Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
62 verses
1پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2کہ آدمزاد یروشلیم کو اس کے نفرتی کاموں سے آگاہ کر۔
3اور کہہ کہ خداوند خدا یروشلیم سے ہوں فرماتا ہے کہ تیری ولادت اورتیری پیدائش کعنان کی سر زمین کی ہے۔ تیرا باپ اموری تھا اور تیری ماں حِتی تھی۔
4اور تیری پیدائش کا حال یوں ہے کہ جس دن تو پیدا ہوئی تیری ناف کاٹی نہ گئی اور نہ صفائی کےلئے تجھے پانی سے غسل ملا اور تجھ پر نمک ملا گیا اور تو کپڑوں میں لپیٹی نہ گئی۔
5کسی کی آنکھ نے تجھ پر رحم نہ کیا کہ تیرے لئے یہ کام کرے اور تجھ پر مہربانی دکھائے بلکہ تو اپنی ولادت کے روز باہر میدان میں پھینکی گئی کیونکہ تجھ سے نفرت رکھتے تھے۔
6تب میں نے تجھ پر گذر کیا اور تجھے تیرے ہی لہو میں لوٹتی دیکھا اور میں نے تجھے جب تو اپنے خون میں آغِشتہ تھی کہا کہ جیتی رہ۔ ہاں میں نے تجھ خون آلودہ سے کہا کہ جیتی رہ۔
7میں نے تجھے چمن کے شگوفوں کی مانند ہزار چند بڑھایا۔ سو تو بڑھی اور بالغ ہوئی اور کمال و جمال تک پہنچی ۔ تیری چھاتیاں اٹھیں اور تیری زلفیں بڑھیں لیکن تو ننگی اور برہنہ تھی۔
8پھر میں نے تیری طرف گذر کیا اور تجھ پر نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ تو عشق انگیز عمر کو پہنچ گئی ہے پس میں اپنا دامن پھیلایا اور تیری برہنگی کو چھپایا اور قسم کھا کر تجھ سے عہد باندھا خداوند خدا فرماتا ہے اور تو میری ہوگئی۔
9پھر میں نے تجھے پانی سے غسل دیا اور تجھے بالکل دھو ڈالا اور تجھ پر عطر ملا۔
10اور میں نے تجھے زردوز لباس میں ملبس کیا اور تخس کی کھال کی جوتی پہنائی ۔ نفیس کتان سے تیرا کمر بند بنایا اور تجھے سراسر ریشم سے ملبس کیا۔
11میں نے تجھے زیور سے آراستہ کیا تیرے ہاتھوں میں کنگن پہنائے اور تیری گلے میں طوق ڈالا۔
12اور میں نے تیری ناک میں نتھ اور تیرے کانوں میں بالیا ں پہنائیں اور ایک خوبصورت تاج تیرے سر پر رکھا۔
13اور تو سونے چاندی سے آراستہ ہوئی اور تیری پوشاک کتانی اور ریشمی اور چکن دوزی کی تھی اور تو میدہ اور شہد اور چکنائی کھاتی تھی اور تو نہایت خوبصورت اور اقبالمند ملکہ ہوگئی۔
14اور اقوام عالم میں تیری شہرت پھیل گئی کیونکہ خداوند خدایوں فرماتا ہے کہ تو میرے اس جلال سے جو میں نے تجھے بخشا کامل ہوگئی۔
15لیکن تو نے اپنی خوبصورت پر تکیہ کیا اور اپنی شہرت کے سبب بدکاری کرنے لگی اور ہر ایک کے ساتھ جس کا تیری طرف گذر ہوا خوب فاحشہ بنی اور اسی کی ہوگئی۔
16تو نے اپنی پوشاک سے اپنے اونچے مقام منقش کئے اور آراستہ کئے اور ان پر ایسی بدکاری کہ نہ کبھی کی اور نہ کبھی ہوگی۔
17اور تو نے اپنے سونے چاندی کے نفیس زیوروں سے جو میں نے تجھے دئے تھے اپنے لئے مردوں کی مورتیں بنائی اور ان سے بدکاری کی۔
18اور اپنی زردو�� پوشاکوں سے انکو ملبس کیا اور میرا عطر اور بخور ان کے آگے رکھا۔
19اور میرا کھانا جو میں نے تجھے دیا یعنی میدہ اور چکنائی اور شہد جو میں تجھے کھلاتا تھا تو نے ان کے سامنے خشبو کےلئے رکھا۔ خدا وند خدا فرماتا ہے کہ یوں ہی ہوا۔
20اور تو نے اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو جن کو تو نے میرے لئے جنم دیا لے کر ان کے آگے قربان کیا تاکہ وہ ان کو کھا جائے۔ کیا تیری بدکاری کوئی چھوٹی بات تھی۔
21کہ تو نے میرے بچوں کو بھی ذبح کیا اور ان کو بتوں کےلئے آگ کے حوالہ کیا؟
22اور تو نے اپنی تمام مکروہات اور بدکاری میں اپنے بچپن کے دنوں کو جب کہ تو ننگی اور برہنہ اپنے خون میں لوٹتی تھی کبھی یاد نہ کیا۔
23اور خداوند خدا فرماتا ہے کہ اپنی ساری بدکاری کے علاوہ افسوس ! تجھ پر افسوس !
