Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
39 verses
1بنی عمون کی بابت :۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ کیا اِسراؔ ئیل کے بیٹے نہیں ہیں ؟ کیا اُسکا کوئی وارث نہیں ؟ پھر ملکومؔ نے کیوں جدؔ پر قبضہ کر لیا اور اُسکے لوگ اُسکے شہروں میں کیوں بستے ہیں ؟ ۔
2اِسلئے دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں بنی عُموّن کے ربہّؔ میں لڑائی کا ہلڑبر پاکر ونگا اور وہ کھنڈ ہو جائیگا اور اُسکی بیٹیا ں آگ سے جلائی جائینگی ۔ تب اِسراؔ ئیل اُنکا جو اُسکے وارث بن بیٹھے تھے وارث ہو گا خداوند فرماتا ہے ۔
3اَے حسبونؔ واویلا کر کہ عیؔ برباد کی گئی ۔اَے ربّہؔ کی بیٹیو چلاؤ اور ٹاٹ اوڑھکر ماتم کرو اور اِحا طوں میں اِدھر اُدھر دوڑو کیونکہ ملکومؔ اسیری میں جائیگا اور اُسکے کاہن اور اُمرا بھی ساتھ جائینگے ۔
4تیری وادی سیراب ہے۔ اَے برگشتہ بیٹی تو اپنے خزانوں پر تکیہ کرتی ہے کہ کون مجھ تک آسکتا ہے؟۔
5دیکھ خداوند ربُّ الافواج فرماتا ہے میں تیرے سب اِردگردوالوں کا خوف تجھ پر غالب کرونگا اور تم میں سے ہر ایک آگے ہانکا جائیگا اور کوئی نہ ہوگا جو آوارہ پھرنے والوں کو جمع کرے ۔
6مگر اُسکے بعد میں بنی عمون کو اسیری سے واپس لاؤنگاخداوند فرماتا ہے۔
7ادومؔ کی بابت :۔ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ کیا تیمانؔ میں خرو مُطلق نہ رہی ؟ کیا عاقلوں کی مصلحت جاتی رہی ؟ کیا اُنکی عقل اُڑ گئی ؟۔
8اَے ددانؔ کے باشندو بھاگو ۔لوٹو اور نشیبوں میں جا بسو کیونکہ میں اِنتقام کے وقت اُس پر عیسو ؔ کی سی مصیبت لاؤنگا ۔
9اگر انگور توڑنے والے تیرے پاس آئیں تو کیا وہ حسب خواہش ہی نہ توڑ ینگے ؟۔
10پر میں عیسو کو بالکل ننگا کرونگا۔ اُسکے پوشیدہ مکانوں کو بے پردہ کردونگا کہ وہ چھپ نہ سکے ۔اُسکی نسل اور اُسکے بھائی اور اُسکے پڑوسی اب نیست کئے جائینگے اور وہ نہ رہیگا ۔
11تو اپنے یتیم فرزندوں کو چھوڑ ۔میں اُنکو زندہ رکھونگا اور تیری بیوائیں مجھ پر توکل کریں ۔
12کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ جو سزا وار نہ تھے کہ پیالہ پئیں اُنہوں نے خوب پیا ۔ کیا تو بے سزا چھوٹ جائیگا؟ تو بے سزا نہ چھوٹیگا بلکہ یقیناًاُس میں سے پئیگا۔
13کیونکہ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ خداوند فرماتا ہے کہ بُصراہؔ جایِ حیرت اور ملامت اور ویرانی اور لعنت ہو گا اور اُسکے سب شہر ابد الاآباد ویران رہینگے۔
14میں نے خداوند سے ایک خبر سُنی ہے بلکہ ایک ایلچی یہ کہنے کو قوموں کے درمیان بھیجا گیا ہے کہ جمع ہو اور اُس پر جا پڑو اور لڑائی کے لئے اُٹھو۔
15کیونکہ دیکھ میں نے تجھے قوموں کے درمیان حقیر اور آدمیوں کے درمیان ذلیل کیا۔
16تیری ہیبت اور تیرے دل کے غرور نے تجھے فریب دیا ہے ۔اَے تو جو چٹانوں کے شگافوں میں رہتی ہے پہاڑوں کی چوٹیوں پر قابض ہے اگرچہ تو عقاب کی طرح اپنا آشیانہ بلند ی پر بنائے تو بھی میں وہاں سے تجھے نیچے اُتا ر ونگا خداوند فرماتا ہے ۔
17اور ادُومؔ بھی جایِ حیرت ہوگا ۔ ہر ایک جو اُدھر سے گُذریگا حیران ہو گا اور اُسکی سب آفتوں کے سبب سے سسُکا ریگا ۔
18جس طرح سُدوم ؔ اور عمورہؔ اور اُنکے آس پاس کے شہر غارت ہوگئے اُسی طرح اُس میں بھی نہ کوئی آدمی بسیگا نہ آدمزادوہاں سکونت کریگا خداوند فرماتا ہے۔
