Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1خداوند کا کلام جو یرمیاہؔ نبی پر اقوام کی بابت نازل ہوا ۔
2مصرؔ کی بابت :۔ شاہِ مصرؔ فرعونؔ نکوہ کی فوج کی بابت جو دریای فراتؔ کے کنارے پر کر کمیس ؔ میں تھی جسکو شاہِ بابلؔ نبو کدرؔ ضر نے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں شکست دی۔
3سپر اور ڈھال کو تیار کرو اور لڑائی پر چلے آؤ۔
4گھوڑوں پر ساز لگاؤ ۔ اَے سوا رو!تم سوار ہو اور خود پہن کر نکلو ۔ نیزوں کو صیقل کرو ۔بکتر پہنو ۔
5میں اُنکو گھبرائے ہوئے کیوں دیکھتا ہوں ؟ وہ پلٹ گئے ۔اُنکے بہادروں نے شکست کھائی ۔ وہ بھاگ نکلے اور پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے کیونکہ چاروں طرف خوف ہے خداوند فرماتا ہے۔
6نہ سبکپا بھاگنے پائیگا نہ بہارد بچ نکلیگا ۔شمال میں دریای فراتؔ کے کنارے اُنہوں نے ٹھوکر کھائی اور گر پڑے ۔
7یہ کون ہے جو دریای نیلؔ کی مانند بڑھا چلا آتا ہے جس کا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے؟۔
8مصرؔ نیلؔ کی طرح اُٹھتا ہے اور اُسکا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں چڑھونگا اور زمین کو چھپا لُونگا ۔میں شہروں کو اور اُنکے باشندوں کو نیست کردنگا ۔
9گھوڑے برانگیختہ ہوں۔ رتھ ہوا ہو جائیں اور کُوش وفوط ؔ کے بہادر جو سپر بردار ہیں اور لُودی جو کمان کشی اور تیرا ندازی میں ماہر ہیں نکلیں ۔
10کیونکہ یہ خدا وند ربُّ الافواج کا دن یعنی اِنتقام کا زور ہے تاکہ وہ اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لے ۔ پس تلوار کھا جائیگی اور سیر ہوگی اور اُنکے خون سے مست ہوگی کیونکہ خداوند ربُّ الافواج کے لئے شمالی سرزمین میں دریای فراتؔ کے کنارے ایک ذبیحہ ہے۔
11اَے کنواری دُختر مصرؔ !جلعادؔ کو چڑھ جا اور بلسان لے۔ تو بے فائدہ طرح طرح کی دوائیں اِستعمال کرتی ہے۔تو شفا نہ پائیگی۔
12قوموں نے تیری رُسوائی کا حال سُنا اور زمین تیرے نالہ سے معمور ہو گئی کیو نکہ بہادر ایک دوسرے سے ٹکرا کر باہم گرگئے ۔
13وہ کلام جو خداوند نے یرمیاہؔ نبی کو شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے آنے اور ملک مصرؔ کو شکست دینے کے بارے میں فرمایا ۔:۔
14مصرؔ میں آشکارا کرو ۔مجدالؔ میں اِشتہار دوہاں نوفؔ اور تفخیسؔ میں منادی کرو ۔ کہو کہ اپنے آپکو تیار کر کیونکہ تلوار تیری چاروں طرف کھائے جاتی ہے۔
15تیرے بہادر کیوں بھاگ گئے؟ وہ کھڑے نہ ر ہ سکے کیونکہ خداوند نے اُنکو گرادیا ۔
16اُس نے بہتوں کو گمراہ کیا ۔ہاں وہ ایک دوسرے پر گر پڑے اور اُنہوں نے کہا اُٹھو ہم مہلک تلوار کے ظلم سے اپنے لوگوں میں اور اپنے وطن کو پھر جائیں ۔
17وہ وہاں چلائے کہ شاہِ مصرؔ فرعون ؔ برباد ہوا ۔ اُس نے مُقرر ہ وقت کو گذر جانے دیا۔
18وہ بادشاہ جسکا نام ربُّ الافواج ہے یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم جیسا تبورؔ پہاڑوں میں اور جیسا کربلؔ سُمندر کے کنارے ہے ویسا ہی وہ آئیگا ۔
19اَے بیٹی جو مصرؔ میں رہتی ہے ! اِسیر ی میں جانے کا سامان کر کیونکہ نوفؔ ویران اور بھسم ہوگا۔ اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہیگا ۔
20مصرؔ نہایت خوبصورت بچھیا ہے لیکن شمال سے تباہی آتی ہے بلکہ آپہنچی ۔
21اُسکے مزدُور سپاہی بھی اُسکے درمیان موٹے بچھڑوں کی مانند ہیں پر وہ بھی رُوگردان ہوئے ۔وہ اِکٹھے بھاگے۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ اُنکی ہلاکت کا دن اُن پر گیا ۔اُنکی سزا کا وقت آپہنچا ۔
22وہ سانپ کی مانند چلچلائیگی کیونکہ وہ فوج لیکر چڑھائی کرینگے اور کلہاڑے لیکر لکڑ ہاروں کی مانند اُس پر چڑھ آئینگے ۔
23وہ اُسکا جنگل کاٹ ڈالینگے ۔ اگرچہ وہ ایسا گھنا ہے کہ کوئی اُ س میں سے گذر نہیں سکتا خداوند فرماتا ہے کیونکہ وہ ٹڈیو ں سے زیادہ بلکہ بیشمار ہیں ۔
24دُختر مصرؔ رُسوا ہو گی ۔وہ شمالی لوگوں کے حوالہ کی جائیگی ۔
25ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا فرماتا ہے دیکھ میں آمون ؔ نوکو اور فرعون ؔ اور مصرؔ اور اُسکے معبودوں اور اُسکے بادشاہوں کو یعنی فرعون ؔ اور اُنکو جو اُس پر بھروسا رکھتے ہیں سزا دُونگا ۔
26اور میں اُنکو اُنکے جانی دُشمنوں اور شاہِ بابلؔ نبورکدرؔ ضر اور اُسکے مُلازموں کے حوالہ کردُونگا لیکن اِسکے بعد وہ پھر اَیسی آباد ہوگی جیسی اگلے دِنوں میں تھی خداوند فرماتا ہے۔
27لیکن اَے میرے خادم یعقوب ؔ ہراسان نہ ہوں اور اَے اِسراؔ ئیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تجھے دُور سے اور تیری اَولاد کو اُنکی اِسیری کی زمین سے رہائی دُونگا اور یعقوب واپس آئیگا اور آرام وراحت سے رہیگا اور کوئی اُسے نہ ڈرائیگا ۔
28اَے میرے خادِم یعقوب ہراسان نہ ہو خداوند فرماتا ہے کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں ۔ اگرچہ میں اُن سب قوموں کو جن میں میں نے تجھے ہانک دیا نیست ونابودکروُ ں تو بھی میں تجھے نیست ونابود نہ کرونگا بلکہ مناسب تنبیہ کرونگا اور ہر گز بے سزا نہ چھوڑونگا ۔