Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1پھر اسرائیل کے بزرگوں میں سے چند آدمی میرے پاس آئے اورمیرے سامنے بیٹھ گئے۔
2تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
3کہ اے آدمزاد ان مردوں نے اپنے بتوں کو اپنے دل میں نصب کیا ہے اور اپنی ٹھوکر کھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ کیا ایسے لوگ مجھ سے کچھ دریافت کر سکتے ہیں؟
4اس لئے تو ان سے باتیںکر اور ان سے کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ہر کوئی جو اپنے بتوں کو اپنے دل میں نصب کر تا ہے اور اپنی ٹھوکر کھلانے والی بدرکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے میَں خداوند اسکے بتوں کی کثرت کے مطابق اس کو جواب دوں گا۔
5تاکہ میں بنی اسرائیل کو انہی کے خیالات میں پکڑوں کیونکہ وہ سب کے سب اپنے بتوں کے سبب مجھ سے دور ہو گئے ہیں۔
6اس لئے تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ توبہ کرو اور اپنے بتوں سے باز آﺅ اور اپنی تمام مکروہات سے منہ موڑو۔
7کیونکہ ہر ایک جو بنی اسرائیل میں سے یا ان بیگانوں میں سے جو بنی اسرائیل میں رہتے ہیں مجھ سے جدا ہو جاتا ہے اور اپنے دل میں اپنے بت کو نصب کرتا ہے اور اپنی ٹھوکر کھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے اور اس کی معرفت مجھ سے دریافت کرے اس کو میں خداوند آپ کی جواب دوں گا۔
8اور میرا چہرہ اس کے خلاف ہو گا اور میں اسکو باعث حیرت و انگشت نما اور ضرب المثل بناﺅں گا اور اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالوں گااور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
9اور اگر نبی کچھ فریب کھا کر کہے تو میں خداوند نے اس نبی کو فریب دیا اور اپنا ہاتھ اس پر چلاﺅں گا اور اسے اپنے اسرائیلی لوگوں میں سے نابود کر دوں گا۔
10اور وہ اپنی بدکرداری کی سزا برداشت کریں گے ۔ نبی کی بدکرداری کی سزا ویسی ہی ہوگی جیسی سوال کرنے والے کی بدکرداری کی۔
11تاکہ نبی اسرائیل پھر مجھ سے بھٹک نہ جائیں اور اپنی سب خطاﺅں سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کریں بلکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ میرے لوگ ہوں اور مَیں ان کا خدا ہوں۔
12اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
13اے آدمزاد جب کوئی ملک سخت خطا کر کے میرا گناہگار ہو اور میں اپنا ہاتھ اس پر چلاﺅں اور اسکی روٹی کا عصا توڑ ڈالوں اور اس میں قحط بھیجوں اور اس کے انسان اور حیوان کو ہلاک کروں۔
14تو اگرچہ یہ تین شخص نوح اور دانی ایل اور ایوب اس میں موجود ہوں تو بھی خداوند خڈا فرماتا ہے کہ وہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔
15اگر میں کسی ملک میں مہلک درندے بھیجوں کہ اس میں گشت کر کے اسے تباہ کریں اور وہ یہاں تک تباہ ہو جائے کہ درندوں کے سبب سے کوئی اس میں سے گذر نہ سکے۔
16تو خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کہ قسم اگر چہ یہ تین شخص اس میں ہوں تو بھی وہ نہ بیٹوں کو بچا سکیں گے نہ بیٹیوں کو۔ فقط وہ خود ہی بچیں گے اور ملک ویران ہو جائے گا۔
17یااگر میں اس ملک پر تلوار بھیجوں اور کہوں کہ اے تلوار ملک میں سے گذر کر اور میں اس کے انسان اور حیوان کاٹ ڈالوں۔
18تو خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم اگر چہ یہ تین شخص اس میں ہوں تو بھی نہ بیٹوں کو بچا سکیں گے نہ بیٹیوں کو فقط وہ خود ہی بچ جائیں گے۔
19یا اگر میں اس ملک میں وبا بھیجوں اور خونریزی کراکر اپنا قہر اس پر نازل کروں کہ وہاں کے انسان اور حیوان کو کاٹ ڈالوں۔
20اگر چہ نوح اور دانی ایل اور ایوب اس میں ہوں تو بھی خدا خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ نہ بیٹے کو بچا سکیں گے نہ بیٹی کو بلکہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔
21پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں اپنی چار بڑی بلائیں یعنی تلوار اور قحط اور مہلک درندے اور وبا یروشلیم پر بھیجوں کہ انسان اور حیوان کو کاٹ ڈالوں تو کیا حال ہوگا۔
22تو بھی وہاں تھوڑے سے بیٹے بیٹیاں بچ رہیں گے جو نکال کر تمہارے پاس پہنچائے جائیں گے اور تم ان کی روش اور ان کے کاموں کو دیکھ کر اس آفت کی بابت جو میں نے یروشلیم پر بھیجی اور ان سب آفتوں کی بابت جو میں اس پر لایا ہوں تسلی پاﺅ گے۔
23اور وہ بھی جب تم ان کی روش اور ان کے کاموں کو دیکھ گے تمہاری تسلی کا باعث ہوں گے اور تم جانو گے کہ جو کچھ میں نے اس میں کیا ہے بے سبب نہیں کیا خداوند خدا فرماتا ہے۔