Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
47 verses
1موآب ؔ کی بابت :۔ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ نبوؔ پر افسوس ! کہ وہ ویران ہوگیا ۔ قر یتائمؔ رُسوا ہوا اور لے لیا گیا مِسجاب ؔ خجل اور پست ہو گیا۔
2اب موآبؔ کی تعریف نہ ہوگی ۔ حسبوُنؔ میں اُنہوں نے یہ کہکر اُسکے خلاف منصوبے باندھے ہیں کہ آؤ ہم اُسے نیست کریں کہ وہ قوم نہ کہلا ئے۔اَے مدمینؔ تو بھی کاٹ ڈالا جائیگا ۔ تلوار تیرا پیچھا کریگی ۔
3حورونایم ؔ میں چیخ پُکار ۔ویرانی اور بڑی تباہی ہو گی ۔
4موآبؔ برباد ہوا۔ اُسکے بچوں کے نوحہ کی آواز سُنائی دیتی ہے۔
5کیونکہ لُوحیت ؔ کی چڑھائی پر آہ ونالہ کرتے ہوئے چڑھینگے ۔یقیناًحوروؔ نایم کی اُترائی پر مخالف ہلاکت کی سی آواز سُنتے ہیں ۔
6بھاگو اپنی جان بچاؤ اور بیابان میں رتمہ کے درخت کی مانند ہو جاؤ۔
7اور چونکہ تو نے اپنے کاموں اور خزانوں پر تکیہ کیا اِسلئے تو بھی گرفتار ہو گا اور کموسؔ اپنے کاہنوں اور اُمرا سمیت اِسیر ہو کر جائیگا ۔
8اور غارتگر ہر ایک شہر پر آئیگا اور کوئی شہر نہ بچیگا ۔وادی بھی ویران ہوگی اور میدان اُجاڑ ہو جائیگا جیسا خداوند نے فرمایا ہے۔
9موآبؔ کو پر لگا دو تاکہ اُڑ جائے کیونکہ اُسکے شہر اُجاڑ ہونگے اور اُن میں کوئی بسنے والا نہ ہو گا۔
10جو خداوند کا کام بے پروائی سے کرتا ہے اور جو اپنی تلوار کو خو نریزی سے باز رکھتا ہے ملُعون ہو ۔
11موآبؔ بچپن ہی سے آرام سے رہا ہے اور اُسکی تلچھٹ تہ نشین رہی ۔نہ وہ ایک برتن سے دوسرے میں اُنڈیلاگیا اور نہ اسیری میں گیا اِسلئے اُسکا مزہ اُس میں قائم ہے اور اُسکی بُو نہیں بدلی ۔
12سو دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں اُنڈیلنے والوں کو اُسکے پاس بھیجوُ نگا کہ وہ اُسے اُلٹا ئیں اور اُسکے برتنوں کو خالی اور مٹکوں کو چکناچور کریں۔
13تب موآبؔ کُموسؔ سے شرمندہ ہو گا جس طرح اِ سراؔ ئیل کا گھبرانا بیت ایلؔ سے جو اُسکا بھروسا تھا خجل ہوا۔
14تم کیونکر کہتے ہو کہ ہم پہلوان ہیں اور جنگ کے لئے زبردست سُورما ہیں ؟۔
15موآبؔ غارت ہوا۔ اُسکے شہروں کا دُھواں اُٹھ رہا ہے اور اُسکے چیدہ جوان قتل ہونے کو اُتر گئے ۔وہ بادشاہ فرماتا ہے جسکا نام ربُّ الافواج ہے ۔
16نزدیک ہے کہ موآبؔ پر آفت آئے اور اُنکا وہاں دوڑاآتا ہے۔
17اَے اُسکے اِردگرد والو سب اُس پر افسو س کرو اور تم سب جو اُسکے نام سے واقف ہو کہو کہ یہ موٹا عصا اور خوبصورت ڈنڈا کیونکر ٹوٹ گیا۔
18اَے بیٹی جو دیبونؔ میں بستی ہے اپنی شوکت سے نیچے اُتر اور پیاسی بیٹھ کیونکہ موآبؔ کا غارتگر تجھ پر چڑھ آیا ہے اور اُس نے تیرے قلعوں کو توڑ ڈالا ۔
19اَے عروعیر ؔ کی رہنے والی تو راہ پر کھڑی ہو اور نگاہ کر۔ بھاگنے والے سے اور اُس سے جو بچ نکلی ہو پُوچھ کہ کیا ماجرا ہے ؟
20موآبؔ رُسوا ہوا کیونکہ وہ پست کردیا گیا ۔ تم واویلا مچاؤ اور چلاؤ ۔ ارنون ؔ میں اشتہار دو کہ موآب ؔ غارت ہو گیا ۔
21اور کہ صحرا کی اطراف پر حولُون پر اور یہصا ہؔ پر اور مفعتؔ پر ۔
22اور دیبونؔ پر اور نبوُپر ؔ اور بیت دِبلتاؔ یم پر ۔
23اور قریتایم ؔ پر اور بیت جموُلؔ پر اور بیت معون ؔ پر ۔
24اور قریوتؔ پر اور بُصرؔ اہ اور ملک موآبؔ کے دُور ونزدیک کے سب شہروں پر عذاب نازل ہوا ہے ۔
25موآبؔ کا سینگ کا ٹا گیا اور اُسکا بازو توڑا گیا خداوند فرماتا ہے ۔
26تم اُسکو مدہوش کرو کیونکہ اُس نے اپنے آپکو خداوند کے مقابل بلند کیا۔ موآب ؔ اپنی قے میں لوٹیگا اور مسخرہ بنیگا ۔
