Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
44 verses
1وہ کلام جوشاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کے دسویں برس میں جو نبوکدرضرؔ کا اٹھا رھواں برس تھا خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2اور اُس وقت شاہِ بابلؔ کی فوج یروشلیم کا محاصر ہ کئے پڑی تھی اور یرمیاہ ؔ نبی شاہِ یہوداہؔ کے گھر میں قید خانہ کے صحن میں بند تھا ۔
3کیونکہ شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ نے اُسے یہ کہکر قید کیا کہ تو کیوں بنوت کرتا اور کہتا ہے کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس شہر کو شاہِ بابلؔ کے حوالہ کردونگا اور وہ اِسے لے لیگا ۔
4اور شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کسدیوں کے ہاتھ سے نہ بچیگا بلکہ ضرور شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا اور اُس سے رُوبُرو باتیں کریگا اور دونوں کی آنکھیں مُقابل ہو نگی۔
5اور وہ صدقیاہؔ کو بابل ؔ میں لے جائیگا اور جب تک میں اُسکو یاد نہ فرماؤں وہ وہیں رہیگا ۔ خداوند فرماتا ہے ہر چند تم کسدیوں کے ساتھ جنگ کرو گے پر کامیاب نہ ہو گے ؟۔
6تب یرمیاہؔ نے کہا کہ خداوند کا کلا م مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا ۔
7دیکھ تیرے پاس آکر کہیگا کہ میرا کھیت جو عنتوتؔ میں ہے اپنے لئے خریدلے کیونکہ اُسکو چھڑانا تیرا حق ہے۔
8تب میرے چچا کا بیٹا حنمؔ ایل قید خانہ کے صحن میں میرے پاس آیا اور جیسا خداوند نے فرمایا تھا مجھ سے کہا کہ میرا کھیت جو عنتوت میں بنیمین کے علاقہ میں ہے خرید لے کیونکہ یہ تیرا موروثی حق ہے اور اُسکوچھڑانا تیرا کام ہے اُسے اپنے لئے خرید لے ۔ تب میں نے جانا کہ یہ خدا وند کا کلام ہے ۔
9اور میں نے اُس کھیت کوجو عنتوتؔ میں تھا اپنے چچا کے بیٹے حنمؔ ایل سے خرید لیا اور نقد ستر مثقال چاندی تول کر اُسے دی۔
10اور میں نے ایک قبالہ لکھا اور اُس پر مہر کی اور گواہ ٹھہرائے اور چاندی ترازو میں تول کر اُسے دی ۔
11سو میں نے اُس قبالہ کو لیا یعنی وہ جو آئین اور دستور کے مطابق سر بمہر تھا اور وہ جو کھلا تھا۔
12اور میں نے اُس قبالہ کو اپنے چچا کے بیٹے حنمؔ ایل کے سامنے اور اُن گواہوں کے رُوبُرو جنہوں نے اپنے نام قبالہ پر لکھے تھے اُن سب یہودیوں کے رُوبُرو جو قید خانہ کے صحن میں بیٹھے تھے بارُوک ؔ بن نیریاہؔ بن محسیاہ ؔ کو سونپا۔
13اور میں نے اُنکے رُوبُرو بارُوک کو تاکید کی ۔
14کہ ربُّ الافواج اِسر اؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ یہ کا غذات لے یعنی یہ قبالہ جو سر بُمہر ہے اور یہ جو کھلا ہے اور اُنکو مٹی کے برتن میں رکھ تاکہ بہت دِنوں تک محفوظ رہیں ۔
15کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اِس ملک میں پھر گھروں اور کھیتوں اور تاکستانوں کی خرید وفروخت ہو گی ۔
16باروک بن نیریاہؔ کو قبالہ دیے کے بعد میں نے خداوند سے یوں دُعا کی۔
17آہ اَے خداوند خدا!دیکھ تو نے اپنی عظیم قدرت اور اپنے بلند بازو سے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور تیرے لئے کوئی کام مُشکل نہیں ہے۔
18تو ہزاروں پر شفقت کرتا ہے اور باپ دادا کی بدکرداری کا بدلہ اُنکے بعد اُنکی اَولاد کے دامن میں ڈال دیتا ہے جسکا نام خدایِ عظیم وقا دِر ربُّ الافواج ہے۔
19مشورت میں بُزرگ اور کام میں قدرت والا ہے ۔ بنی آدم کی سب راہیں تیری زیر نظر ہیں تاکہ ہر ایک کو اُسکی روش کے موافق اور اُسکے اعمال کے پھل کے مطابق اجر دے ۔
20جس نے ملک مصر ؔ میں آج تک اور اِسر اؔ ئیل اور دوسرے لوگوں میں نشان اور عجائب دکھا ئے اور اپنے لئے نام پیدا کیا جیسا کہ اِس زمانہ میں ہے ۔
21کیونکہ تو اپنی قوم اِسراؔ ئیل کو ملک مصرؔ سے نشانوں اور عجائب اور قوی ہاتھ اور بلند بازو سے اور بڑی ہیبت کے ساتھ نکال لایا ۔
22اور یہ ملک اُنکو دیا جسے دینے کی تو نے اُنکے باپ دادا سے قسم کھائی تھی ۔ اَیسا ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ۔
