Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2کہ تم اسرائیل کے ملک کے حق میںکیوں یہ مثل کہتے ہو کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اولاد کے دانت کھٹے ہوئے؟
3خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم کہ تم پھر اسرائیل میں یہ مثل نہ کہو گے۔
4دیکھ سب جانیں میری ہیں جیسی باپ کی جان ویسی ہی بیٹے کی جان بھی میری ہے۔
5جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔ لیکن جو انسان صادق ہے اور اس کے کام عدالت و انصاف کے مطابق ہیں ۔
6جس نے بتوں کی قربانی سے نہیں کھایا اور بنی اسرائیل کے بتوں کی طرف اپنی آنکھیں نہیں اٹھائیں اور اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک نہیں کیا اور عورت کی ناپاکی کے وقت اس کے پاس نہیں گیا۔
7اور کسی پر ستم نہیں کیا اور قرضدار کا گرو واپس کر دیا اور ظلم سے کچھ چھین نہیں لیا۔ بھوکوں کو اپنی روٹی کھلائی اور ننگوں کو کپڑا پہنایا۔
8سود پر لین دین نہیں کیا۔ بد کرداری سے دستبردار ہوا اور لوگوں میں سچا انصاف کیا۔
9میرے آئن پر چلا اور میرے احکام پر عمل کیا تاکہ راستی سے معاملہ کرے ۔وہ صادق ہے۔ خداوند خدا فرماتا ہے وہ یقینا زندہ رہے گا۔
10پر اگر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو جو راہزنی یا خونریزی کرے اور ان گناہوں میں سے کوئی گناہ کرے۔
11اور ان فرائض کو بجا نہ لائے بلکہ بتوں کی قربانی سے کھائے اور اپنے ہمسائے کی بیوی کو ناپاک کرے ۔
12غریب اور محتاج پر ستم کرے۔ ظلم کرکے چھین لے۔ گرو واپس نہ لے اور بتوں کی طرف اپنی آنکھیں اٹھائے اور گھنونے کام کرے۔
13سود پر لین دین کرے تو کیا وہ زندہ رہے گا؟ وہ زندہ نہ رہے گا۔ اس نے یہ سب نفرتی کام کئے ہیں۔ وہ یقینا مرے گا۔ اس کا خون اسی پر ہوگا ۔
14لیکن اگر اس کے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہو جو ان تمام گناہوں کو جو اس کا باپ کرتا ہے دیکھے اور خوف کھا کر اس کے سے کام نہ کرے۔
15اور بتوں کی قربانی سے نہ کھائے اور بنی اسرائیل کے بتوں کی طرف اپنی آنکھیں نہ اٹھائے اور اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک نہ کرے۔
16اور کسی پر ستم نہ کرے۔ گرو نہ لے اور ظلم کر کے کچھ چھین نہ لے۔ بھوکے کو اپنی روٹی کھلائے اور ننگے کو کپڑے پہنائے۔
17غریب سے دستبردار ہو اور سود پر لین دین نہ کرے پر میرے احکام پر عمل کرے اور میرے آئین پر چلے وہ اپنے باپ کے گناہوں کےلئے نہ مرے گا۔ وہ یقینا زندہ رہے گا۔
18لیکن اس کا باپ چونکہ اس نے بے رحمی سے ستم کیا اور اپنے بھائی کو ظلم سے لوٹا اور اپنے لوگوں کے درمیان برے کام کئے اس لئے وہ اپنی بد کرداری کے باعث مرے گا۔
19تو بھی تم کہتے ہو کہ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ کیوں نہیں اٹھاتا؟ جب بیٹے نے وہی جو جائز اور روا ہے کیا اور میرے سب آئین کو حفظ کر کے ان پر عمل کیا تو وہ یقینا زندہ رہے گا۔ جو جان گناہ کرتی ��ے وہی مرے گی۔
20بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادق کی صداقت اسی کےلئے ہو گی اور شریر کی شرارت شریر کےلئے ۔
21لیکن اگر شریراپنے تمام گناہوں سے جو اس نے کئے ہیں باز آئے اور میرے سب آئین پر چل کر جو جائز اور روا ہے کرے تو وہ یقینا زندہ رہے گا۔ وہ نہ مرے گا۔
22وہ سب گناہ جو اس نے کئے ہیں اس کے خلاف محسوب نہ ہوں گے۔ وہ اپنی راستبازی میں جو اس نے کی زندہ رہے گا۔
23خداوند خدا فرماتا ہے کیا شریرکی موت میں میری خوشی ہے اور اس میں نہیں کہ وہ اپنی روش سے باز آئے اور زندہ رہے؟
24لیکن اگر صادق اپنی صداقت سے باز آئے اور گناہ کرے اور ان سب گھنونے کاموں کے مطابق جو شریر کرتا ہے کرے تو کیا وہ زندہ رہے گا؟ اس کی تمام صداقت جو اس نے کی فراموش ہوگی۔ وہ اپنے گناہوں میں جو اس نے کئے ہیں اور اپنی خطاﺅں میں جو اس نے کی ہیں مرے گا۔
25تو بھی تم کہتے ہو کہ خداوند کی روش راست نہیں۔ اے بنی اسرائیل سنو تو۔ کیا میری روش راست نہیں؟ کیا تمہاری روش نا راست نہیں؟
26جب صادق اپنی صداقت سے باز آئے اور بدکرداری کرے اور اس میں مرے تو وہ اپنی بدکرداری کے سبب سے جو اس نے کی ہے مرے گا۔
27اور اگر شریر اپنی شرارت سے جو وہ کرتا ہے باز آئے اور وہ کام کرے جو جائز اور روا ہے تو وہ اپنی جان زندہ رکھے گا۔
28اس لئے کہ اس نے سوچااور اپنے سب گناہوں سے جو کرتا تھا باز آیا۔ وہ یقینا زندہ رہے گا اور نہ مرے گا۔
29تو بھی بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ خداوند کی روش راست نہیں۔
30پس خداوند خدا فرماتا ہے اے بنی اسرائیل میں ہر ایک کی روش کے مطابق تمہراری عدالت کروں گا توبہ کرو اور اپنے تمام گناہوں سے باز آﺅ تاکہ بدکرداری تماہری ہلاکت کا باعث نہ ہو۔
31ان تمام گناہوں کو جن سے تم گناہگار ہوئے دور کرو اور اپنے لئے نیا دل اور نئی روح پیدا کرو۔ اے بنی اسرائیل تم کیوں ہلاک ہوگئے؟
32کیونکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے مرنے والے کی موت سے شادمانی نہیں ۔ اس لئے باز آﺅ اور زندہ رہو۔