Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1وہ کلام جو اُن سب یہودیوں کی بابت جو ملک مصرؔ میں مجدال ؔ کے علاقہ اور تفخیسؔ اور نوف اور فتروسؔ میں بسے تھے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم نے وہ تمام مُصیبت جو میں یروشلیم پر اور یہوداہؔ کے سب شہروں پر لایا ہوں دیکھی اور دیکھو اب وہ ویران اور غیر آباد ہیں ۔
3اُس شرارت کے سبب سے جو اُنہوں نے مجھے غضبناک کرنے کو کی کیونکہ وہ غیر معبودوں کے آگے بخور جلانے کو گئے اور اُنکی عبادت کی جنکو نہ وہ جانتے تھے نہ تم نہ تمہارے باپ دادا ۔
4اور میں نے اپنے تمام خدمتگذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا ۔اُنکو بروقت یوں کہکر بھیجا کہ تم یہ نفرتی کام جس سے میں نفرت رکھتا ہوں نہ کرو۔
5پر اُنہوں نے نہ سُنانہ کان لگایا کہ اپنی بُرائی سے باز آئیں اور غیر معبودوں کے آگے بخور نہ جلا ئیں ۔
6اِسلئے میرا قہر وغضب نازل ہو ا اور یہوداہؔ کے شہروں اور یروشلیم کے بازاروں پر بھڑکا اور وہ خراب اور ویران ہوئے جیسے اب ہیں ۔
7اور اب خداوند ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم کیوں اپنی جانوں سے اَیسی بڑی بدی کرتے ہو کہ یہوداہؔ میں سے مردوزن اور طفل وشیرخوار کاٹ ڈالے جائیں اور تمہارا کوئی باقی نہ رہے۔
8کہ تم ملک مصرؔ میں جہاں تم بسنے کو گئے ہو اپنے اعمال سے اور غیر معبودوں کے آگے بخور جلا کر مجھ کو غضبناک کرتے ہو کہ نیست کئے جا ؤ اور رُویِ زمین کی سب قوموں کے درمیان لعنت وملامت کا باعث بنو؟ ۔
9کیا تم اپنے باپ دادا کی شرارت اور یہوداہؔ کے بادشاہوں اور اُنکی بیویوں کی اور خود اپنی اور اپنی بیویوں کی شرارت جو تم نے یہوداہؔ کے ملک میں اور یروشلیم کے بازاروں میں کی بھول گئے ہو؟۔
10وہ آج کے دن تک نہ فروتن ہوئے نہ ڈرئے اور میری شریعت وآئین پر جنکو میں تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے سامنے رکھا نہ چلے ۔
11اِسلئے ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں تمہارے خلاف زیا نکاری پر آمادہ ہونگا تاکہ تمام یہوداہؔ کو نیست کروں۔
12اور میں یہوداہؔ کے باقی لوگوں کو جنہوں نے ملک مصرؔ کا رخ کیا ہے وہاں جا کر بسیں پکڑوُنگا اور وہ ملک مصرؔ ہی میں نابودُ ہونگے ۔وہ تلوار اور کال سے ہلاک ہونگے ۔ اُنکے ادنیٰ واعلیٰ نابود ہونگے وہ تلوار اور کال سے فنا ہو جائینگے اور لعنت وحیرت اور طعن وتشنیع کا باعث ہونگے ۔
13اور میں اُنکو جو ملک مصرؔ میں بسنے کو جاتے ہیں اُسی طرح سزا دُونگا جس طرح میں نے یروشلیم کو تلوار اور کال اور وبا سے سزا دی ہے ۔
14پس یہوداہؔ کے باقی لوگوں میں سے جو ملک مصرؔ میں بسنے کو جاتے ہیں نہ کو ئی بچیگا نہ باقی رہیگا کہ وہ یہوداہؔ کی سرزمین میں واپس آئیں جس میں آکر بسنے کے وہ مشتاق ہیں کیونکہ بھ��گ کر بچ نکلنے والوں کے سوا کوئی واپس نہ آئیگا۔
15تب سب مردوں نے جو جانتے تھے کہ اُنکی بیویوں نے غیر معبودوں کے لئے بخور جلایا ہے اور سب عورتوں نے جو پاس کھڑی تھیں ایک بڑی جماعت یعنی سب لوگوں نے جو ملک مصرؔ میں فتروس ؔ میں جابسے تھے یرمیاہؔ کو یوں جواب دیا۔
16کہ یہ بات جو تو نے خداوند کا نام لیکر ہم سے کہی ہم کبھی نہ مانینگے ۔
