Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1جب شاہ بابل نبو کد نضر اور اس کی تمام فوج اور روئے زمین کی تمام سلطنتیں جو اس کی فرمانروائی میں تھیں اور سب اقوام یروشلم اور اس کی سب بستیوں کے خلاف جنگ کر رہی تھیں۔ تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہ نبی پر ناز ل ہوا ۔
2پیغام یہ تھا : " خداوند بنی اسرائیلیوں کا خدا جو کہتا ہے ، وہ یہ ہے اے یرمیاہ !شاہ یہودا ہ صدقیاہ کے پاس جا ؤ اور اسے یہ پیغام دو : ' اے صدقیاہ !خداوند کا پیغام جو تیرے لئے ہے وہ یہ ہے : میں یروشلم شہر کو شاہ بابل کے حوا لے بہت جلد ہی کردوں گا ۔ اور وہ اسے جلا ڈالے گا ۔
3اے صدقیاہ ! تم شاہ بابل سے بچ کر نکل نہیں پا ؤ گے۔ تم یقیناً ہی پکڑے جا ؤ گے اور اسے دیدئیے جا ؤ گے۔ تم شاہ بابل کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے ۔ وہ تم سے آمنے سامنے با تیں کرے گا اور تم با بل جا ؤ گے ۔
4لیکن اے شاہ یہودا ہ صدقیاہ خداوند کے دیئے وعدہ کو سنو ۔خداوند تمہا رے بارے میں جو کہتا ہے وہ یہ ہے تم تلوار سے نہیں ہلاک ہو گے ۔
5تم امن کی حالت میں مرو گے اور جس طرح تمہارے با پ دادا یعنی تم سے پہلے بادشا ہوں کے لئے خوشبو جلاتے تھے ،اسی طرح تمہا رے لئے بھی جلا ئیں گے اور تم پر ماتم کریں گے اور کہیں گے " ہا ئے آقا !" کیوں کہ میں نے یہ بات کہی ہے ۔" خداوند فرماتا ہے ۔
6اس لئے یرمیاہ نبی نے خداوند کا پیغام یروشلم میں یہودا ہ کے بادشا ہ صدقیاہ کو دیا ۔
7یہ اس وقت ہوا جب شاہ بابل کی فوج یروشلم کے خلاف لڑ رہی تھی۔ بابل کی فوج یہودا ہ کے ان شہروں کے خلاف بھی لڑ رہی تھی جن پر قبضہ نہیں ہو سکا تھا ۔ وہ لکیس اور عزیقہ شہر تھے ۔ کیوں کہ یہودا ہ کے شہرو ں میں سے یہی قلعہ دار شہر باقی تھے ۔
8صدقیاہ یروشلم کے لوگوں سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سبھی یہودی غلاموں کو آزاد کردیگا ۔ جب صدقیاہ وہ معاہدہ کر لیا تواس کے بعد یرمیاہ کو خداوند کا پیغام ملا ۔
9ہر شخص سے امید کی جا تی ہے کہ وہ اپنے عبرانی غلاموں کو آزا د کرے ۔ تما م عبرانی غلام اور خادمہ آزا دکر دیئے جا ئیں ۔ یہودا ہ کے گھرانے کے گروہ کے کسی بھی شخص کو غلام رکھنے کا حق نہیں دیا جا سکتا تھا ۔
10اور جب سب امراء اور سب لوگوں نے جو اس معاہدہ میں شامل تھے سنا کہ ہر ایک کو لاز م ہے کہ اپنے غلام اور خادمہ کو آزاد کرے اور پھر ان سے غلامی نہ کرائے تو انہوں نے اطاعت کی اور ان کو آزاد کر دیا ۔
11لیکن اس کے بعد وہ لوگ جن کے پاس غلام تھے اپنے خیال بدل لئے ۔اس لئے وہ لوگ ان لوگو ں کو لا ئے جنہیں انہوں نے آزاد کیا تھا اور پھر غلام بنا لیا ۔
