Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
40 verses
1خداوند فرماتا ہے میں اُس وقت اِسراؔ ئیل کے سب گھرانوں کا خدا ہو نگا اور وہ میرے لوگ ہونگے ۔
2خداوند یوں فرماتا ہے کہ اِسراؔ ئیل میں سے جو لوگ تلوار سے بچے جب وہ راحت کی تلاش میں گئے تو بیابان میں مقبول ٹھہرے ۔
3خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا کہ میں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اِسی لئے میں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی ۔
4اَے اِسراؔ ئیل کی کنواری ! میں تجھے پھر آباد کرونگا اور تو آباد ہو جائیگی ۔ تو پھر دف اُٹھا کر آراستہ ہو گی اور خوشی کرنے والوں کے ناچ میں شامل ہونے کو نکلیگی ۔
5تو پھر سامریہؔ کے پہاڑوں پر تاکستان لگائیگی ۔ باغ لگائینگے اور اُسکا پھل کھائینگے ۔
6کیونکہ ایک دن آئیگا کہ افراؔ ئیم کی پہاڑیوں پر نگہبان پُکار ینگے کہ اُٹھو ہم صیون پر خداوند اپنے خدا کے حضور چلیں ۔
7کیونکہ خداوند یو ں فرماتا ہے کہ یعقوب ؔ کے لئے خوشی سے گاؤ اورقوموں کی سرتاج کے لئے للکارو ۔ منادی کرو ۔ حمد کرو اور کہو اَے خداوند اپنے لوگوں کو یعنی اِسراؔ ئیل کے بقیہّ کو بچا ۔
8دیکھو میں شمالی ملک سے اُنکو لاؤنگا اور زمین کی سر حدوں سے اُنکو جمع کرونگا اور اُن میں اندھے اور لنگڑے اور حاملہ اور زچہّ سب ہو نگے ۔ اُنکی بڑی جماعت یہاں واپس آئیگی ۔
9وہ روتے اور مناجات کرتے ہوئے آئینگے ۔میں اُنکی راہبری کرونگا میں اُنکو پانی کی ندیوں کی طرف راہ راست پر چلا ؤنگا جس میں وہ ٹھوکر نہ کھا ئینگے کیونکہ میں اِسراؔ ئیل کا باپ ہوں اور افراؔ ئیم میرا پہلوٹھا ہے۔
10اَے قومو! خداوند کا کلام سُنو اور دور کے جزیروں میں منادی کرو اور کہو کہ جس نے اِسراؔ ئیل کو تتر بتر کیا وہی اُسے جمع کریگا اور اُسکی اَیسی نگہبانی کریگا جیسی گڈریا اپنے گلہ کی۔
11کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا ہے اور اُسے اُسکے ہاتھ سے جو اُس سے زور آور تھا رہائی بخشی ہے ۔
12پس وہ آئینگے اور صیون کی چوٹی پر گائینگے اور خداوند کی نعمتوں یعنے اناج اور مے اور تیل او ر گائے بیل کے اور بھیڑ بکری کے بچوں کی طرف اِکٹھے رواں ہونگے اور اُنکی جان سیراب باغ کی مانند ہو گی اور وہ پھر کبھی غمزدہ نہ ہو نگے۔
13اُس وقت کنواریا ں اور پیرو جوان خوشی سے رقص کرینگے کیونکہ میں اُنکے غم کو خوشی سے بدل دونگا اور اُنکو تسلی دیکر غم کے بعد شادمان کرونگا ۔
14اور میں کاہنوں کی جان کو چکنائی سے سیر کرونگا اور میرے لوگ میری نعمتوں سے آسودہ ہونگے خداوند فرماتا ہے۔
15خداوند یوں فرماتا ہے کہ رامہؔ میں ایک آواز سُنائی دی ۔ نوحہ اور زار زار رونا ۔ راخلؔ اپنے بچوں کو رو رہی ہے وہ اپنے بچوں کی بابت تسلی پذیر نہیں ہوتی کیونکہ وہ نہیں ہیں ۔
16خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنی زاری کی آواز کو روک اور اپنی آنکھوں کو آنسوؤں سے باز رکھ کیونکہ تیری محنت کے لئے اجر ہے خداوند فرماتا ہے اور وہ دُشمن کے ملک سے واپس آئینگے ۔
17اور خداوند فرماتا ہے تیری عاقیت کی بابت اُمید ہے کیونکہ تیرے بچے پھر اپنی حدود میں داخل ہونگے ۔
18فی الحقیقت میں نے افراؔ ئیم کو اپنے آپ پر یوں ماتم کرتے سُنا کہ تو نے مجھے تنبیہ کی اور میں نے اُس بچھڑے کی مانند جو سدھایا نہیں گیا تنبیہ پائی ۔ تو مجھے پھیر تو میں پھر ونگا کیونکہ تو ہی میرا خدا وند خدا ہے ۔
19کیونکہ پھر نے کے بعد میں نے توبہ کی اور تربیت پانے کے بعد میں نے اپنی ران پر ہاتھ مارا ۔ میں شرمندہ بلکہ پریشان خاطر ہوااِسلئے کہ میں نے اپنی جوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔
20کیا افراؔ ئیم میرا پیارا بیٹا ہے؟ کیا وہ پسندیدہ فرزندہے؟ کیونکہ جب جب میں اُسکے خلاف کچھ کہتا ہوں تو اُسے جی جان سے یاد کرتا ہوں ۔ اِسلئے میرا دل اُسکے لئے بیتاب ہے۔ میں یقیناًاُس پر رحمت کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔
