Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
24 verses
1شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بنِ یوسیاہؔ کی بادشاہی کے شروع میں یہ کلام خداوند کی طرف سے نازل ہوا۔
2کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو خداوند کے گھر کے صحن میں کھڑا ہو اور یہوداہؔ کے سب شہروں کے لوگوں سے جو خداوند کے گھر میں سجدہ کرنے کو آتے ہیں وہ سب باتیں جنکا میں نے تجھے حکم دیا ہے کہ اُن سے کہے کہدے ۔ایک لفظ بھی کم نہ کر ۔
3شاید وہ شنوا ہوں اور ہر ایک اپنی بُری روش سے باز آئے اور میں بھی اُس عذاب کو جو اُنکی بد اعمالی کے باعث اُن پر لانا چاہتا ہوں باز رکھوں ۔
4اور تو اُن سے کہنا خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر تم میری نہ سُنو گے کہ میری شریعت پر جو میں نے تمہارے سامنے رکھی عمل کرو۔
5اور میرے خدمتگذارنبیوں کی باتیں سُنو جنکو میں نے تمہارے پاس بھیجا ۔ میں نے اُنکو بروقت بھیجا پر تم نے نہ سُنا۔
6تو میں اِس گھر کو سیلاؔ کی مانند کر ڈالونگا اور اِس شہر کو زمین کی سب قوموں کے نزدیک لعنت کا باعث ٹھہراؤنگا ۔
7چنانچہ کا ہنوں اور نبیوں اور سب لوگوں نے یرمیاہؔ کو خداوند کے گھر میں یہ باتیں کہتے سُنا۔
8اور یو ں ہوا کہ جب یرمیاہؔ وہ سب باتیں کہہ چُکا جو خداوند نے اُسے حکم دیا تھا کہ سب لوگوں سے کہے تو کاہنوں اور نبیوں اور سب لوگوں نے اُسے پکڑا اور کہا کہ تو یقیناًقتل کیا جائیگا ۔
9تو نے کیوں خداوند کا نام لیکر نبوت کی اور کہا کہ یہ گھر سیلاؔ کی مانند ہو گا اور یہ شہر ویران اور غیر آباد ہو گا؟ اور سب لوگ خداوند کے گھر میں یرمیاہؔ کے پاس جمع ہوئے۔
10اور یہوداہؔ کے اُمرا یہ باتیں سُنکر بادشاہ کے گھر سے خداوند کے گھر میں آئے اور خداوند کے گھر کے نئے پھاٹک کے مدخل پر بیٹھے ۔
11اور کاہنو ں اور نبیوں نے اُمرا سے اور سب لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ شخص واجب القتل ہے کیونکہ اِس نے اِس شہر کے خلاف نبوت کی ہے جیسا کہ تم نے اپنے کانوں سے سُنا ۔
12تب یرمیاہؔ نے سب اُمرا اور تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ خداوند نے مجھے بھیجا کہ اِس گھر اور اِس شہر کے خلاف وہ سب باتیں جو تم نے سُنی ہیں نبوت سے کہوں ۔
13اِسلئے اب تم اپنی روش اور اپنے اعمال کو دُرست کرو اور خداوند اپنے خدا کی آواز کے شنوا ہو تاکہ خداوند اُس عذاب سے جسکا ررتمہارے خلاف اِعلان کیا ہے باز رہے ۔
14اور دیکھو میں تمہارے قابو میں ہوں ۔ جو کچھ تمہاری نظر میں خوب و راست ہو مجھ سے کرو ۔
15پر یقین جانو کہ اگر تم مجھے قتل کروگے تو بے گناہ کا خون اپنے آپ پر اور اِس شہر پر اور اِسکے باشندوں پر لاؤ گے کیونکہ درحقیقت خداوند نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تمہارے کانوں میں یہ سب باتیں کہوں ۔
16تب اُمرا اور سب لوگوں نے کاہنوں اور نبیوں سے کہا کہ یہ شخص واجب القتل نہیں کیونکہ اُس نے خداوند ہمارے خدا کے نام سے ہم سے کلام کیا ۔
17تب ملک کے چند بُزرگ اُٹھے اور کل جماعت سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ۔
18کہ میکا ہؔ مورشتی نے شاہِ یہوداہؔ حزقیاہؔ کے ایاّم میں نبوت کی اور یہوداہؔ کے سب لوگوں سے مخاطب ہو کر یوں کہا کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ صیون کھیت کی طرح جوتا جائیگا اور یروشیلم ؔ کھنڈ ر ہوجائیگا اور اِس گھر کا پہاڑ جنگل کی اُونچی جگہوں کی مانند ہو گا۔
19کیا شاہ یہوداہ حزقیاہؔ اور تمام یہوداہؔ نے اُسکو قتل کیا؟کیا وہ خداوند سے نہ ڈرا اور خداوند سے مناجات نہ کی اور خداوند نے اُس غداب کو جسکا اُنکے خلاف اِعلان کیا تھا باز نہ رکھا؟ پس یوں ہم نے اپنی جانوں پر بڑی آفت لائینگے ۔
20پھر ایک اور شخص نے خداوند کے نام سے نبوت کی یعنی اُوریاہؔ بن سمعیاہؔ نے جو قریتؔ یعر یم کا تھا۔اُس نے اِس شہر اور ملک کے خلاف یرمیاہؔ کی سب باتوں کے مطابق نبوت کی ۔
21اور جب یہوؔ یقیم بادشاہ اور اُسکے سب جنگی مردوں اور اُمرا نے اُسکی باتیں سُنیں تو بادشاہ نے اُسے قتل کرنا چاہا لیکن اُوریاہؔ یہ سُنکر ڈرا اور مصرؔ کو بھاگ گیا۔
22اور یہوؔ یقیم بادشاہ نے چند آدمیوں یعنی اِلناؔ تن بن عکبُوؔ ر اور اُسکے ساتھ کچھ اور آدمیوں کومصرؔ میں بھیجا ۔
23اور وہ اُور یاہؔ کو مصرؔ سے نکال لائے اور اُسے یہوؔ یقیم بادشاہ کے پاس پہنچا یا اور اُس نے اُسکو تلوار سے قتل کیا اور اُسکی لاش کو عوام کے قبرستان میں پھنکوادیا۔
24پر اخیقاؔ م بن ساؔ فن یرمیاہؔ کا دستگیر تھا تاکہ وہ قتل ہونے کے لئے لوگوں کے حوالہ نہ کیا جائے۔