Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
17 verses
1اور اُسی سال شاہِ یہوداہؔ صدقیاؔ ہ کی سلطنت کے شروع میں چوتھے برس کے پانچویں مہینے میں یوں ہوا کہ جبعونی عز ور ؔ کے بیٹے حننیاہؔ نبی نے خداوندکے گھر میں کاہنوں اور سب لوگوں کے سامنے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔
2ربُّ الافواج اِسرائیلؔ کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے شاہِ بابلؔ کا جُوا توڑاڈالا ہے۔
3دو ہی برس کے اندر میں خداوند کے گھر کے سب ظروف جو شاہِ بابلؔ نبوکدنضر ؔ اِس مکان سے بابل ؔ کو لے گیا اِسی مکان میں واپس لاؤنگا۔
4شاہِ یہوداہؔ یکونیاہؔ بن یہویقیم ؔ کو اور یہوداہ کے سب اسیروں کو جو بابلؔ کو لے گئے تھے پھر اِسی جگہ لاؤنگا ۔خداوند فرماتا ہے کیونکہ میں شاہِ بابلؔ کے جوئے کو توڑ ڈالونگا۔
5تب یرمیاہ ؔ نبی نے کاہنوں اور سب لوگوں کے سامنے جو خداوند کے گھر میں کھڑے تھے حننیاہؔ نبی سے کہا ۔
6ہاں یرمیاہؔ نبی نے کہا آمین ۔خداوند اَیسا ہی کرے ۔خداوند تیری باتوں کو جو تو نے نبوت سے کہیں پُورا کرے کہ خداوند کے گھر کے ظروف کواور سب اِسیروں کو بابلؔ سے اِس مکان میں واپس لائے ۔
7تو بھی اب یہ بات جو میں تیرے اور سب لوگوں کے کانوں میں کہتا ہوں سُن ۔
8اُن نبیوں نے مجھ سے اور تجھ سے پہلے گذشتہ زمانہ میں تھے بہت سے ملکوں اور بڑی بڑی سلطنتو ں کے حق میں جنگ اور بلا اور وبا کی نبوت کی ہے ۔
9وہ نبی جو سلامتی کی خبر دیتا ہے جب اُس نبی کا کلام پورا ہو جائے تو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت خداوند نے اُسے بھیجا ہے۔
10تب حننیاہؔ نبی نے یرمیاہؔ نبی کی گردن پر سے جوا اُتارا اور اُسے توڑ ڈالا ۔
11اور حننیاہؔ نے سب لوگوں کے سامنے اِس طرح کلام کیا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں اِسی طرح شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ کو جوا سب قوموں کی گردن پر سے دو ہی برس کے اندر توڑ ڈالونگا ۔ تب یرمیاہؔ نبی نے اپنی راہ لی ۔
12جب حننیاہؔ نبی یرمیاہ نبی کی گردن پر سے جوا توڑ چکا تھا تو خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
13کہ جا اور حننیاہؔ سے کہہ کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو نے لکڑی کے جُوؤں کو تو توڑا پر اُنکے عوض میں لوہے کے جوئے بناؤئے ۔
14کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کاخدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے اِن سب قوموں کی گردن پر لوہے کا جوا ڈال دیا ہے تاکہ وہ شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ کی خدمت کریں ۔ پس وہ اُسکی خدمتگذاری کرینگی اور میں نے میدان کے جانور بھی اُسے دے دِئے ہیں ۔
15تب یرمیاہؔ نبی نے حننیاہؔ نبی سے کہا اَے حننیاہؔ اب سُن ! خداوند نے تجھے نہیں بھیجا لیکن تو اِن لوگوں کو جھوٹی اُمید دِلاتا ہے۔
16اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھے رُوی زمین پر سے خارج کرونگا ۔تو اِسی سال مر جائیگا کیونکہ تو نے خداو ند کے خلاف فتنہ انگیز باتیں کہی ہیں ۔
17چنانچہ اُسی سال کے ساتویں مہینے حننیا ہؔ نبی مر گیا۔