Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
38 verses
1وہ کلام جو شاہ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں جو شاہِ بابلؔ نبوُکدرضرؔ کا پہلا برس تھا یہوداہؔ کے سب لوگوں کی بابت یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2جو یرمیاہؔ نبی نے یہوداہؔ کے سب لوگوں اور یروشیلمؔ کے سب باشندوں کو سنایا اور کہا۔
3کہ شاہ یہوداہؔ یوسیاہؔ بن امون ؔ کے تیرھویں برس سے آج تک یہ تئیس برس خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا اور میں تم کو سناتا اور بروقت جتاتا رہا پر تم نے نہ سنا۔
4اور خداوند نے اپنے سب خدمتگذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا ۔اُس نے اُنکو بروقت بھیجا پر تم نے نہ سنا اور نہ کان لگایا۔
5اُنہوں نے کہا کہ تم سب اپنی اپنی بُری راہ سے اور اپنے بُرے کاموں سے باز آؤ اور اُس ملک میں جو خداوند نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو قدیم سے ہمیشہ کے لئے دیا ہے بسو۔
6اور غیر معبودوں کی پیروی نہ کروکہ اُنکی عبادت وپرستیش کرو اور اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مجھے غضبناک نہ کرو اور میں تم کو کچھ ضرر نہ پہنچاؤنگا ۔
7پر خداوند فرماتا ہے تم نے میری نہ سُنی تاکہ اپنے ہاتھوں کے کاموں سے اپنے زیان کے لئے مجھے غضبناک کرو۔
8اِسلئے ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میری بات نہ سُنی ۔
9دیکھو میں تمام شمالی قبائل کو اور اپنے خدمتگذار شاہ بابلؔ نبوکدؔ رضر کو بلا بھیجونگا خداوند یوں فرماتا ہے اور میں انکو اِس ملک اور اسکے باشندوں پر اور ان سب قوموں پر جو آس پاس ہیں چڑھالاؤنگا اور انکو بالکل نیست ونابود کردونگا اور اُنکو حیرانی اور سسکار کاباعث بناؤنگا اور ہمیشہ کے لئے ویران کرونگا۔
10بلکہ میں ان میں سے خوشی و شادمانی کی آواز دُلہے اور دُلہن کی آواز چکی کی آوا ز اور چراغ کی روشنی موقوف کردونگا ۔
11اور یہ ساری سر زمین ویرانہ اور حیرانی کا باعث ہو جائیگی اور یہ قومیں ستر برس تک شاہ بابل ؔ کی غلامی کرینگی ۔
12خداوند فرماتا ہے جب ستر برس پورے ہونگے تو میں شاہ بابلؔ کو اور اُس قوم کو اور کسدیوں کے ملک کو اُنکی بدکرداری کے سبب سے سزا دونگا اور میں اُسے ایسا اُجاڑؤنگاکہ ہمیشہ تک ویران رہے۔
13اور میں اُس ملک پر اپنی سب باتیں جو میں نے اُسکی بابت کہیں یعنی وہ سب جو اِس کتاب میں لکھی ہیں جو یرمیاہؔ نے نبوت کرکے سب قوموں کو کہہ سنا ئیں پوری کرونگا۔
14کہ اُ ن سے ہاں اُن ہی سے بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ غلام کی سی خدمت لینگے ۔ تب میں اُنکے اعمال کے مطابق اور اُنکے ہاتھوں کے کاموں کے مطابق اُنکو بدلہ دونگا۔
15چونکہ خداوند اِسراؔ ئیل کے خدا نے مجھے فرمایا کہ غضب کی مے کا یہ پیالہ میرے ہاتھ سے لے اور اُن سب قوموں کو جنکے پاس میں تجھے بھیجتا ہوں پلا۔
16کہ وہ پئیں اور لڑکھڑائیں اور اُس تلوار کے سبب سے جو میں اُنکے درمیان چلاؤنگابے حواس ہوں ۔
17اِسلئے میں نے خداوند کے ہاتھ سے وہ پیالہ لیا اور اُن سب قوموں کو جنکے پاس خداوند نے مجھے بھیجا تھا پلایا ۔