21اپنے لئے سُتون کھڑے کر ۔ اپنے لئے کھمبے بنا۔اُس شاہرا ہ پر دل لگا ۔ ہاں اُسی راہ سے جس سے تو گئی تھی واپس آ۔ اَے اِسراؔ ئیل کی کنورای اپنے اِن شہروں میں واپس آ۔
22اَے برگشتہ بیٹی تو کب تک آوراہ پھر یگی ؟ کیونکہ خداوند نے زمین پر ایک نئی چیز پیدا کی ہے کہ عورت مرد کی حمایت کریگی ۔
23ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں اُنکے اسیروں کو واپس لاؤنگا تو وہ یہوداہ ؔ کے ملک اور اُسکے شہروں میں پھر یوں کہینگے اَے صداقت کے مسکن ! اَے کوہِ مقدس خداوند تجھے برکت بخشے ۔
24اور یہوداہؔ اور اُسکے سب شہر اُس میں اِکٹھے سُکونت کرینگے کسان اور وہ جو گلے لئے پھرتے ہیں۔
25کیونکہ میں نے تھکی جان کو آسودہ اور ہر غمگین روح کو سیر کیا ہے۔
26اَب میں نے بیدارہو کر نگاہ کی اور میری نیند میرے لئے میٹھی تھی ۔
27دیکھو وہ دن آتے ہے خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھر میں اور یہوداہؔ کے گھر میں اِنسان کا بیج اور حیوا ن کا بیج بوؤنگا ۔
28اور خداوند فرماتا ہے جس طرح میں اُنکی گھات میں بیٹھکر اُنکو اُکھاڑا اور ڈھا یا اور گرایا اور برباد کیا اور دُکھ دیا اُسی طرح میں نگہبانی کرکے اُنکو بناؤ نگا اور لگاؤ نگا ۔
29اُن ایام میں پھر یوں نہ کہینگے کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اَولاد کے دانت کھٹے ہو گئے ۔
30کیونکہ ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سبب سے مر یگا ۔ ہر یک جو کچے انگور کھاتا ہے اُسی کے دانت کھٹے ہونگے ۔
31دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا ۔
32اُس عہد کے مطابق نہیں جو میں نے اُنکے باپ دادا سے کیا جب میں اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو ملک مصرؔ سے نکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگرچہ میں اُنکا مالک تھا خداوند فرماتا ہے ۔
33بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اِسراؔ ئیل کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خداوندفرماتا ہے میں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھو نگا اور اُنکے دِل پر اُسے لکھونگا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہو نگے۔
34اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہکر تعلیم نہیں دینگے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانینگے خداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میں اُنکی بدکرداری کو بخش دونگا اور اُنکے گناہ کو یا د نہ کرونگا ۔
35خداوند جس نے دِن کی روشنی کے لئے سورج کر مقر ر کیا او ر جس نے رات کی روشنی کے لئے چاند اور ستاروں کا نظام قائم کیا جو سمندر کو موجزن کرتا ہے جس سے اُسکی لہریں شور کرتی ہیں یوں فرماتا ہے ۔ اُسکا نام ربُّ الافواج ہے۔
36خداوند فرماتا ہے اگریہ نظام میرے حضور سے موقوف ہو جائے تو اِسراؔ ئیل کی نسل بھی میرے سامنے سے جاتی رہیگی کہ ہمیشہ تک پھر قوم نہ ہو۔
37خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر کوئی اُوپر آسمان کو ناپ سکے اور نیچے زمین کی بنیاد کا پتہ لگالے تو میں بھی بنی اِسراؔ ئیل کو اُنکے اعمال کے سبب سے رد کردونگا خداوند فرماتا ہے ۔
38دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ یہ شہر حنن ایل کے برج سے کونے کے پھاٹک تک خداوند کے لئے تعمیر کیا جائیگا۔
39اور پھر جریب سیدھی کوہ جاریب ؔ پر سے ہوتی ہوئی جوعاتہؔ کو گھیر لیگی ۔
40اور لاشوں اور راکھ کی تمام وادی اور سب کھیت قدؔ رون کے نالے تک اورگھوڑے پھاٹک کے کونے تک مشرق کی طرف خداوند کے لئے مُقدس ہونگے ۔ پھر وہ ہمیشہ تک نہ کبھی اُکھاڑانہ گرایا جائیگا۔