23اور وہ آکر اُسکے مالک ہو گئے لیکن وہ نہ تیری آواز کے شنوا ہوئے اور نہ تیری شریعت پر چلے اور جو کچھ تو نے کرنے کو کہا اُنہوں نے نہیں کیا اِسلئے تو یہ سب مُصیبت اُن پر لایا ۔
24دمدموں کو دیکھ ۔ وہ شہر تک آپہنچے ہیں کہ اُسے فتح کرلیں اور شہر تلوار اور کال اور وبا کے سبب سے کسدیوں کے حوالہ کردیا گیا ہے جو اُس پر چڑھ آئے اور جو کچھ تو نے فرمایا پورا ہوا اور تو آپ دیکھتا ہے۔
25تو بھی اَے خداوند خدا تو نے مجھ سے فرمایا کہ وہ کھیت روپیہ دیکر اپنے لئے خریدلے اور گواہ ٹھہر الے حالانکہ یہ شہر کسدیوں کے حوالہ کر دیاگیا۔
26تب خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا کہ ۔
27دیکھ میں خداوند تمام بشر کا خدا ہو ں ۔ کیا میرے لئے کو ئی کام دُشوار ہے؟ ۔
28اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس شہر کوکسدیوں کے اور شاہِ بابل ؔ نبوکدؔ رضر کے حوالہ کردونگا اور وہ اِسے لے لیگا ۔
29اور کسدی جو اِس شہر پر چڑھائی کرتے ہیں آکر اِسکو آگ لگا ئینگے اور اِسے اُن گھروں سمیت جلا ئینگے جنکی چھتوں پر لوگو ں نے بعلؔ کے لئے بخور جلایا اور غیر معبودوں کے لئے تپاون تپائے کہ مجھے غضبناک کریں ۔
30کیونکہ بنی اِسراؔ ئیل اور بنی یہوداہ اپنی جوانی سے اب تک فقط وہی کرتے آئے ہیں جو میری نظر میں بُرا ہے کیونکہ بنی اِسراؔ ئیل نے اپنے اعمال سے مجھے غضبناک ہی کیا خداوند فرماتا ہے ۔
31کیونکہ یہ شہر جس دِن سے اُنہوں نے اِسے تعمیر کیا آج کے دن تک میرے قہر اور غضب کا باعث ہورہا ہے تاکہ میں اِسے اپنے سامنے سے دور کروں ۔
32بنی اِسراؔ ئیل او ر بنی یہوداہ کی تمام بدی کے باعث جو اُنہوں نے اور اُنکے بادشاہوں نے اور اُمرا اور کاہنوں اور نبیوں نے اور یہوداہ ؔ کے لوگوں اور یروشلیم کے باشندوں نے کی تاکہ مجھے غضبناک کریں ۔
33کیونکہ اُنہوں نے میری طرف پیٹھ کی اور منہ نہ کیا ۔ ہر چند میں نے اُنکو سکھایا اور بروقت تعلیم دی تو بھی اُنہوں نے کان نہ لگایا کہ تربیت پذیر ہوں ۔
34بلکہ اُس گھر میں میرے نام سے کہلا تا ہے اپنی مکروہات رکھیں تاکہ اُسے ناپاک کریں ۔
35اور اُنہوں نے بعلؔ کے اُونچے مقام جو بن ہنوم ؔ کی وادی میں ہیں بنائے تاکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو مولکؔ کے لئے آگ میں سے گذاریں جسکا میں نے اُنکو حکم نہیں دیا اور نہ میرے خیال میں آیا کہ وہ اَیسا مکروہ کام کرکے یہوداہ کو گنہگار بنائیں ۔
36اور اب اِس شہر کی بابت جسکے حق میں تم کہتے ہو کہ تلوار اور کال اور وبا کے وسیلہ سے وہ شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے ۔
37دیکھ میں اُنکو اُن سب ملکوں سے جہاں میں نے اُنکو اپنے غیظ وغضب اور قہر شدید سے ہانک دیا ہے ۔ جمع کرونگا اور اِس مقا م میں واپس لاؤنگا اور اُنکو امن سے آباد کرونگا ۔
38اور وہ میرے لوگ ہو نگے اور میں اُنکا خدا ہونگا ۔
39اور میں اُنکو یکدل اور یک روش بنادونگا اور وہ اپنی اور اپنے بعد اپنی اَولاد کی بھلائی کے لئے ہمیشہ مجھ سے ڈرتے رہینگے ۔
40اور میں اُن سے ابدی عہد کرونگا کہ اُنکے ساتھ بھلائی کرنے سے باز نہ آؤنگا اور میں اپنا خوف اُنکے دِل میں ڈالونگا تاکہ وہ مجھ سے برگشتہ نہ ہوں۔
41ہاں میں اُن سے خوش ہو کر اُن سے نیکی کرونگا اور یقیناًدِل وجان سے اُنکو اس ملک میں لگاؤنگا ۔
42کیو نکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ جس طرح میں اِن لوگوں پر یہ تمام بلایِ عظیم لایا ہوں اُسی طرح وہ تمام نیکی جسکا میں نے اُن سے وعدہ کیا ہے اُن سے کرونگا ۔
43اور اِس ملک میں جسکی بابت تم کہتے ہو کہ وہ ویران ہے ۔ وہاں نہ اِنسان ہے نہ حیوان ۔ وہ کسدیوں کے حوالہ کیا گیا ۔ پھر کھیت خریدے جائینگے ۔
44بنیمین کے علاقہ میں اور یروشلیم کی نواحی میں اور یہوداہ کے شہروں میں لوگ روپیہ دیکر کھیت خرید ینگے اور قبالے لکھا کر اُن پر مہر لگائینگے اور گواہ ٹھہر ا ئینگے کیونکہ میں اُنکی اسیری کو موقوف کردونگا خداوند فرماتا ہے ۔