Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
46 verses
1وہ کلام جو خداوند نے بابلؔ اور کسدیوں کے ملک کی بابت یرمیاہؔ نبی کی معرفت فرمایا :۔
2قوموں میں اِعلان کرو اور اِشتہار دو اور جھنڈ ا کھڑا کرو ۔منادی کرو ۔پوشیدہ نہ رکھو ۔کہدو کہ بابلؔ لے لیا گیا ۔بیل ؔ رُسوا ہُوا ۔مرودکؔ سراسمیہ ہوگیا ۔اُسکے بُت خجل ہُوئے ۔اُسکی مُورتیں توڑی گئیں ۔
3کیونکہ شمال سے ایک قوم اُس پر چڑھی چلی آتی ہے جو اُسکی سرزمین کو اُجاڑدیگی یہاں تک کہ اُس میں کو ئی نہ رہیگا ۔وہ بھاگ نکلے ۔وہ چلدئے کیا اِنسان کیا حیوان ۔
4خداوند فرماتا ہے اُن دِنوں میں بلکہ اُسی وقت بنی اِسراؔ ئیل آئینگے ۔وہ اور بنی یہوداہ اِکٹھے روتے ہُوئے چلینگے اور خداوند اپنے خدا کے طالب ہونگے ۔
5وہ صُّیون ؔ کی طرف مُتوجہّ ہو کر اُسکی راہ پُوچھینگے کہ آؤ ہم خداوند سے ملکر اُس ابدی عہد کریں جو کبھی فراموش نہ ہو۔
6میرے لوگ بھٹکی ہُوئی بھیڑوں کی مانند ہیں ۔اُنکے چرواہوں نے اُنکو گمراہ کر دیا ۔اُنہوں نے اُنکو پہاڑوں پر لے جاکر چھوڑ دیا ۔وہ پہاڑوں سے ٹیلوں پر گئے اور اپنے آرام کا مکان بھول گئے ہیں ۔
7سب جنہوں نے اُنکو پایا اُنکو نگل گئے اور اُنکے دُشمنوں نے کہا ہم قصور وار نہیں ہیں کیونکہ اُنہوں نے خداوند کا گناہ کیا ہے ۔وہ خداوند جو مسکن صداقت اور اُنکے باپ دادا کی اُمید گا ہ ہے ۔
8بابلؔ میں سے بھاگو اور کسدیوں کی سر زمین سے نکلو اور اُن بکروں کی مانند ہو جو گلوں کے آگے آگے چلتے ہیں ۔
9کیو نکہ دیکھ میں شمال کی سر زمین سے بڑی قوموں کے انبوہ کو برپاکرونگا اور بابلؔ پر چڑھالاؤنگا اور وہ اُسکے مُقابل صف آرا ہونگے ۔وہاں سے اُس پر قبضہ کر لینگے ۔اُنکے تیر کا ر آزمُودہ بہادر کے سے ہو نگے جو خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ۔
10کسدستان لُوٹا جائیگا اُسے لُوٹنے والے سب آسودہ ہو نگے خداوند فرماتا ہے ۔
11اَے میری میراث کو لُوٹنے والو چونکہ تم شادمان اور خوش ہو اور داؤد نے والی بچھیا کی مانند کُودتے پھاندتے اور طاقتور گھوڑوں کی مانند ہنہناتے ہو۔
12اِسلئے تمہاری ماں نہایت شرمندہ ہوگی ۔تمہاری والد ہ خجالت اُٹھائیگی ۔دیکھو وہ قوموں میں سب سے آخری ٹھہر یگی اور بیابان وخشک زمین اور ریگستان ہوگی ۔
13خداوند کے قہر کے سبب سے وہ آباد نہ ہوگی بلکہ بالکل ویران ہو جائیگی ۔جو کوئی بابلؔ سے گذریگا حیران ہوگا اور اُسکی سب آفتوں کے باعث سُسکاریگا۔
14اَے سب تیر اندازو! بابلؔ کو گھیر کر اُسکے خلاف صف آرائی کرو۔ اُس پر تیر چلاؤ ۔تیروں کا دریغ نہ کرو کیونکہ اُس نے خداوند کا گناہ کیا ہے؟۔
15اُسے گھیر کر تم اُس پر للکار ۔اُس نے اطاعت منظور کر لی ۔اُسکی بُنیادیں دھس گئیں ۔اُسکی دیواریں گرگئیں کیونکہ یہ خداوندکا اِنتقام ہے ۔اُس سے اِنتقام لو۔��یسا اُس نے کیا ویسا ہی تم اس سے کرو ۔
16بابلؔ میں ہر ایک بونے والے کو اور اُسے جو دِرَد کے وقت درانتی پکڑے کاٹ ڈالو ۔ ظالم کی تلوار کے ہیبت سے ہر ایک اپنے لوگوں میں جاملیگا اور ہر ایک اپنے وطن کو بھا گ جائیگا ۔
17اِسراؔ ئیل پراگندہ بھیڑوں کی مانند ہے۔شیروں نے اُسے رگیدا ہے ۔پہلے شاہِ اسُور نے اُسے کھا لیا اور پھر یہ شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر اُسکی ہڈیوں تک چبا گیا۔
18اِسلئے ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں شاہِ بابلؔ اوراُسکے ملک کو سزادونگا جس طرح میں نے شاہِ اُسورؔ کو سزا دی ہے ۔
