Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
35 verses
1پھر خُداوند نے موسیٰ سے کہا پہلی لَوحوں کی مانند پتھر کی دو لَوحیں اپنے لئے تراش لینا ار مَیں اُن لَوحوں پر وہی باتیں لکھ دُونگا جو پہلی لَوحوں پر جنکو تُو نے توڑ ڈالا مرقوم تھیں ۔
2اور صبح تک تیار ہو جانا اور سویرے ہی کوہِ سینا پر آ کر وہاں پہاڑ کی چوٹی پر میرے سامنے حاضر ہونا ۔
3پر تیرے ساتھ کو ئی اور آدمی نہ آئے اور نہ پہاڑ پر کہیں کو ئی دُوسرا شخص دِکھائی دے ۔ بھیڑ بکریاں اور گائے بیل بھی پہاڑ کے سامنے چرنے نہ پائیں ۔
4اور موسیٰ نے پہلی لَوحوں کی مانند پتھر کی دو لَوحیں تراشیں اور صبح سویرے اُٹھ کر پتھر کی دونوں لَوحیں ہاتھ میں لئے ہو ئے خُداوند کے حُکم کئ مُطابق کوہِ سینا پر چڑھ گیا۔
5تب خُداوند ابر میں ہو کر اُسکے ساتھ وہاں کھڑے ہو کر خُداوند کے نام کا اِعلان کیا ۔
6اور خُداوند اُسکے آگے سے یہ پُکارتا ہُوا گُزرا خُداوند خُداوند خُدای رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت اور وفا میں غنی ۔
7ہزاروں پر فضل کرنے والا ۔گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا لیکن وہ مُجرم کو ہرگزبری نہیں کریگا بلکہ باپ دادا کے گناہ کی سزا اُنکے بیٹوں اور پوتوں کو تیسری اور چوتھی پُشت تک دیتا ہے۔
8تب مُوسیٰ نے جلدی سے سر جھکا کر سجدہ کیا۔
9اور کہا اَے خُداوند اگر مُجھ پر تیرے کرم کی نظرہے تو اَے خُداوند میں تیری مِنت کرتا ہوں کہ ہمارے بیچ میں ہو کر چل گو یہ قوم گردن کش ہے اور تو ہمارے گُناہ اور خطا کو معاف کراور ہم کو اپنی میراث کر لے۔
10اُس نے کہا دیکھ میں عہد با ند ھتا ہُوں کہ تیرے سب لوگوں کے سامنے اَیسی کرامات کرونگا جو دنیا بھر میں اور کسِی قَوم میں کبھی کی یہں گیئِں اور وہ سب لوگ جنکے بِیچ تُو رہتا ہے خُداوند کے کام کو دیکھینگے کیونکہ جو میں تُم لوگوں سے کرنے کو ہوں وہ ہَیبت ناک کام ہوگا۔
11آج کے دِن جُو حکم میں تجھے دیتاہُوں تُو اُسے یاد رکھنا ۔دیکھ میں اموریوں اور کنعا نیوں اور حِتّیوںاور فرزّیوں اور حّویوں اور یبوسیوں کو تیرے آگے سے نکالتا ہُوں۔
12سو خبردار رہنا کہ جِسں مُلک کو تُو جاتا ہے اُسکے باشِندوں سے کوئی عہدنہ باندھنا ۔اَیسا نہ ہُو کہ وہ تیرے لئِے پھندااٹھہرے۔
13بلکہ تُم اُنکی قُربانگا ہوں کو ڈھادینا اور اُنکے سُتُونوں کے ٹُکڑےٹُکڑےکردنیا اور اُنکی یسِیرتوںکوکاٹ ڈالنا۔
14کیونکہ تُجھکو کِسی دُوسرے معبُودکی پرستِش نہیں کرنیہوگی اِسِلئےکہ خُداوند جِسکا نام غُیور ہے وہ خُدا ایِغُیور ہے بھی۔
15سواَیسانہ ہو کہ تُو اُس مُلک کے باشِندوں سےکوہی عہدباندھلے اور جب وہ اپنے معُبودوں کی پَیروی میں زِناکار ٹھہریں اور اپنے معُبدوں کے لئِے قُربانی کریں اور کوئی تُجھکو دعوت دے اور تُو اُسکی قُربانی میں سے کُچھ کھا لے۔
16او تُو اُن کی بیٹاں اپنے بیٹوں سے بیاہے اور اُنکی بیٹاں اپنے معُبودوں کی پیروی میں زِنا کار ٹھہریں اور تیرے بیٹوں کو بھی اپنے معُبودوں کی پیروی میں زِنا کار بنا دیں ۔
