Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1اَے اِسرائیل اگر تو واپس آئے خداوند فرماتا ہے اگر تو میری طرف واپس آئے اور اپنی مکر وہات کو میری نظر سے دُور کرے توتو آوارہ نہ ہو گا۔
2اور اگر تو سچائی اور عدالت اور صداقت سے زندہ خداوند کی قسم کھائے توقومیں اُسکے سبب سے اپنے آپ کو مبارک کہینگی اور اُس پر فخر کر ینگی۔
3کیونکہ خداوند یہوداہ اور یروشیلم کے لوگوں کو یوں فرماتا ہے کہ اپنی اُفتادہ زمین پر ہل چلاؤ اور کانٹو ں میں تُخم ریزی نہ کرو۔
4اَے یہوداہ کے لوگواور یروشیلم کے باشندو !خداوند کے لئے اپنا ختنہ کراؤ ہاں اپنے دِل کا ختنہ کرو تا نہ ہو کہ تمہاری بد اعمالی کے باعث سے امیر قہر آگ کی مانند شعلہ زن ہو اور ایسا بھڑکے کہ کوئی بُجھا نہ سکے ۔
5یہوداہ میں اِشتہاردو اور یروشیلم میں اِسکی منادی کرو اور کہو کہ تم ملک میں نرسنگا پھونکو۔ بلند آواز سے پُکارو اور کہو کہ جمع ہو کر حصین شہروں میں چلیں ۔
6تم صیون ہی میں جھنڈا کھڑا کرو ۔ پناہ لینے کو بھاگو اور دیر نہ کر و کیونکہ میں بلا اور ہلاکت شدید کو شمال کی طرف سے لاتا ہوں۔
7شیر ببر جھاڑیوں سے نکلا ہے اور قوموں کے ہلاک کرنے والے نے کوچ کیا ہے۔ وہ اپنی جگہ سے نکلا ہے تاکہ تیری زمین کو ویران کرے تاکہ تیرے شہر ویران ہوں اور کوئی بسنے والا نہ رہے ۔
8اِسلئے ٹاٹ اوڑھکر چھاتی پیٹو اور واویلا کرو کیونکہ خداوند کا قہر شدید ہم پر سے ٹل نہیں گیا۔
9اور خداوند فرماتا ہے اُس وقت ےُوں ہوگا کہ بادشاہ اور سردار بیدل ہو جائینگے اور کاہن حیرت زدہ اور نبی سراسیمہہونگے۔
10تب میں نے کہا افسو س اَے خداوند خدا یقیناًتو نے اِن لوگوں اور یروشیلم کو یہ کہہ کر دُعا دی کہ تم سلامت رہو گے حالانکہ تلوار جان تک پُہنچ گئی ہے۔
11اُس وقت ان لوگوں اور یروشیلم سے یہ کہا جا ئیگا کہ بیابان کے پہاڑوں پر سے ایک خشک ہو ا میری دُختر قوم کی طرف چلیگی ۔ اُسانے اورصا ف کرنے کے لئے نہیں۔
12بلکہ وہاں سے ایک نہایت تُند ہوا میرے لئے چلیگی ۔ اب میں بھی اُن پر فتویٰ دُونگا۔
13دیکھو وہ گھٹا کی طرح چڑھ آئیگا ۔ اُسکے رتھ گردباد کی مانند اور اُسکے گھوڑے عقابوں سے تیز تر ہیں ۔ ہم پر افسوس ! کہ ہائے ہم غارت ہو گئے ۔
14اَے یروشیلم ! تو اپنے دِل کو شرارت سے پاک کر تاکہ تو رہائی پائے ۔ بُرے خیالات کب تک تیرے دِل میں رہینگے ؟۔
15کیونکہ دانؔ سے ایک آواز آتی ہے اور افراؔ ئیم کے پہاڑ سے مُصےِبت کی خبر دیتی ہے ۔
16قوموں کو خبر دو۔ دیکھو یروشیلم کی بابت منادی کرو کہ مُحاصرہ کرنے والے دُور کے ملک سے آتے ہیں اور یہوداہؔ کے شہروں کے مقابِل للکار ینگے ۔
