Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
20 verses
1یہ وہ کلام ہے جو خداوند کی طرف سے یرمیاہ ؔ پر نازل ہُوا اور اُس نے فرمایا۔
2کہ تم اِس عہد کی باتیں سُنو اور بنی یہوداہؔ اور یروشیلم کے باشندوں سے بیان کرو۔
3اور تو اُن سے کہہ خداوند اِسرائیل کا خدا ےُوں فرماتا ہے کہ لعنت اُس انسان پر جو اس عہد کی باتیں نہیں سُنتا ۔
4جو میں نے تمہارے باپ دادا سے اُس وقت فرمائیں جب میں اُنکو ملک مصر سے لوہے کے تنور سے یہ کہکر نکال لایا کہ تم میری آواز کی فرمانبر داری کرو اور جو کچھ میں نے تم کو حکم دیا ہے اُس پر عمل کرو تو تم میرے لوگ ہوگے اور میں تمہارا خدا ہونگا ۔توکہ میں اُس قسم کو جو میں نے تمہارے باپ دادا سے کھائی کہ میں اُنکو اَیسا ملک دُونگا جس میں دُودھ اور شہد بہتا ہو جیسا کہ آج کے دِن ہے پورا کروں ۔ تب میں نے جواب میں کہا اَے خداوند ! آمین ۔
6پھر خداوند نے مجھے فرمایا کہ یہوداہؔ کے شہروں میں اور یروشیلم کے کُوچوں میں ان سب باتوں کی منادی کر اور کہہ کہ اِس عہد کی باتیں سُنو اور اُن پر عمل کرو۔
7کیونکہ میں تمہارے باپ دادا کو جس دن سے ملک مصر سے نکال لایا آج تک تاکید کرتا اور بروقت جتاتا اور کہتا رہا کہ میری سُنو۔پر اُنہوں نے کان نہ لگا یا اور شنوا نہ ہوئے بلکہ ہر ایک نے اپنے بُرے دل کی سختی کی پیروی کی۔ اِسلئےِ میں نے اس عہد کی سب باتیں جن پر عمل کرنے کا اُنکو حکم دیا تھا اور اُنہوں نے نہ کیا اُن پر پوری کیں۔
9تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ یہوادہؔ کے لوگوں اور یروشیلم کے باشندوں میں سازش پائی جاتی ہے ۔
10وہ اپنے باپ دادا کی بدکرداری کی طرف جنہوں نے میری باتیں سنُنے سے اِنکار کیا پھر گئے اور غیر معبودوں کے پیرو ہو کر اُنکی عبادت کی۔ اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے نے اُس عہد کو جومیں نے اُنکے باپ دادا سے کیا تھا توڑ دیا۔
11اِسلئےِ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اُن پر اَیسی بلا لاؤنگا جس سے وہ بھاگ نہ سکینگے اور وہ مجھے پکار ینگے پر میں اُنکی نہ سُنونگا ۔
12تب یہوداہؔ کے شہر اور یروشیلم کے باشندے جا ئینگے اور اُن معبودوں کو جنکے آگے وہ بخور جلاتے ہیں پکار ینگے پر وہ مصیبت کے وقت اُنکو ہرگز نہ بچائینگے ۔
13کیونکہ اَے یہوداہؔ ! جتنے تیرے شہر ہیں اُتنے ہی تیرے معبود ہیں اور جتنے یروشیلم کے کوچے ہیں اُتنے ہی تم نے اُ س رُسوائی کے باعث کے لئے مذبحے بنائے یعنی بعل کے لئے بخور جلانے کی قربانگا ہیں۔
14پس تو ان لوگوں کے لئے دُعا نہ کر اور نہ اِنکے واسطے اپنی آواز بلند کر اور نہ منت کر کیونکہ جب یہ اپنی مصیبت میں مجھے پُکار ینگے میں اُنکی نہ سُنونگا۔
15میرے گھر میں میری محبوبہ کو کیا کام جبکہ وہ بکثرت شرارت کرچکی ؟ کیا منت اور مقدس گو شت تیری شرارت کو دُور کر ینگے ؟ کیا تو اُنکے ذریعہ سے رہائی پائیگی ؟ تو شرارت کرکے خوش ہوتی ہے۔
16خداوند نے خوش میوہ ہرا زیتون تیرا نام رکھا ۔ اُ س نے بڑے ہنگامہ کی آواز ہوتے ہی اُسے آگ لگا دی اور اُسکی ڈالیا ں توڑ دی گئیں ۔
17کیونکہ ربُّ الافواج نے جس نے تجھے لگایا تجھ پر بلا کا حکم کیا ۔ اُس بدی کے سبب سے جو اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے نے اپنے حق میں کی کہ بعل ؔ کے لئے بخور جلا کر مجھے غضبناک کیا۔
18خداوند نے مجھ پر ظاہر کیا اور میں جان گیا۔ تب تو نے مجھے اُنکے کام دِکھائے ۔
19لیکن میں اُس پالتو بّرہ کی مانند تھا جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور مجھے معلوم نہ تھا کہ اُنہوں نے میرے خلاف منصوبے باندھے ہیں کہ آؤ درخت کو اُسکے پھل سمیت نیست کریں اور اُسے زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالیں تاکہ اُسکے نام کا ذکر تک باقی نہ رہے۔
20اَے ربُّ الافواج ! جو صداقت سے عدالت کرتا ہے جو دِل ودماغ کو جانچتا ہے اُن سے اِنتقام لیکر مجھے دِکھا کیونکہ میں نے اپنا دعویٰ تجھ ہی پر ظاہر کیا ہے۔
21اِسلئےِ خداوند فرماتا ہے عنتوت کے لوگوں کی بابت جو یہ کہکر تیری جان کے خواہاں ہیں کہ خداوند کا نام لیکر نُبوت نہ کر تاکہ تو ہمارے ہاتھ سے نہ مارا جائے ۔ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اُنکو سزا دُونگا ۔ جوان تلوار سے مارے جائینگے۔ اُنکے بیٹے بیٹیاں کال سے مرینگے۔
22اور اُن میں سے کوئی باقی نہ رہیگا کیونکہ میں عنتوت ؔ کے لوگوں پر اُنکی سزا کے سال میں آفت لاؤ نگا ۔