Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
51 verses
1پھر خداوند نے ملک مصر میں موسیٰ اور ہارون سے کہاکہ۔
2یہ مہینہ تمہارے لئے مہینوں کا شروع اور سال کا پہلا مہینہ ہو
3پس اسرائیلیوں کی ساری جماعت سے یہ کہہ دوکہ اسی مہینے کےدسویں دن ہر شخص اپنے آبا ئی خاندان کے مطابق گھر پیچھے ایک برہ لے۔
4اور اگر کسی کےگھرانےمیںبرہ کو کھانےکے لئے آدی کم ہوں تو وہ اور اُسکا ہمسایہ جو اُسکےگھر کے برابررہتا ہو دونوں ملکر نفری کے شُمار کے موافق ایک برہ لے رکھیں ۔تم ہر ایک آدمی کے کھانے کی مقدارکے مطابق برّہ کا حساب لگانا۔
5تمُارا بّرہ بے عیب اور یکسالہ نر ہو اور اَیسا بّچہ یاتو بھیڑوں میں سے چن کر لینا یا بکر یوں میں سے ۔
6اور تُم اُسے اِس مہینے کی چودھویں تک رکھ چھوڑنا اور اِسرائیلیوں کے قبیلوں کی ساری جماعت شام کو اٰسے زبح کریں ۔
7اور تھوڑا سا خُون لے کر جن گھروں میں وہ اُسے کھائیں اُن کے دروازوں کے دونُوں بازُوؤں اور اُوپر کی چوکھٹ پر لگا دیں ۔
8اور وہ اُس کے گوشت کو اُسی رات آگ پر بھُون کر بےخمیری روٹی اور کڑوے ساگ پات کے ساتھ کھا لیں ۔
9اُسے کچّا یا پانی میں اُبال کر ہرگز نہ کھانا بلکہ اُس کو سر اور پائے اور اندرُونی اعضا سمیت آگ پر بھُون کر کھانا ۔
10اور اُس میں سے کچُھ بھی صبح تک باقی نہ چھوڑنا اور اگر کچُھ اُس میں سے صبح تک باقی رہ جائے تو اُسے آگ میں جلادینا ۔
11اور تُم اُسے اِس طرح کھانا اپنی کمر باندھے اور اپنی جوتیاں پاؤں میں پہنے اور اپنی لاٹھی ہاتھ میں لئے ہوئے ۔ تم اُسے جلدی جلدی کھانا کیونکہ یہ فسح خُداوند کی ہے ۔
12اِس لئے کہ میں اُس رات مُلک مصر میں سے ہو کر گزرونگا اور انسان اور حیوان کے سب پہلوٹھوں کو جو مُلک مصر میں ہیں مارُونگا اور مصر کے سب دیوتاؤں کو بھی سزا دونگا مَیں خُداوند ہوں ۔
13اور جن گھروں میں تم ہو اُن پر وہ خُون تُمہاری طرف سے نشان ٹھہریگا اور مَیں اُس خُون کو دِیکھ کر تُم کو چھوڑتا جاؤنگا اور جب مَیں مصریوں کو مارُونگا تو وبا تُمہارے پاس پھٹکنے کی بھی نہیں کہ تم کو ہلاک کرے ۔
14اور وہ دِن تُمہارے لئے ایک یادگار ہوگا اور تم اُس کو خداوند کی عیدکا دن سمجھ کر ماننا ۔ تم اُسے ہمیشہ کی رسم کر کے اُس دن کو نسل در نسل عید کا دن ماننا ۔
15سات دن تک تم بےخمیری روٹی کھانا اور پہلے ہی دن سے خمیر اپنے اپنے گھر سے باہر کر دینا اِس لئے کہ جو کوئی پہلے دن سے ساتویں دن تک خمیری روٹی کھائے جو شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا ۔
16اور پہلے دن تُمہارا مقدس مجمع ہو اور ساتویں دن بھی مقدس مجمع ہو اِن دونوں دِنوں میں کوئی کام نہ کیا جائے ۔ سوا اُس کھانے کے جیسے ہر ایک آدمی کھائے فقط یہی کیا جائے ۔