17کھیت کے رکھوالوں کی مانند وہ اُسے چاروں طرف سے گھیر ینگے کیو��کہ اُس نے مجھ سے بغاوت کی خداوند فرماتا ہے۔
18تیری چال اور تیرے کاموں سے یہ مصیبت تجھ پر آئی ہے۔ یہ تیری شرارت ہے۔ یہ بہت تلخ ہے کیونکہ یہ تیرے تک پُہنچ گئی ہے۔
19ہائے میرا دِل ! میرے پردۂ دِل میں درد ہے۔ میرا دِل بیتاب ہے۔ میں چپ نہیں رہ سکتا کیونکہ اَے میری جان !تو نے نرسنگے کی آواز اور لڑائی کی للکار سُن لی ہے۔
20شکست پر شکست کی خبر آتی ہے۔ یقیناًتمام ملک برباد ہو گیا ۔ میرے خیمے ناگہان اور میرے پردے ایک دم میں غارت کئے گئے۔
21میں کب تک یہ جھنڈا دیکھوں اور نرسنگے کی آواز سُنوں ؟۔
22فی الحقیقت میرے لوگ احمق ہیں۔ اُنہوں نے مجھے نہیں پہچانا ۔ وہ بے شعور بچے ہیں اور امتیاز نہیں رکھتے بُرے کام کرنے میں ہوشیار ہیں پر نیکو کاری کی سمجھ نہیں رکھتے ۔
23میں نے زمین پر نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ویران اور سُنسان ہے۔ افلاک کو بھی بے نور پایا۔
24میں نے پہاڑوں پر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کانپ گئے اور سب ٹیلے متزلزل ہو گئے۔
25میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی آدمی نہیں اور سب ہوائی پرندے اُڑ گئے ۔
26پھر میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ زرخیز زمین بیابان ہوگئی اور اُسکے سب شہر خداوند کی حضوری اور اُسکے قہر کی شدت سے برباد ہوگئے ۔
27کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ تمام ملک ویران ہوگا تو بھی میں اسے بالکل برباد نہ کرونگا۔
28اِسی لئے زمین ماتم کریگی اور اُوپر سے آسمان تاریک ہو جائیگا کیونکہ میں کہہ چُکا ۔ میں نے اِرادہ کیا ہے ۔ میں اُس سے پشیمان نہ ہو نگا اور اُس سے باز نہ آؤنگا ۔
29سواروں اور تیر اندازوں کے شور سے تمام شہری بھاگ جائینگے۔ وہ گھنے جنگلوں میں جا گھُسینگے اور چٹانوں پر چڑھ جائینگے۔ سب شہر ترک کئے جائینگے اور کوئی آدمی اُن میں نہ رہیگا۔
30تب اَے غارت شدہ ! تو کیا کریگی؟ اگرچہ تو لال جوڑا پہنے ۔ اگرچہ تو زرین زیوروں سے آراستہ ہو۔ اگرچہ تو اپنی آنکھوں میں سُرمہ لگائے تو عبث اپنے آپ کو خوبصورت بنا ئیگی ۔ تیرے عاشق تجھکو حقیر جا ئینگے ۔ وہ تیری جان کے طالب ہو نگے۔
31کیونکہ میں نے اُس عورت کی سی آواز سُنی ہے جسے درد لگے ہوں اور اُسکی سی درد ناک آواز جسکے پہلا بچہ پیدا ہو یعنی دُختر صیون کی آواز جو ہانپتی اور اپنے ہاتھ پھیلا کر کہتی ہے ہائے ! قاتلوں کے سامنے میری جان بیتاب ہے۔