27کیا اِسراؔ ئیل تیرے آگے مسخرہ نہ تھا ؟ کیا وہ چوروں کے درمیان پایا گیا کہ جب کبھی تو اُسکا نام لیتا تھا تو مصرؔ ہلاتا تھا؟ ۔
28اَے موآب ؔ کے باشندو شہروں کو چھوڑدو اور چٹان پر جا بسو او رکبوتر کی مانند بنو جو گہرے غار کے منہ کے کنارے پر آشیانہ بناتا ہے ۔
29ہم نے موآب ؔ کا تکبر سُنا ہے۔ وہ نہایت مغرور ہے ۔ اُسکی گستاخی بھی اور اُسکی شیخی اور اُسکا گھمنڈ اور اُسکے دِل کا تکبر ۔
30میں اُسکا قہر جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے۔ وہ کچھ نہیں اور اُسکی شیخی سے کچھ بن نہ پڑا۔
31اِسلئے میں موآبؔ کے لئے واوَیلا کرونگا۔ہاں سارے موآب ؔ کے لئے میں زار زار رو ؤنگا ۔قیرحرسؔ کے لوگوں کے لئے ماتم کیا جا ئیگا ۔
32اَے سبماہؔ کی تاک میں یغریرؔ کے رونے سے زیادہ تیرے لئے روؤنگا ،تیری شاخیں سُمندر تک پھیل گئیں ۔وہ یغریرؔ کے سُمندر تک پہنچ گئیں ۔غا رتگر تیرے تا بستانی میوؤں پر اور تیرے انگوروں پر آپڑ ا ہے ۔
33خوشی اور شادمانی ہرے بھرے کھیتوں سے موآبؔ کے ملک سے اُٹھائی گئی اور میں نے انگور کے حوض میں مے باقی نہیں چھوڑی ۔اب کوئی للکار کر ۔نہ لتاڑ یگا ۔اُنکا للکا رنا للکارنا نہ ہو گا۔
34حسبونؔ کے رونے سے وہ اپنی آواز کو الیعالہؔ اور یہضؔ تک اور صنغرؔ سے حوروناؔ یم تک ۔عجلت شلیشیاہؔ تک بلند کرتے ہیں کیونکہ نمریمؔ کے چشمے بھی خراب ہوگئے ہیں ۔
35اور خداوند فرماتا ہے کہ جو کوئی اُونچے مقام پر قربانی چڑھاتا ہے اور جو کوئی اپنے معبودوں کے آگے بخور جلاتا ہے موآب میں سے نیست کردونگا ۔
36پس میرا دل موآب ؔ کے لئے بانسری کی مانند آہیں بھرتا اور قیر حرسؔ کے لوگوں کے لئے شہناؤں کی طرح فغان کرتا ہے کیونکہ اُسکا فراوان ذخیرہ تلف ہوگیا ۔
37فی الحقیقت ہر ایک سر منڈا ہے اور ہر ایک داڑھی کتری گئی ہے ۔ ہر ایک کے ہاتھ پر زخم ہے اور ہر ایک کی کمر پر ٹاٹ ۔
38موآبؔ کے سب گھروں کی چھتوں پر اور اُسکے سب بازاروں میں بڑا ماتم ہو گا کیونکہ میں نے موآب ؔ کو اُس کو اُس برتن کی مانند جو پسند نہ آئے توڑا ہے خداوند فرماتا ہے ۔
39وہ واویلا کرینگے اور کہینگے کہ اُس نے کیسی شکست کھائی ! موآب سب اِرد گرد والوں کے لئے ہنسی اور خوف کا باعث ہوگا ۔
40کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ وہ عقاب کی مانند اُڑ یگا اور موآب کے خلاف بازو پھیلا ئیگا ۔
41وہاں کے شہر اور قلعے لے لئے جا ئینگے اور اُس دن موآبؔ کے بہادروں کے دِل زچہ کے دل کی طرح ہونگے۔
42اور موآبؔ ہلاک کیا جائیگا اور قوم نہ کہلائیگا ۔ اِسلئے کہ اُس نے خداوند کے مقابل اپنے آپکو بلند کیا ۔
43خوف اور گڑھا اور دام تجھ پر مسلط ہونگے اَے ساکن موآبؔ خداوند فرماتا ہے۔
44جو کوئی دہشت سے بھاگے گڑھے میں گریگا اور جو گڑھے سے نکلے دام میں پھنسیگا کیونکہ میں اُ ن پر ہاں موآبؔ پر اُنکی سیاست کا برس لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔
45جو بھاگے سوحسبونؔ سے آگ اور سیحون ؔ کے وسط سے ایک شعلہ نکلیگا اور موآب ؔ کی داڑھی کے کونے کو اور ہر ایک فسادی کی چاند کو کھا جائیگا۔
46ہائے تجھ پر اَے موآبؔ ! کموس ؔ کے ہلاک ہوئے کیونکہ تیرے بیٹوں کو اسیر کرکے لے گئے اور تیری بیٹیا ں بھی اسیر ہوئیں۔
47باوُجود اِسکے میں آخری دنوں میں موآبؔ کے اسیروں کو واپس لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔موآب ؔ کی عدالت یہاں تک ہوئی۔