17اور تم بےخمیری روٹی کی یہ عید منانا کیونکہ مَیں اُسی دِن تُمہارے جتھوں کو مُلک مصر سے نکا لُونگا ۔ اِس لئے تُم اُس دِن کو ہمیشہ کی رسم کر کے نسل درنسل ماننا ۔
18پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام سے اکیسویں تاریخ کی شام تک تم بے خمیری روٹی کھانا ۔
19سات دِن تک تمہارے گھروں میں کُچھ بھی خمیر نہ ھو کیونکہ جو کوٰئ کسی خمیری چیز کو کھا ئے وہ خمیری چیز کو کھائےوہ خواہ مُسافر ہوخواہ اُسکی پیدایش اُسی مُلک کی ہو اِسرائیل کی جماعت سے کاٹ ڈالا جائیگا ۔
20تُم کوئی خمیری چیز نہ کھانا بلکہ اپنی سب بستیوں میں بے خمیری روٹی کھانا ۔
21تب موسیٰ نے اسرائیل کے سب بزرگوں کو بُلواکر اُن کو کہا کہ اپنے اپنے خاندان کے مطابق ایک ایک بّرہ نکال رکھو اور یہ فسح کا بّرہ ذبح کرنا ۔
22اورتُم زُوفے کا ایک گُچھّا لیکر اُس خُون میں جو باسن میں ہو گا ڈبونا اور اُسی باسن کے خُون میں سے کُچھ اُوپر کی چَوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر لگا دینا اور تم میں سے کوئی صبح تک اپنے گھر کے دروازہ سے باہر نہ جائے ۔
23کیو نکہ خداوند مصریوں کو مارتا ہو ا گزریگا اور جب خداوند اُوپر کی چوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر خُون دِیکھیگا تو وہ اُ س دروازہ کو چھوڑ جائیگا اور ہلاک کرنے والے کو تم کو مارنے کے لئے گھر کے اندر آنے نہ دیگا ۔
24اور تم اِس بات کو اپنے اور اپنی اولاد کے لئے ہمیشہ کی رسم کر کے ماننا ۔
25اور جب تُم اُس مُلک میں جو خدوند تُمکو اپنے وعدہ کے مافق دیگا داخل ہو جائو تو اس عبادت کو برابر جاری رکھنا ۔
26اور جب تمہاری اَولاد تُم سے پوچھے کہ اِ س عبادت سے تمہارامقصد کیاہے۔
27تو تُم یہ کہنا کہ یہ خُداوند کی فسح کی قُربانی ہے جو مِصر میں مِصریوں کو مارتے وقت بنی اِسرائیل کےگھروں کوچھوڑگیااوریُوںہمارےگھروںکوبچالیا۔تب لوگوں نےسرجُھکاکرسجدہ کِیا۔
28اوربنی اِسرائیل نےجاکرجیساخُداندنےمُوسی اورہارُون کوفرمایاتھاوَیساہی کِیا۔
29اورآدھی رات کوخُدوندنےمُلک مِصرکے سب پہلوٹھوںکوفرعون جواپنےتخت پربیٹھاتھااُسکےپہلوٹھےسےلیکر وہ قَیدی جوقَیدخانہ میں تھااُسکےپہلوٹھےتک بلکہ چَوپایوں کےپہلوٹھوں کوبھی ہلاک کردِیا۔
30اور فرعون اوراُسکےسب نوکراورسب مِصری رات ہی کو اُٹھ بیٹھے اورمِصرمیں بڑاکُہرام مچا کیونکہ ایک بھی اَیسا گھر نہ تھا جِسں میں کوئی نہ مرا ہو ۔
31تب اُس نے رات ہی رات میں مُوسی اور ہارُون کوبُلواکرکہا کہ تُم بنی اِسرائیل کو لیکر میری قَوم کے لوگوں میں سے نکِل جا و اور جیسا کہتے ہوجاکر خُداوند کی عِبات کرو ۔