19دیکھ وہ شیر ببر کی طرح یرونؔ کے جنگل سے نکلکر محکم بستی پر چڑھ آئیگا پر میں اچانک اُسکو وہاں سے بھگا دُونگا اور پنے برگزیدہ کو اُس پر مُقرر کرونگا کیونکہ مجھ سا کون ہے؟ کون ہے جومیرے لئے وقت مُقرر کرے ؟ اور وہ چرواہا کون ہے جو میرے مقابل کھڑا ہوسکے؟۔
20پس خداوند کی مصلحت کو جو اُس ادومؔ کے خلاف ٹھہرائی ہے اور اُسکے اِرادہ کو جو اُس نے تیمانؔ کے باشندوں کے خلاف کیا ہے سنو ۔اُنکے گلہ کے سب سے چھوٹوں کو بھی گھسیٹ لے جائینگے ۔یقیناًاُنکا مسکن بھی اُنکے ساتھ برباد ہوگا ۔
21اُنکے گرنے کی آواز سے زمین کانپ جائیگی ۔اُنکے چلانے کا شور بحر قلزم تک سُنائی دیگا۔
22دیکھ وہ چڑھ آئیگا اور اُس دن ادُوم ؔ کے بہادروں کا دل زچہ کے دل کی مانند ہوگا۔
23دمشق کی بابت:۔حمایت اور اِرفاد ؔ شرمندہ ہیں کیونکہ اُنہوں نے بُری خبر سُنی ۔ وہ پگھل گئے ۔سمندر نے جنبش کھائی۔وہ ٹھہر نہیں سکتا ۔
24دمشق کا زور ٹوٹ گیا ۔اُس نے بھاگنے کے لئے منہ پھیرا اور تھرتھر اہٹ نے اُسے آلیا ۔ زچہ کے سے رنج ودرد نے اُسے آپکڑا ۔
25یہ کیونکر ہوا کہ وہ نامور شہر میرا شادمان شہر نہیں بچا؟۔
26سو اُسکے جوان اُسکے بازاروں میں گرجائینگے اور سب جنگی مرد اُس دن کاٹ ڈالے جائینگے ربُّ الافواج فرماتا ہے ۔
27اور میں دمشق کی شہر پناہ میں آگ بھڑکا ؤنگا جو بن ہددؔ کے محلّوں کو بھسم کردیگی ۔
28قیدارؔ کی بابت اور حُضور کی سلطنتوں کی بابت جنکو شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ نے شکست دی:۔خداوند یوں فرماتا ہے کہ اُٹھو قیدارؔ پر چڑھائی کرو اور اہل مشرق کو ہلاک کرو۔
29وہ اُنکے خیموں اور گلوں کو لے لینگے ۔اُنکے پردوں اور برتنوں اور اُونٹوں کو چھین کے جائینگے اور وہ چلا کر اُن سے کہینگے کہ چاروں طرف خوف ہے۔
30بھاگو دور نکل جاؤ ۔نشیب میں بسو اَے حضور کے باشند و خداوند فرماتا ہے کیونکہ شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر نے تمہاری مخالفت میں مشورت کی اور تمہارے خلاف اِرادہ کیا ہے۔
31خداوند فرماتا ہے اُٹھو۔اُس آسودہ قوم پر جو بے فکر رہتی ہے جسکے نہ کواڑے ہیں نہ اڑبنگے اور اکیلی ہے چڑھائی کرو ۔
32اور اُنکے اُونٹ غنیمت کے لئے ہونگے اور اُنکے چوپایوں کی کثرت لُوٹ کے لئے اور میں اُن لوگوں کو جو گاودم داڑھی رکھتے ہیں ہر طرف ہوا میں پراگندہ کرونگا اور میں اُن پر ہر طرف سے آفت لاؤنگا خداوند فرماتا ہے ۔
33اور حضور گیڈروں کا مقام ہمیشہ کا ویرانہ ہوگا ۔نہ کوئی آدمی وہاں بسیگا اور نہ کوئی آدمزاد اُس میں سکونت کریگا ۔
34خداوند کاکلام جو شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کی سلطنت کے شروع میں عیلام ؔ کی بابت یرمیاہؔ نبی پر نازل ہوا۔
35کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں عیلام ؔ کی کمان اُنکی بڑی توانائی کو توڑ ڈالونگا ۔
36اور چاروں ہواؤں کو آسمان کونوں سے عیلام ؔ لاؤنگا اور اُن چاروں ہواؤں کی طرف اُنکو پرگندہ کرونگا اور کوئی ایسی قوم نہ ہو گی جس تک عیلامؔ کے جلاوطن نہ پہنچینگے۔
37کیو نکہ میں عیلام ؔ کو اُنکے مُخالفوں اور جانی دُشمنوں کے آگے ہراسان کرونگا اور اُن پر ایک بلا یعنی قہر شدید کو نازل کرونگا خداوند فرماتا ہے اور تلوار کو اُنکے پیچھے لگادو نگا یہاں تک کہ اُنکو نابود کر ڈالونگا۔
38اور میں اپنا تخت عیلامؔ میں رکھونگا اور وہاں سے بادشاہ اور اُمرا کو نابود کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔(
39پر آخری دِنوں میں یوں ہوگا کہ میں عیلام ؔ کو اسیری سے واپس لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