Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1اَے اِسرائیل کے گھرانے ! وہ کلام جو خداوند تم سے کرتا ہے سُنو۔
2خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ تم دیگر اقوام کی روش نہ سیکھو اور آسمانی علامات سے ہر اسان نہ ہو اگرچہ دِیگر اقوام اُن سے ہراسان ہوتی ہیں ۔
3کیونکہ اُنکے آئین بطالت ہیں چنانچہ کوئی جنگل میں کلہاڑی سے درخت کاٹتا ہے جو بڑھئی کے ہاتھ کا کام ہے۔
4وہ اُسے چاندی اور سونے سے آراستہ کرتے ہیں اور اُس میں ہتھوڑوں سے منیحے لگا کر اُسے مضبوط کرتے ہیں تاکہ قائم رہے۔
5وہ کھجور کی مانند مخروطی سُتون ہیں پر بولتے نہیں۔اُنکو اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے ۔ اُن اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے ۔ اُن سے فائدہ بھی نہیں پہنچ سکتا۔
6اَے خداوند ! تیرا کو ئی نظیر نہیں ۔ تو عظیم ہے اور قدرت کے سبب سے تیرا نام بُزرگ ہے۔
7اَے قوموں کے بادشاہ ! کون ہے جو تجھ سے نہ ڈر ے ؟ یقیناًیہ تجھ ہی کو زیبا ہے کیونکہ قوموں کے سب حکیموں میں اُنکی تمام مملکتوں میں تیرا ہمتا کوئی نہیں۔
8مگر وہ سب حیوان خصلت اور احمق ہیں۔بُتوں کی تعلیم کیا ۔ وہ تو لکڑی ہیں! ۔
9تر سیس ؔ سے چاند ی کا پیٹا ہوا پّتر اور اُوفاز ؔ سے سونا آتا ہے جو کاریگر کی کاریگر ی اور سُنار کی دستکاری ہے۔ اُنکا لباس نیلا اور ارغوانی ہے اور یہ سب کچھ ماہر اُستادوں کی دستکاری ہے۔
10لیکن خداوند سّچا خدا ہے۔ وہ زِندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے۔ اُسکے قہر سے زمین تھرتھراتی ہے اور قوموں میں اُسکے قہر کی تاب نہیں ۔
11تم اُن سے ےُوں کہنا کہ یہ معبود جنہوں نے آسمان کے نیچے سے نیست ہو جائینگے۔
12اُسی نے اپنی قدرت سے زمین کو بنایا ۔ اُسی نے اپنی حکمت سے جان کو قائم کیا اور اپنی عقل سے آسمان کو تان دِیا ہے۔
13اُسکی آواز سے آسمان میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور وہ زمین کی انتہا سے بُخارات اُٹھاتا ہے۔ اور وہ بارش کے لئے بجلی چمکاتا ہے اور اپنے خزانوں سے ہوا چلاتا ہے۔
14ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہو گیا ہے۔ ہر ایک سُنار اپنی کھودی ہُوئی مُورت سے رُسوا ہے کیونکہ اُسکی ڈھالی ہُوئی مُورت باطل ہے۔ اُن میں دم نہیں۔
15وہ باطل فعل فریب ہیں ۔ سزا کے وقت برباد ہو جائینگی ۔
16یعقوب کا بخرہ اُنکی مانند نہیں کیونکہ وہ سب چیزوں کا خالق ہے اور اِسرائیل اُسکی میراث کا عصاہے ۔ ربُّ الافواج اُسکا نام ہے۔
17اَے مُحاصرہ میں رہنے والی ! زمین پر سے اپنی گٹھری اُٹھالے ۔
18کیونکہ خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس ملک کے باشندوں کو اب کی بار گویا فلا خن میں رکھکر پھینک دُونگا اور اُنکو اَیسا تنگ کُرونگا کہ جان لیں ۔
19ہائے ��یری خستگی ! میرا زخم درد ناک ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ یقیناًمجھے یہ دُکھ برادشت کرنا ہے ۔
20میرا خیمہ غارت کیا گیا اور میری سب طنا ہیں توڑ دی گئیں ۔ میرے بچے میرے پاس سے چلے گئے اور وہ ہیں نہیں ۔اب کوئی نہ رہا جو میرا خیمہ کھڑا کرے اور میرے پردے لگائے ۔
21کیونکہ چرواہے حیوان بن گئے اور خداوند کے طالب نہ ہُوئے اِسلئےِ وہ کامیاب نہ ہُوئے اور اُنکے سب گلّے تِتّر بتر ہوگئے ۔
22دیکھ شمال کے ملک سے بڑے غوغا اور ہنگامہ کی آواز آتی ہے تاکہ یہوادہؔ کے شہروں کو اُجاڑ کر گیدڑوں کا مسکن بنائے۔
23اَے خداوند ! میں جانتا ہوں کہ اِنسا ن اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا ۔
24اَے خداوند ! مجھے تنبیہ کر پر اندازہ سے ۔ اپنے قہر سے نہیں ۔ نہ ہو کہ تو مجھے نا بودہ کر دے ۔
25اَے خداوند! اُن قوموں پر جو تجھے نہیں جا نتیں اور اُن گھرانوں پر جو تیرا نام نہیں لیتے اپنا قہر اُنڈیل دے کیونکہ وہ یعقوب کو کھا گئے ۔ وہ اُسے نگل گئے اور چٹ کر گئے اور اُسکے مسکن کو اُجاڑ دِیا۔