاٹک پر بیٹھا کرتا تھا بادشاہ کے خواجہ سراؤں میں سے جو دروازہ پر پہرا دیتے تھے دو شخصوں یعنی بگتان اور ترش نے بگڑ کر چاہا کہ اخسویرس بادشاہ پر ہاتھ چلایئں۔
22یہ بات مردکی کو معلوم ہوئی اور اس نے آستر ملکہ کو بتائی اور آستر نے مردکی کا نام لیکر بادشاہ کو خبر دی۔
23جب اس معاملہ کی تحقیقات کی گئی اور وہ بات ثابت ہوئی تو وہ دونوں ایک درخت پر لٹکا دئے گئے اور یہ بادشاہ کے سامنے تواریخ کی کتاب میں لکھ لیا گیا۔