Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
24 verses
1اور خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2کہ اے آدمزاد ایک پہیلی نکال اور ہل اسرائیل سے ایک تمثیل بیان کر۔
3اور کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ایک بڑا عقاب جو بڑے بازو اور لمبے پر رکھتے تھا اور اپنے رنگا رنگ کے بال و پر میں چھپا ہوا لبنان میں آیا اور اس نے دیودار کی چوٹی توڑلی۔
4وہ سب سے اونچی ڈالی توڑ کر سوداگری کے ملک میں لے گیا اور سوداگروں کے شہر میں اسے لگایا۔
5اور وہ اس سر زمین میں سے بیج لے گیا اور اسے زرخیز زمین میں بویا۔ اس نے اسے آب فراوان کے کنارے بید کے درخت کی طرح لگایا ۔
6اور وہ اگا اور انگور کاایک پست قد شاخدار درخت ہوگیا اور اسکی شاخیں اس کی طرف جھکی تھیںاور اسکی جڑیں اس کے نیچے تھیں چنانچہ وہ انگور کا ایک درخت ہوا۔اس کی شاخیں نکلیں اور اس کی کونپلیں بڑھیں۔
7اور ایک اور بڑا عقاب تھا جس کے بازو بڑے بڑے اور پر و بال بہت تھے اور اس تاک نے اپنی جڑیں اس کی طرف جھکائیںاور اپنی کیاریوں سے اپنی شاخیں اس کی طرف بڑھائیں تاکہ وہ اسے سینچے۔
8یہ آب فراوان کے کنارے زرخیز زمین میں لگائی گئی تھی۔ تاکہ اس کی شاخیں نکلیں اور اس میں پھل لگیںاور یہ لفیس تاک ہو۔
9تو کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا یہ برو مند ہوگی؟ کیا وہ اس کو اکھاڑ نہ ڈالے گا؟ اور اس کا پھل نہ توڑ ڈالے گا کہ یہ خشک ہو جائے اور اسکے سب تازہ پتے مرجھا جائیں؟ اسے جڑ سے اکھاڑنے کےلئے بہت طاقت اور بہت سے آدمیوں کی ضرورت نہ ہوگی۔
10دیکھ یہ لگائی تو گئی پر کیا یہ برومند ہوگی؟ کیا یہ پوربی ہوا لگتے ہی بالکل سوکھ نہ جائے گی؟ یہ اپنی کیاریوں ہی میں پژ مردہ ہوجائے گی ۔
11اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
12کہ اس باغی خاندان سے کہہ کیا تم ان باتوں کا مطلب نہیں جانتے ؟ ان سے کہہ دیکھو شاہ بابل نے یروشلیم پر چڑھائی کی اور اسکے بادشاہ کو اور اس کے امرا کو اسیر کر کے اپنے ساتھ بابل کو لے گیا ۔
13اور اس نے شاہی نسل میں سے ایک کو لیا اور اس کے ساتھ عہد باندھا اور اس سے قسم لی اور ملک کے بہادروں کو بھی لے گیا۔
14تاکہ وہ مملکت پست ہو جائے اور پھر سر نہ اٹھا سکے بلکہ اس کے عہد کو قائم رکھنے سے قائم رہے۔
15لیکن اس نے بہت سے آدمی اور گھوڑے لینے کےلئے مصر میں ایلچی بھیج کر اس سے سرکشی کی۔ کیا وہ کامیاب ہوگا؟کیا ایسے کام کرنے والا بچ سکتا ہے؟ کیا وہ عہد شکنی کر کے بھی بچ جائے گا؟
16خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ اسی جگہ جہاں اس بادشاہ کا مسکن ہے جس نے اسے بادشاہ بنایا اور جسکی قسم کو اس نے حقیر جانا اور جس کا عہد اس نے توڑا یعنی بابل میں اسی کے پاس مرے گا۔
17اور فرعون اپنے بڑے لشکر اور بہت سے لوگوں کو لےکر لڑائی میں اس کے ساتھ شریک نہ ہوگاجب دمدمہ باندھتے ہوںاور برج بناتے ��وں کہ بہت سے لوگوں کو قتل کریں۔
18چونکہ اس نے قسم کو حقیر جانا اور عہد کو توڑا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر بھی یہ سب کچھ کیا اس لئے وہ بچ نہ سکے گا۔
19پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ میری ہی قسم ہے جس کو اس نے حقیر جانا اوروہ میرا ہی عہد ہے جو اس نے توڑا۔ میں ضرور یہ اس کے سر پر لاﺅں گا۔
20اور میں اپنا جال اس پر پھیلاﺅں گا اور وہ میرے پھندے میں پکڑا جائے گااور میں اسے بابل کو لے آﺅں گا اور جو میرا گناہ اس نے کیا ہے اس کی بابت میں وہاں اس سے حجت کروں گا۔
21اور اس کے لشکر کے سب فراری تلوار سے قتل ہوں گےاور جو بچ رہیں گے وہ چاروں طرف پراگندہ ہوجائیں گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
22خداوند خدا فرماتا ہے میں بھی دیودار کی بلند چوٹی لوں گا اور اسے لگاﺅں گا۔ پھر اس کی نرم شاخوں میں سے ایک کونپل کاٹ لوں گا اور اسے ایک اونچے اور بلند پہاڑ پر لگاﺅں گا۔
23میں اسے اسرائیل کے اونچے پہاڑ پر لگاﺅں گا اور وہ شاخیں نکالے گا اور پھل لائے گااور عالی شان دیودار ہوگا اور ہر قسم کے پرندے اس کے نیچے بسیں گے۔ وہ اس کی ڈالیوں کے سایہ میں بسیرا کریں گے۔
24اور میدان کے سب درخت جانیں گے کہ میں خداوند نے بڑے درخت کو پست کیااور چھوٹے درخت کو بلند کیا۔ ہرے درخت کو س ±کھا دیا اور سوکھے درخت کو ہرا کیا۔ میں خداوند نے فرمایا اور کر دکھایا۔