24تو نے اپنے لئے گنبد بنایا اور ہر ایک بازار میں اونچا مقام تیار کیا۔
25تو نے راستہ کے ہر کونے پر اپنا اونچا مقام تعمیر کیا اور اپنی خوبصورتی کو نفرت انگیز کیا اور ہر ایک راہ گذر کےلئے اپنے پاﺅں پسارے اور بدکاری میں ترقی کی ۔
26اور تو نے اہل مصر اپنے پڑوسیوں سے جو بڑے قد آور ہیں بدکاری کی اور اپنی بدکاری کی کثرت سے مجھے غضب ناک کیا ۔
27پس دیکھ میں نے اپنا ہاتھ تجھ پر چلایا اور تیرے وظیفہ کو کم کردیا اور تجھے تیری بدخواہ فلستیوں کی بیٹیوں کے قابو میں کر دیا جو تیری خراب روش سے شرمندہوتی تھیں۔
28پھر تو نے اہل اسور سے بدکاری کی کیونکہ تو سیر نہ ہوسکتی تھی ۔ ہا ںتو نے ان سے بھی بدکاری کی پر تو بھی تو آسودہ ہ ہوئی۔
29اور تو نے ملک کعنان سے کسدیوں کے ملک تک اپنی بدکاری کو پھیلایا لیکن اس سے بھی سیر نہ ہوئی۔
30خداوند خدا فرماتا ہے تیرا دل کیسا بے اختیار ہے کہ تو یہ سب کچھ کرتی ہے جو بے لگام فاحشہ عورت کا کام ہے ۔
31اس لئے کہ تو ہر ایک سڑک کے سرے پر اپنا گنبد بناتی ہے اور ہر ایک بازار میں اپنا اونچا مقام تیار کرتی ہے اور تو کسبی کی مانند نہیں کیونکہ تو اجرت لینا حقیر جانتی ہے۔
32بلکہ بدکار بیوی کی مانند ہے جو اپنے شوہر کے عوض غیروں کو قبول کرتی ہے۔
33لوگ سب کسبیو ں کو ہدعے دیتے ہیں پر تو اپنے یاروں کو ہدعے اور تحفے دیتی ہے تا کہ وہ چاروں طرف سے تیرے پاس آئیں اور تیرے ساتھ بدکاری کریں۔
34اور تو بدکاری میں اور عورتوں کی مانند نہیں کیونکہ بدکاری کےلئے تیری پیچھے کوئی نہیں آتا۔ تو اجرت نہیں لیتی بلکہ خود اجرت دیتی ہے ۔ پس تو انوکھی ہے ۔
35اس لئے اے بدکار تو خداوند کا کلام سن ۔
36خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تیری ناپاکی بہہ نکلی اور تیری برہنگی تیری بدکای کے باعث جو تو نے اپنے یاروں سے کی اور تیرے سب نفرتی بتوں کے سبب سے اور تیرے بچوں کے خون کے سبب سے جو تو نے ان کے آگے گذرانہ ظاہر ہوگئی۔
37اس لئے دیکھ میں تیرے سب یاروں کو جن کو تو لذیز تھی اور ان سب کو جن کو تو چاہتی تھی اور ان سب کو جن سے تو کینہ رکھتی ہے جمع کروں گا۔ میں ان کو چاروں طرف سے تیری مخالفت پرفراہم کروں گا اور ان کے آگے تیری برہنگی کھول دوں گا تاکہ وہ تیری تمام برہنگی دیکھیں۔
38اور میں تیری ایسی عدالت کروں گا جیسی بے وفا اور خونی بیوی کی اور میں غضب اور غیرت کی موت تجھ پر لاﺅں گا ۔
39اور میں تجھے ان کے حوالہ کر دوں گااور وہ تیرے گنبد اور اونچے مقاموں کو مسمار کریں گے اور تیرے کپڑے اتاریں گے اور تیرے خوشنما زیور چھین لیں گے اور تجھے ننگی اور برہنہ چھوڑ جائیں گے۔
40اور وہ تجھ پر ایک ہجوم چڑھا لائیں گے اور تجھے سنگسار کریں گے اور اپنی تلواروں سے تجھے چھید ڈالیں گے۔
41اور وہ تیرے گھر آگ سے جلائیں گے اور بہت سی عورتوں کے سامنے تجھے سزا دیں گے اور میں تجھے بدکاری سے روک دوں گا اور تو پھر اجرت نہ دے گی۔
42تب میرا قہر تجھ پر دھیما ہوجائے گا اور میری غیرت تجھ سے جاتی رہے گی اور میں تسکین پاﺅں گا اور پھر غضب ناک نہ ہوں گا ۔
43چونکہ تو نے اپنے بچپن کے دنوں کو یاد نہ کیا اور ان سب باتوں سے مجھ کو افروختہ کیا اس لئے خداوند خدا فرماتا ہے دیکھ میں تیری بد راہی کا نتیجہ تیرے سر پر لاﺅں گا اور تو آگے کو اپنے سب گھنونے کاموں کے علاوہ ایسی بد ذاتی نہیں کر سکے گی۔