17تُو اپنے لئے ڈھائے ہو ئے دیوتا نہ بنا لینا۔
18تُو بے خمیری روٹی کی عید مانا کر نا ۔ میرے حُکم کئ مُطابق سات دِن تک ابیب کے مہینے میں وقت ِ مُعیّنہ پر بے خمیری روٹیاں کھانا کیونکہ ماہِاا بیب میں تُو مِصر سے نکلا تھا ۔
19سب پہلوٹھے میرے ہیں اور تیرے چوپایوں میں جو نر پہلوٹھے ہوں کیا بچھڑے کیا بّرے سب میر ے ہو نگے۔
20لیکن گدھے کے پہلے بچے کا فدیہ بّرہ دیکر ہو گا اور اگر تُو فدیہ نہ چا ہے تو اُسکی گردن توڑ ڈالنا پر اپنے سامنے سب خالی ہاتھ دِکھائی نہ دے۔
21چھ دِن کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن آرام کرنا۔ہل جوتنے اور فصل کاٹنے کے مَوسم میں بھی آرام کرنا۔
22اور تُو گہیوں کے پہلے پھل کاٹنے کے وقت ہفتوںکی عِید اور سال کے آخر میں فصل جمع کر نے کی عِید مانا کرنا ۔
23تیرے سب مرد سا ل میں تِین ار خُداوند خُدا کے آگے جو اِسٔرائیل کا خُدا ہے حاضِر ہوں۔
24کیونکہ مَیں قَوموں کو تیرے آگے سے نکال کر تیریسرحدوں کو بڑ ھا دونگا اور جب سال میں تِیں بار تُو خُداوند اپنے خُداکے آگے حاضِر ہو گا تو کوئی تیری زمین کا لالچ نہیں کرے یگا ۔
25تُو میری قُربانی کا خُون خمیری روٹی کے ساتھ نہ گزراننا اور عِید فسح کی قُربانی سے کچھ صبح تک نہ رہنے دینا۔
26اپنی زمین کی پہلی پَیداوار کا پھل خُداوند اپنے خدا کے گھر میں لانا ۔حلو ان کو اُسی کی ما ں کے دوُدھ میں نہ پکانا۔
27اور خُداوند مُوسیٰ سے کہا کہ تُو یہ با تیں لِکھ کیونکہ ان ہی باتوں کے مفہوم کے مطابق تُجھ سے ااسئرایئل سے عہِد باندھتا ہوں۔
28سو وہ چالِیس رات وہیں خُداوند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی نہ پانی پِیا اور اُس نے اُن لَوحوںپراُس عہد کی باتوں کو یعنی دس احکام کو لِکھا ۔
29اور جب مُوسیٰ شہادت کی دونوں لوحیں اپنے ہاتھ میں لیے ہُوئے کوہِ سیئنا سے اُترا آتا تھا تو پہاڑ سے نِیچے اُتر تے وقت اُسے خبرنہ تھی کہ خُداوند کے ساتھ با تیں کر نے کی وجہ سے اُسکا چہرہ چمک رہا تھا ۔
30اور جب ہارون اور بنی اِسرائیل نے مُوسیٰ پر نظر کی اور اُسکے چہرہ کو چمکتے دیکھا تُو اُسکے نزدِیک آنے سے ڈرے ۔
31تب مُوسیٰ نے اُنکوُ بلا یا اور ہارُون اور جما عت کتے سب سردار اُسکے پا س لَو ٹ آئے اور مُوسیٰ اُن سے با تیں کرنے لگا۔
32اور بعد میں سب بنی اِسرائیل نزدیک آئے اور اُس نے وہ سب احکام جو خُداوند نے کوہِ سئینا پر با تیں کر تے وقت اُسے دِئے تھے اُنکو بتائے۔
33اور جب مُو سیٰ اُن سے باتیں کر چُکا تو اُس نے اپنے مُنہ پر نقاب ڈال ِ لیا۔
34اور جب مُو سیٰ خُداوند سے باتیں کرنے کے لئے اُسکے سا منے جاتا تو با ہرنکلنے کے وقت نقاب کو اُتارے رہتا تھا اور جو حُکم اسے ملتا تھا وہ اُسے باہر آکر بنی اسرائیل کو بتا دیتا تھا ۔
35اور بنی اسرائیل مُوسیٰ کے چہرہ کو دیکھتے تھے کہ اسکے چہرہ کی جلِد چمک رہی ہے اور جب تک مُوسیٰ خُداوند سے با تیں کرنے نہ جاتا تب تک اپنے مُنہ پر نقاب ڈالے رہتا تھا۔