17بلکہ ہم تو اُسی بات پر عمل کرینگے جو ہم خود کہتے ہیں کہ ہم آسمان کی ملکہ کے لئے بخور جائینگے اور تپاون تپا ئینگے جس طرح ہم اور ہمارے باپ دادا ہمارے بادشاہ اور ہمارے سردار یہوداہؔ کے شہروں اور یروشلیم کے بازارو ں میں کیا کرتے تھے کیونکہ اُس وقت ہم خوب کھاتے پیتے اور خوشحال اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔
18پر جب سے ہم نے آسمان کی ملکہ کے لئے بخورجلانا اور تپاون تپانا چھوڑ دیا تب سے ہم ہر چیز کے محتاج ہیں اور تلوار اور کال سے فنا ہو رہے ہیں۔
19اور جب ہم آسمان کہ ملکہ کے لئے بخور جلاتی اور تپاون تپاتی تھیں تو کیا ہم نے اپنے شوہروں کے بغیر اُسکی عبادت کے لئے کُلچے پکائے اور تپاون تپائے تھے؟۔
20تب یرمیاہؔ نے اُن سب مردوں اور عورتوں یعنی اُن سب لوگوں سے جنہوں نے اُسے جواب دیا تھا کہا۔
21کیا وہ بخور جو تم نے اور تمہارے باپ دادا اور تمہارے بادشاہوں اور اُمرا نے رعیت کے ساتھ یہوداہؔ کے شہروں اور یروشلیم کے بازاروں میں جلایا خداوند کو یاد نہیں ؟ کیا وہ اُسکے خیال میں نہیں آیا؟
22پس تمہارے بد اعمال اور نفرتی کاموں کے سبب سے خداوند برداشت نہ کرسکا ۔ اِسلئے تمہارا ملک ویران ہوا اور حیرت ولعنت کا باعث بنا جس میں کوئی بسنے والا نہ رہا جیسا کہ آج کے دن ہے۔
23چونکہ تم نے بخور جلایا اور خداوند کے گنہگار ٹھہرے اور اُسکی شریعت نہ اُسکے آئین نہ اُسکی شہادتوں پر چلے اِسلئے یہ مصیبت جیسی کہ اب ہے تم پر آپڑی ۔
24اور یرمیاہؔ نے سب لوگوں اور سب عورتوں سے یوں کہا کہ اَے تمام بنی یہوداہؔ جو ملک مصرؔ میں ہوا خداوند کا کلا م سُنو۔
25ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم نے اور تمہاری بیویوں نے اپنی زبان سے کہا کہ آسمان کی ملکہ کے لئے بخور جلانے اور تپاون تپانے کی جو نذریں ہم نے مانی ہیں ضرور ادا کرینگے اور تم نے اپنے ہاتھوں سے ایسا ہی کیا ۔پس اب تم اپنی نذروں کو قائم رکھو اور ادا کرو۔
26اِسلئے اَے تمام بنی یہوداہؔ جو ملک مصرؔ میں بستے ہو! خداوند کا کلام سُنو ۔ دیکھو خداوند فرماتا ہے میں نے اپنے بُزرگ نام کی قسم کھائی ہے کہ اب میرا نام یہوداہؔ کے لوگوں میں تمام ملک مصرؔ میں کسی کے منہ سے نہ نکلیگا کہ وہ کہے زندہ خداوند خدا کی قسم۔
27دیکھو میں نیکی کے لئے نہیں بلکہ بدی کے لئے اُن پر نگران ہونگا اور یہوداہؔ کے سب لوگ جو ملک مصرؔ میں ہیں تلوار اور کال سے ہلاک ہونگے یہاں تک کہ بالکل نیست ہوجائینگے۔
28اور وہ جو تلوار سے بچکر ملک مصرؔ سے یہوداہؔ کے ملک میں واپس آئینگے تھوڑے سے ہونگے اور یہوداہؔ کے تمام باقی لوگ جو ملک مصرؔ میں بسنے کو گئے جانینگے کہ کس کی بات قائم رہی ۔میری یا اُنکی ۔
29اور تمہارے لئے یہ نشان ہے خداوند فرماتا ہے کہ میں اِسی جگہ تمکو سزا دُونگا تاکہ تم جانو کہ تمہارے خلاف میری باتیں مصیبت کی بابت یقیناًقائم رہینگی ۔
30خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں شاہِ مصرؔ فرعون حُفرعؔ کو اُسکے مُخالفوں اور جانی دُشمنوں کے حوالہ کر دُونگا جس طرح میں نے شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کو شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے حوالہ کر دیا جو اُسکا مُخالف اور جانی دُشمن تھا۔