44دیکھ سب مثل کہنے والے تیری بابت یہ مثل کہیں گے کہ جیسی ماں ویسی بیٹی۔
45تو اپنی اس ماں کی بیٹی ہے جواپنے شوہر اور اپنے بچوں سے گھن کھاتی تھی اور تو اپنی ان بہنوں کی بہن ہے جو اپنے شوہروں اور اپنے بچوں سے نفرت رکھتی تھی تیری ماں حتی اور تیرا باپ اموری تھا ۔
46اور تیری بڑی بہن سامریہ ہے جو تیری بائیں طرف رہتی ہے۔ وہ اور اس کی بیٹیاں اور تیری چھوٹی بہن جو تیری دہنی طرف سدوم اور اس کی بیٹیاں ہیں۔
47لیکن تو فقط ان کی راہ پر نہیں چلی اور صرف انہی کے سے گھنونے کام نہیں کئے کیونکہ یہ تو گویا چھوٹی بات تھی بلکہ تو اپنی تمام روشوں میں ان سے بدتر ہوگئی۔
48خداوند خدا فرماتاہے مجھے اپنی حیات کی قسم کہ تیری بہن سدوم نے ایسا نہیں کیا۔ نہ اس نے نہ اس کی بیٹیوں نے جیسا تو نے اور تیری بیٹیوں نے کیا ہے۔
49دیکھ تیری بہن سدوم کی تقصیر یہ تھی غرور اور روٹی کی سیری اور راحت کی کثرت اس میں اور اس کی بیٹیوں میں تھی۔ اس نے غریب اور محتاج کی دستگیری نہ کی ۔ اور وہ متکبر تھیں اور نہوں نے میرے حضور گھنونے کام کئے اس لئے میں جب دیکھا تو ان کو اکھاڑ پھینکا۔
51اور سامریہ نے تیرے گناہوں کے آدھے بھی نہیں کئے۔ تو نے ان کی نسبت اپنی مکروہات کو فراوان کیا ہے اور تو نے اپنی ان مکروہات سے اپنی بہنوں کو بے قصور ٹھہرایا ہے۔
52پس تو آپ اپنی بہنوں کو مجرم ٹھہراتی ہے ان گناہوں کے سبب سے جو تو نے کئے جو ان کے گناہوں سے زیادہ نفرت انگیز ہیں ملامت اٹھا۔ وہ تجھ سے زیادہ بے قصور ہیں۔ پس تو بھی رسوا ہو اور شرم کھا کیونکہ تو نے اپنی بہنوں کو بے قصور ٹھہرایا ہے۔
53اور میں ان کی اسیری کو بدل دوں گا یعنی سدوم اور اسکی بیٹیوں کی اسیری کواور سامریہ اور اسکی بیٹیوں کی اسیری کواور ان کے درمیان تیرے اسیروں کی اسیری کو۔
54تاکہ تو اپنی رسوائی اٹھائے اور اپنے سب کاموں سے پشیمان ہو کیونکہ تو ان کےلئے تسلی کا باعث ہے۔
55اور تیری بہنیں سدوم اور سامریہ اپنی اپنی بیٹیوں سمیت اپنی پہلی حالت پر بحال ہو جائیں گی اور تو اور تیری بیٹیاں اپنی پہلی حالت پر بحال ہو جاﺅ گی۔
56تو نے اپنے گھمنڈ کے دنوں میں اپنی بہن سدوم کا نام تک زبان پر نہ لاتی تھی۔
57اس سے پیشتر کہ تیری شرارت فاش ہوئی جب ارام کی بیٹیوں نے اور ان سب نے جو ان کے آس پاس تھیں تجھے ملامت کی اور فلستیوں کی بیٹیوں نے چاروں طرف سے تیری تحقیر کی۔
58خداوند فرماتا ہے تو نے اپنی بد ذاتی اور گھنونے کاموں کی سزا پائی ۔
59کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تجھ سے جیسا تو نے کیا ویسا ہی سلوک کروں گا اس لئے کہ تو نے قسم کو حقیر جانااور عہد شکنی کی۔
60لیکن میں اپنے اس عہد کو جو میں نے تیری جوانی کے ایام میں تیرے ساتھ باندھا یاد رکھوں گا اور ہمیشہ کا عہد تیرے ساتھ قائم کروں گا۔
61اور جب تو اپنی بڑی اور چھوٹی بہنوں کو قبول کرے گی تب تو اپنی راہوں کو یاد کر کے پشیمان ہوگی اور میں ان کو تجھے دوں گا کہ تیری بیٹیاں ہوں لیکن یہ تیری عہد کے مطابق نہیں۔
62اور میں اپنا عہدتیرے ساتھ قائم کروں گا اور تو جانے گی کہ خداوند مَیں ہوں۔
63تاکہ تو یاد کرے اور پشیمان ہو اور شرم کے مارے پھر کبھی منہ نہ کھولے جبکہ میں سب کچھ جو تو نے کیا ہے معاف کردوں خداوند خدا فرماتا ہے۔