Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1اب یہ اُس خط کی باتیں ہیں جو یرمیاہؔ نبی نے یروشلیم ؔ سے باقی بُزرگوں کو جو اِسیر ہو گئے تھے اور کا ہنوں اور نبیوں اور اُن سب لوگوں کو جنکو نبوؔ کدنضر یروشلیم ؔ سے اسیر کرکے بابلؔ لے گیا تھا۔
2(اُسکے بعد کہ یکونیاؔ ہ بادشاہ اور اُسکی والدہ اور خواجہ سرا اور یہوداہؔ اور یروشلیم ؔ کے اُمرا اور کاریگر اور لُہا ر یروشلیم ؔ سے چلے گئے تھے )۔
3العا سہؔ بن سافن ؔ اور حمبریاہؔ بن خلقیاہ ؔ کے ہاتھ ( جنکو شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ نے بابلؔ میں شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ کے پاس بھیجا ) اِرسال کیا اور اُس نے کہا ۔
4ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا اُن سب اسیروں سے جنکو میں یروشلیمؔ سے اِسیر کرواکر بابلؔ بھیجا ہے یوں فرماتا ہے۔
5تم گھر بناؤ اور اُن میں بسو اور باغ لگاؤ اور اُنکا پھل کھاؤ۔
6بیویاں کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیا ں پیدا ہوں اور اپنے بیٹوں کے لئے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہروں کو دو تاکہ اُن سے بیٹے بیٹیا ں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پُھولو اور کم نہ ہو۔
7اور اُس شہر کی خیر مناؤ جس میں میں نے تم کو اِسیر کرواکر بھیجا ہے اور اُسکے لئے خداوند سے دُعا کرو کیونکہ اُسکی سلامتی میں تمہاری سلامتی ہوگی۔
8کیونکہ ربُّ الافواج اِسرؔ ائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمہارے درمیان ہیں اور تمہارے غیب دان تم کو گمراہ نہ کریں اور اپنے خواب بینوں کو جو تمہارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں نہ مانو۔
9کیونکہ وہ میرا نام لیکر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔میں نے اُنکونہیں بھیجا خداوند فرماتا ہے ۔
10کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ جب با بلؔ میں ستر برس گذر چکُنیگے تو میں تم کو یاد فرماؤنگا اور تم کو اِس مکان میں واپس لانے سے اپنے نیک قول کو پورا کرونگا ۔
11کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات کوجانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات ۔بُرائی کے نہیں تاکہ میں تم کو نیک انجام کی اُمید بخشوں۔
12تب تم میرا نام لوگے اور مجھ سے دُعا کروگے اور میں تمہاری سُنونگا۔
13اور تم مجھے ڈھونڈوگے اور پاؤگے ۔ جب پورے دِل سے میرے طالب ہو گے ۔
14اور میں تم کو مل جاؤ نگا خداوند فرماتا ہے اور میں تمہاری اِسیری کو موقوف کراؤنگا اور تم کو اُن سب قوموں سے اور سب جگہوں سے جن میں میں نے تم کو ہانک دیا ہے جمع کراؤ نگا خداوند فرماتا ہے اور میں تم کو اُس جگہ میں جہا ں سے میں نے تم کو اِسیر کرواکر بھیجا واپس لاؤنگا ۔
15کیونکہ تم نے کہا کہ خداوند نے بابلؔ میں ہمارے لئے نبی برپا کئے ۔
16اِسلئے خداوند اُس بادشاہ کی بابت جو داؤدؔ کے تخت پر بیٹھا ہے اور اُن سب لوگوں کی بابت جو اِس شہر میں بستے ہیں یعنی تمہارے بھائیوں کی بابت جو تمہارے ساتھ اِسیر ہو کر نہیں گئے یو ں فرماتا ہے۔
17ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اُن پر تلوار اور کال اور وبا بھیجو نگا اور اُنکو خراب انجیروں کی مانند بناؤ نگا جو اَیسے خراب ہیں کہ کھا نے کے قابل نہیں ۔
18اور میں تلوار اور کال اور وبا سے اُنکا پیچھا کرونگا اور میں اُنکو زمین کی سب سلطنتوں کے حوالہ کرونگا کہ دھکے کھاتے پھریں اور ستائے جائیں اور سب قوموں کے درمیان جن میں مَیں نے اُنکو ہانک دیا ہے لعنت اور حیرت اور سسکار اور ملامت کا باعث ہوں۔
19اِسلئے کہ اُنہوں نے میری باتیں نہیں سُنیں خداوند فرماتا ہے جب میں نے اپنے خدمتگذار نبیو ں کو اُنکے پاس بھیجا ہاں میں نے اُنکو بروقت بھیجا پر تم نے نہ سُنا خداوند فرماتا ہے ۔
20پس تم اَے اسیری کے سب لوگو جنکو میں نے یروشلیم ؔ سے بابلؔ کو بھیجا ہے خداوند کا کلا م سُنو۔
21ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدااخیؔ اب بن قولایاہؔ کی بابت اور صدقیاہؔ بن معسیاہؔ کی بابت جو میرا نام لیکر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اُنکو شاہ بابلؔ نبوکدؔ رضر کے حوالہ کرونگا اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل کریگا ۔
22اور یہوداہؔ کے سب اِسیر جو بابل ؔ میں ہیں اُنکی لعنتی مثل بناکر کہا کر ینگے کہ خداوند تجھے صدقیاہؔ اور اخی ؔ اب کی مانند کرے جنکو شاہِ بابلؔ نے آگ پر کباب کیا۔
23کیونکہ اُنہوں نے اِسراؔ ئیل میں حمایت کی اور اپنے پڑوسیوں کی بیویوں سے زنا کاری کی اور میرا نام لیکر جھوٹی باتیں کہیں جنکا میں نے اُنکو حکم نہیں دِیا تھا ۔خداوند فرماتا ہے میں جانتا ہوں اور گواہ ہوں۔
24اور نخلامی سمعیاہؔ سے کہنا۔
25کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے اِسلئے کہ تو نے یروشلیم کے سب لوگوں کو اور صفنیاہؔ بن معسیاہؔ کاہن اور سب کاہنوں کو اپنے نام سے یوں خط لکھ بھیجے ۔
26کہ خداوند نے یہویدؔ ع کاہن کی جگہ تجھکو کاہن مُقرر کیا کہ تو خداوند کے گھر کا ناظموں میں ہواور ہر ایک مجنون اور نبوت کے مدعی کو قید کرے اور کاٹھ میں ڈالے ۔
27پس تو نے عنتوتی یرمیاہؔ کی جو کہتا ہے کہ میں تمہارا نبی ہوں گو شمالی کیوں نہیں کی ؟۔
28کیونکہ اُس نے بابلؔ میں یہ کہلا بھیجا ہے کہ یہ مدت دراز ہے۔ تم گھر بناؤ اور بسو اور باغ لگاؤ اور اُنکا پھل کھاؤ۔
29اور صفنیاہؔ کاہن نے یہ خط پڑھکر یرمیاہؔ نبی کو سُنایا ۔
30تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا کہ ۔
31اسیری کے سب لوگوں کو کہلا بھیج کہ خداوند نخلامی سمعیاہؔ کی بابت یوں فرماتا ہے اِسلئے کہ سمعیاہؔ نے تم سے نبوت کی حالانکہ میں نے اُسے نہیں بھیجا اور اُس نے تم کو جھوٹی اُمید دلائی ۔
32اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں نخلامی سمعیاہؔ کو اور اُسکی نسل کو سزا دونگا ۔اُسکا کو ئی آدمی نہ ہو گا جو اِن لوگوں کے درمیان بسے اور وہ اُس نیکی کو جو میں اپنے لوگوں سے کرونگا ہر گز نہ ددیکھیگا خداوند فرماتا ہے کیونکہ اُس نے خداوند کے خلاف فتنہ انگیز باتیں کہی ہیں ۔