18یعنی یروشیلم ؔ اور یہوداہؔ کے شہروں کو اور اُسکے بادشاہوں اور اُمرا کو تاکہ وہ برباد ہوں اور حیرانی اور سسکار اور لعنت کا باعث ٹھہریں جیسے اب ہیں ۔
19شاہِ مصرؔ فرعونؔ کو اور اُسکے ملازموں اور اُسکے اُمرا اور اُسکے سب لوگوں کو۔
20اور سب ملے جلے لوگو ں اور عوض ؔ کی زمین کے سب بادشاہوں اور فلستیوں کی سر زمین کے سب بادشاہوں اور اسقلونؔ اور غزہؔ اور عقرونؔ اور اشدودؔ کے باقی لوگوں کو۔
21ادومؔ اور موآبؔ اور بنی عمونؔ کو ۔
22اور صورؔ کے سب بادشاہوں اور صیداکے سب بادشاہوں اور سمندر پار کے بحری ممالک کے بادشاہوں کو۔
23دوانؔ اور تیماؔ اور بوزؔ اور اُن سب کو جو گاودم داڑھی رکھتے ہیں ۔
24اور عرب ؔ کے سب بادشاہوں اور اُن ملے جلے لوگوں کے سب بادشاہوں کو جو بیابان میں بستے ہیں ۔
25اور زمریؔ کے سب بادشاہوں اور عیلام ؔ کے سب بادشاہوں اور مادی ؔ کے سب بادشاہوں کو۔
26اور شمال کے سب بادشاہوں کو جو نزدیک اور جو دور ہیں ایک دوسرے کے ساتھ اور دُنیا کی سب سلطنتوں کو جو رُوی زمین پر ہیں اور اُنکے بعد شیشک کا بادشاہ پئیگا ۔
27اور تو اُن سے کہیگا کہ اِسراؔ ئیل کا خدا ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم پیو اور مست ہو اور قے کرو اور گرپڑو اور پھر نہ اُٹھو ۔ اُس تلوار کے سبب سے جو میں تمہارے درمیان بھیجو نگا۔
28اور یوں ہو گا کہ اگر وہ پینے کو تیرے ہاتھ سے پیالہ لینے سے اِنکار کریں تو اُن سے کہنا کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ یقیناًتم کو پینا ہوگا۔
29کیونکہ دیکھ میں اِس شہر پر جو میرے نام سے کہلاتا ہے آفت لاناشروع کرتا ہوں اور کیا تم صاف بے سزا چھوٹ جاؤ گے ؟ تم بے سزا نہ چھوٹو گے کیونکہ میں زمین کے سب باشندوں پر تلوار کو طلب کرتا ہوں ربُّ الافواج فرماتا ہے ۔
30اِسلئے تو یہ سب باتیں اُنکے خلاف نبوت سے بیان کر اور اُن سے کہدے کہ خداوند بلند ی پر سے گر جیگا اور اپنے مقدس مکان سے للکاریگا ۔
31ایک غوغازمین کی سرحدوں تک پہنچا ہے کیونکہ خداوند قوموں سے جھگڑیگا ۔وہ تمام بشر کو عدالت میں لائیگا ۔وہ شریروں کو تلوار کے حوالہ کریگا خداوند فرماتا ہے ۔
32ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ قوم سے قوم تک بلا نازل ہوگی اور زمین کی سرحدوں سے ایک سخت طوفان برپا ہوگا۔
33اور خداوند کے مقتول اُس روز زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پڑے ہونگے اُن پر کوئی نوحہ نہ کر یگا ۔نہ وہ جمع کئے جائینگے نہ دفن ہونگے وہ کھاد کی طرح رُوی زمین پر پڑے رہینگے ۔
34اے چرواہو واویلا کرو اور چلاؤ اور اے گلہ کے سردارو تم خود راکھ میں لیٹ جاؤ کیونکہ تمہارے قتل کے ایا م آپہنچے ہیں۔میں تم کو چکناچور کرونگا ۔تم نفیس برتن کی طرح گرجاؤ گے ۔
35اور نہ چراوہوں کو بھاگنے کی کوئی راہ ملیگی نہ گلہ کے سرداروں کو بچ نکلنے کی ۔
36چرواہوں کے نالہ کی آواز اور گلہ کے سرداروں کو نوحہ ہے کیونکہ خداوند نے اُنکی چراگاہ کو برباد کیا ہے ۔
37اور سلامتی کے بھیڑ خانے خداوند کے قہر شدیدسے برباد ہوگئے ۔
38وہ جوان شیز کی طرح اپنی کمینگاہ سے نکلا ہے۔ یقیناًستمگر کے ظلم سے اور اُسکے قہر کی شدت سے اُنکا ملک ویران ہوگیا۔