Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1جب یہوداہ بنیمین کے دشمنوں نے سنا کہ وہ جو اسیر ہوئے تھے خداوند اسرائیل کے خدا کے لئے ہیکل کو بنا رہے ہیں۔
2تو وہ زربابل اور آبائی خاندانوں کے سرداروں کے پاس آکر ان سے کہنے لگے کہ ہم کو بھی اپنے ساتھ بنانے دو کیونکہ ہم بھی تہمارے خدا کے طالب ہیں جیسے تم ہو اور ہم شاہ اسور اسرحدون کے دنوں سے جو ہک کو یہوں لایا اس کے لئے قربانی چڑھاتے ہیں۔
3لیکن زربابل اور یشوع اور اسرائیل کے آبائی خاندانوں کے باقی سرداروں نے ان سے کہا کہ تمہارا کام نہیں کہ ہمارے ساتھ خدا کے لئے گھر بناؤ بلکہ ہم آپ ہی مل کر خداوند اسرائیل کے خدا کےلئے اسے بنائیں گے جیسا شاہ فارس خورس نے ہم کو حکم کیا ہے۔(تب ملک کے لوگ یہوداہ کے لوگوں کی مخالفت کرنے اور بناتے وقت ان کو تکلیف دینے لگے۔
5اور شاہ فارس خورس کے جیتے جی بلکہ شاہ فارس خورس دارا کی سلطنت تک ان کے مقڈود کو باطل رکھنے کے لئے ان کے خلاف مشیروں کو اجرت دیتے رہے۔
6اور اخسویرس کے عہد سلطنت یعنی اس کی سلطنت کے شروع میں انہوں نے یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں کی شکایت لکھ بھیجی ۔
7پھر ارتخششتا کے دنوں میں بشلام اور متردات اور طابیل اور اس کے باقی رفیقوں نے شاہ فارس ارتخششتا کو لکھا۔ ان کا خط ارامی حروف اور ارامی زبان میں لکھا تھا۔
8رحوم دیوان اور شمسی منشی نے ارتخششتا بادشاہ کو یروشلم کے خلاف یوں خط لکھا۔
9سورحوم دیوان اور شمسی منشی اوران کے باقی رفیقوں نے جو دینہ اور افارستکہ اور طرفیلہ اور فارس اور ارک اور بابل اور سوسن اور دہ اور عیلام کے تھے۔
10اور باقی ان قوموں نے جن کو اس بزرگ و شریف اسنفر نے پار لا کر شہر سامریہ اور دریاکے اس پار کے باقی علاقہ میں بسایا تھا وغیرہ وغیرہ اس کو لکھا۔
11اس خط کی نقل جو انہوں نے ارخششتا بادشاہ کے پاس بھیجا یہ ہے۔ آپ کے غلام یعنی وہ لوگ جو دریا پار رہتے ہی وغیرہ
12بادشاہ پر روشن ہو کہ یہودی لوگ جو حضور کے پاس سے ہمارے درمیان یروشلم میں آئے ہیں وہ اس باغی اور فسادی شہر کو بنارہے ہیں۔ چنانچہ دیواروں کو ختم اور بنیادوں کی مرمت کر چکے ہیں۔
13سو بادشاہ پر روشن ہو جائے کہ اگر یہ شہر بن جائے اور فصیل تیار ہو جائے تو وہ خراج چنگی یا محصول نہیں دیں گے اور آخر بادشاہوں کو نقصان ہو گا۔
14سو چونکہ ہم حضور کے دولت خانہ کا نمک کھاتے ہیں اور مناسب نہیں کہ ہمارے سامنے بادشاہ کی تحقیر ہو اس لئے ہم نے لکھ کر بادشاہ کو اطلاع دی ہے۔
15تاکہ حضور کے باپ دادا کے دفتر کی کتاب میں تفتیش کی جائے تو اس دفتر کی کتاب سے حضور کو معلوم ہوگا اور یقین ہو جائیگا کہ یہ شہر فتنہ انگیز شہر ہے جو بادشاہوں اور صوبوں کو نقصان پہنچاتا رہا ہے اور قدیم زمانہ سے اس میں فساد برپا کرتے رہے ہیں۔ اسی سبب سے یہ شہر اجاڑ دیا گیا تھا۔
16اور ہم بادشاہ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ شہر تعمیر ہو اور اس دریا پار کچھ نہ رہے گا۔
17تب بادشاہ نے رحوم دیوان اور شمسی منشی اور ان کے باقی رفیقوں کو جو سامریہ اور دیرا پار کے باقی ملک میں رہتے ہیں یہ جب بھیجا کہ سلام وغیرہ۔
18جو خط تم نے ہمارے پپاس بھیجا وہ میرے حضور صاف صاف پڑھا گیا۔
19اور میں نے حکم دیا اور تفتیش ہوئی اور معلوم ہوا کہ اس شہر نے قدیم زمانہ سے بادشاہوں سے بغاوت کی ہے اور فتنہ اور فساد اس میں ہوتا رہا ہے۔
20اور یروشلم میں زور آور بادشاہ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے دریا پار کے سارے ملک پر حکومت کی ہے اور خراج چنگی اور محصول ان کو دیا جاتا تھا۔
21سو تم حکم جاری کرو کہ یہ لوگ کام بند کریں اور یہ شہر نہ بنے جب تک میری طرف سے فرمان جاری نہ ہو۔
22خبرادار اس میں سستی نہ کرنا۔بادشاہوں کے نقصان ک لئے خرابی کیوں بڑھنے پائے؟۔
23سو جب ارتخششتا بادشاہ کے خط کی نقل رحوم اور شمسی منشی اور ان کے رفیقوں کے سامنے پڑھی گئی تو وہ جلد یہودیوں کے پاس یروشلم کو گئے اور جبراور زور سے ان کو روک دیا۔
24تب خدا کے گھر کا جو یروشلم میں ہے کام موقوف ہوا اور شاہ فارس دارا کی سلطنت کے دوسرے برس تک بند رہا۔