12تب خداوند کا کلام یرمیاہ پر ناز ل ہوا ۔
13بنی اسرائیلیوں کا خداوند خدا فرما تا ہے : " اے یرمیاہ میں تمہا رے با پ دادا کو مصر سے با ہر لا یا جہاں وہ غلام تھے ۔ جب میں نے ایسا کیا تب میں نے ان سے ایک معاہدہ کیا ۔
14میں نے تمہا رے با پ دادا سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اپنی عبرانی بھا ئی کو جسے کہ اس کے ہا تھ بیچا گیا ہے سات برس کے آخر میں یعنی جب وہ چھ برس تک خدمت کر چکے تو آزا د کردو ۔ لیکن تمہا رے با پ دادا نے میری نہ سنی اور کان نہ لگایا ۔
15کچھ وقت پہلے تم نے اپنے دل کو جو بہتر ہے ،اسے کر نے کے لئے بدلا ۔ تم میں سے ہر ایک نے ان عبرانی ساتھیوں کو آزاد کیا جو غلام تھے ۔ اور تم نے میرے سامنے اس ہیکل میں جو میرے نام پر ہے ایک معاہدہ بھی کیا ۔
16لیکن اب تم نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے ۔ تم نے یہ دکھا دیا ہے کہ تم میرے نام کی تعظیم نہیں کر تے ۔ تم نے یہ کیسے کیا ؟ تم میں سے ہر ایک نے اپنے غلاموں اور خادماؤں کو واپس لے لیا ہے جنہیں تم نے آزاد کیا تھا ۔ تم لوگوں نے انہیں پھر غلام ہو نے کے لئے مجبور کیا ہے ۔
17" اسلئے خداوند یوں فرماتا ہے : " تم نے میری فرمانبرداری نہیں کی ۔ تم نے اپنے بھا ئی اور اپنے ہمسایہ کو آزاد نہیں کیا ۔خداوند فرماتا ہے ، " میں تم کو تلوار ، قحط سالی اور بیما ری کا سامنا کرنے کیلئے " آزد کروں گا " میں تمہا ری مملکتو ں میں بلا مقصد بھٹکنے کے لئے آزا د کروں گا ۔
18اور میں ان آدمیو ں کو جنہوں نے مجھ سے عہد شکنی کی اوراس معاہدہ کی باتیں جو انہوں نے میرے حضور باندھا ہے پوری نہیں کی ۔ جب بچھڑے کو دو ٹکڑے کیا اور ان دو ٹکڑو ں کے درمیان سے ہو کر گزرے ۔
19یہ وہ لوگ ہیں جو بچھڑے کے دو ٹکڑو ں کے بیچ سے ہو کر گذرے اور میرے ساتھ معاہدہ کیا : وہ یہودا ہ اور یروشلم کے امراء ،اہم عہدیداران، کا ہن اور اس ملک کے لوگ تھے ۔
20اس لئے میں ان لوگوں کے دشمنو ں اور ان لوگوں کو دوں گا جو انہیں ماردینا چا ہتے ہیں ۔ ان لوگوں کی لا شیں ہوا میں اڑنے وا لے پرندوں اور زمین پر کے جنگلی جانورو ں کی خوراک بنیں گی ۔
21میں شاہ یہودا ہ صدقیاہ اور اس کے امراء کو ان کے دشمنوں اور ہر ایک جو انہیں ماردینا چا ہتے ہیں صدقیاہ اور ان کے لوگو ں کو شاہ بابل کی فوج کو تب بھی دو ں گا جب وہ فوج یروشلم کو چھوڑ چکی ہو گی ۔
22دیکھو میں حکم جا ری کروں گا ، یہ خداوند فرماتا ہے ، اور میں انہیں پھر اس شہر میں وا پس لا ؤ ں گا اور وہ اس سے لڑیں گے اور اسے فتح کر کے آ گ سے جلا ڈا لیں گے ۔ میں یہودا ہ کے شہروں کو ایسا ویران کردو ں گا کہ وہاں کو ئی آبادی نہ رہے گی ۔"