32اوراپنے کہنے کے مُطابق اپنی بھیڑبکریاں اور گائے بَیل بھی لیتے جاو اور میرے لئے بھی دُعاکرنا ۔
33اور مِصری اُن لوگوں سے بجد ہونےلگے تاکہ اُنکو مُلک مِصر سے جلد باہر چلتا کریں کیونکہ وہ سمجھے کہ ہم سب مرجائینگے ۔
34سواِن لوگوں نے اپنے گُندھے گُندھائے آٹے کو بغیر خمیر دئے لگنوں سمیت کپڑوں میں با ندھ کر اپنے کندھوں پر دھرلِیا ۔
35اور بنی اسرائیل نے مُوسیٰ کے کہنے کے مُوافِق یہ بھی کِیا کہ مِصریوں سے سونے چاندی کے زیور اور کپڑے مانگ لئے ۔
36اور خُداوند نے ان لوگوں کو مِصریوں کی نِگاہ میں اَیسی عِزت بخشی کہ جو کُچھ اُنہوں نے ما نگا اُنہوں نے دے دیا سو انہوں نے مصر یو ں کو لو ٹ لیا۔
37اور بنی اسرائیل نے رعمسیس سے سکّات تک پیدل سفر کِیا اور بال بّچوں کو چھوڑ کر وہ کوئی چھ لاکھ مرد تھے ۔
38اور اُنکے ساتھ ایک مِلی جلی گروہ بھی گئی اور بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور بہت چوپائے اُنکے ساتھ تھے ۔
39اور اُہنوں نے اُس گندھے ہو ئے آٹے کی جسے وہ مصر سے لائے تھے بےخمیری روٹیاں پکایئں کیونکہ وہ اُس میں خمیر دِینے نہ پائے تھے اِسلئے کہ وہ مصر سے ایسے جبراً نکال دِئے گئے کہ وہاں ٹھر نہ سکے اور نہ کُچھ کھانا اپنے لِئے تیار کرنے پائے ۔
40اور بنی اسرائیل کو مصر میں بُودوباش کرتے ہوئے چارسَو تیس برس ہوئے تھے ۔
41اور اُن چار سَو تیس برسوں کے گُزرجانے پر ٹھیک اُسی روز خُداوند کا لشکر مُلِک مِصر سے نکل گیا ۔
42یہ وہ رات ہے جسے خُداوند کی خاطر ماننا بہت مُناسب ہے کیونکہ اِس میں وہ اُنکو مُلِک مصِر سے نِکال لایا ۔ خُداوند کی یہ وہی رات ہے جِسے لازِم ہے کہ سب بنی اِسرائیل نسل در نسل خوب مانیں۔
43پھر خُداوند نے مُوسیٰ اور ہارُون سے کہا کہ فسح کی رسم یہ ہے کہ کوئی بیگانہ اُسے کھانے نہ پائے ۔
44لیکن اگر کوئی شخص کِسی کا زرخرید غُلام ہو اور تُو نے اُس کا ختنہ کر دیا ہو تو وہ اُسے کھائے ۔
45پر اجنبی اور مزدوُر اُسے کھانے نہ پائے ۔
46اور اُسے ایک ہی گھر میں کھائیں یعنی اُسکا ذرا بھی گوشت تُو گھر سے باہر نہ لے جانا اور تُم اُسکی کوئی ہڈی توڑنا۔
47اِسرائیل کی ساری جماعت اِس پر عمل کرے ۔
48اور اگر کوئی اجنبی تیرے ساتھ مُقیم ہو اور خُداوند کی فسح کو ماننا چاہتا ہو اُسکے ہاں کے سب مرد اپنا ختنہ کرائیں ۔تب و ہ پاس آکر فسح کرے ۔ یُوں وہ اَیسا سمجھاجائیگا گویا اُسی مُلک کی اُسکی پیدایش ہے پر کوئی نا مختون آدمی اُسے کھانے نہ پائے ۔
49وطنی اور اُس اجنبی کے لئے جو تمہارے بیچ مُقیم ہو ایک ہی شریعت ہوگی ۔
50پس سب بنی اِسرائیل نے جیسا خُداوند نے مُوسیٰ اور ہارون کو فر مایا ویَسا ہی کیا۔
51اور ٹھیک اُسی روز خُداوند بنی اِسرائیل کے سب جتھوں کو مُلِک مصر سے نکال لے گیا۔