19لیکن میں اِسراؔ ئیل کو پھر اُسکے مسکن میں لاؤنگا اور وہ کربلؔ اور بسن ؔ میں چریگا اور اُسکی جان کوہِ افرائیمؔ اور جلعادؔ پر آسُودہ ہو گی ۔
20خداوند فرماتا ہے اُن دِنوں میں اور اُسی وقت اِسراؔ ئیل کی بدی کرداری ڈھونڈ ے نہ ملیگی اور یہوداہؔ کے گناہوں کا پتہ نہ ملیگا کیونکہ جنکو میں باقی رکھو نگا اُنکو معاف کرونگا
21مراتایمؔ کی سر زمین پر اور فقودؔ کے باشندوں پر چڑھائی کر ۔اُسے ویران کر اور اُنکو بالکل نابودکر خداوند فرماتا ہے جو کچھ میں نے تجھے فرمایا ہے اُس سب کے مطابق عمل کر ۔
22ملک میں لڑائی اور بڑی ہلاکت کی آواز ہے ۔
23تمام دُنیا کا ہتھوڑا کیونکر کاٹا اور توڑا گیا! بابلؔ قوموں کے درمیان کیسا جایِ حیرت ہوا!۔
24میں نے تیرے لئے پھندا لگا یا اور اَے بابلؔ تو پکڑا گیا اور تجھے خبر نہ تھی ۔تیرا پتہ ملا اور تو گرفتا ر ہوگیا کیونکہ تو نے خداوند سے لڑائی کی ہے ۔
25خداوند نے اپنا سلاخ خانہ کھولا اور اپنے قہر کے ہتھیاروں کو نکالا ہے کیونکہ کسدیوں کی سر زمین میں خداوند ربُّ الافواج کو کچھ کرنا ہے ۔
26سرے سے شروع کرکے اُس پر چڑھو اور اُسکے انبار خانوں کو کھولو ۔اُسکو کھنڈر کر ڈالو اور اُسکو نیست کرو ۔اُسکی کوئی چیز باقی نہ چھوڑو ۔
27اُسکے سب بیلوں کو ذبح کرو ۔اُنکو مسلخ میں جانے دو۔ اُن پر افسوس ! کہ اُنکا دن آگیا ۔اُنکی سزا کا وقت آپہنچا ۔
28سرزمین بابلؔ سے فراریوں کی آواز ! وہ بھاگتے اور صیون میں خداوند ہمارے خدا کے اِنتقام یعنی اُسکی ہیکل کے اِنتقام کا اِعلان کرتے ہیں ۔
29تیر اندازوں کو بُلا کر اکٹھا کرو کہ بابلؔ پر جائیں ۔سب کمانداروں کو ہر طرف سے اُسکے مُقابل خیمہ زن کرو۔وہاں سے بچ نہ نکلے ۔اُسکے کام کے موافق اُسکو بدلہ دو ۔سب کچھ جو اُس نے کیا اُس سے کرو کیونکہ اُس نے خداوند اِسراؔ ئیل کے قُدُّوس کے حضور بہت تکبرُّ کیا۔
30اِسلئے اُسکے جوان بازاروں میں گرجائینگے اور سب جنگی مرد اُس دن کاٹ ڈالے جائینگے خداوند فرماتا ہے۔
31اَے مغرور دیکھ میں تیرا مخالف ہوں خداوند ربُّ الافواج فرماتا ہے کیونکہ تیرا وقت آپہنچا ہاں وہ وقت جب میں تجھے سزادوُں۔
32اوروہ گھمنڈی ٹھو کر کھائیگا ۔ وہ گریگا اور کوئی اُسے نہ اُٹھا ئیگا اور میں اُسکے شہروں میں آگ بھڑکاؤنگا اور وہ اُسکی تمام نواحی کو بھسم کردیگی ۔
33ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ بنی اِسراؔ ئیل اور بنی یہوداہؔ دونوں مظلوم ہیں اور اُنکو اسیر کرنے والے اُنکو قید میں رکھتے ہیں اور چھوڑنے سے اِنکار کرتے ہیں ۔
34اُنکا چھڑانے والا زور آور ہے۔ ربُّ الافواج اُسکا نام ہے ۔ وہ اُنکی پوری حمایت کریگا تاکہ زمین کو راحت بخشے اور بابلؔ کے باشندوں کو پریشان کرے۔
35خداوند فرماتا ہے کہ تلوار کسدیوں پر اور بابل ؔ کے باشندوں پر اور اُسکے اُمر ا اور حکمار پر ہے
36لافزنوں پر تلوار ہے۔وہ بیوقوف ہو جائینگے۔اُسکے بہادروں پر تلوار ہے ۔وہ ڈر جائینگے۔
37اُسکے گھوڑوں اور رتھوں اور سب ملے جلے لوگو ں پر جو اُس میں ہیں تلوار ہے ۔ وہ عورتوں کی مانند ہو نگے ۔اُسکے خزانوں پر تلوار ہے ۔وہ لوٹے جائینگے۔
38اُسکی نہروں پر خشک سالی ہے ۔ وہ سُوکھ جائینگی کیونکہ وہ تراشی ہُوئی مُورتوں کی مملکت ہے اور وہ بتوں پر شفیتہ ہیں ۔
39اِسلئے دشتی درندے گیدڑوں کے ساتھ وہاں بسینگے اور شتر مُرغ اُس میں بسیرا کرینگے اور وہ پھر ابد تک آباد نہ ہوگی ۔پُشت درپُشت کوئی اُس میں سُکونت نہ کریگا ۔
40جس طرح خدا نے سُدوم ؔ اور عمُورہؔ اور اُنکے آس پاس کے شہروں کو اُلٹ دیا خداوند فرماتا ہے اُسی طرح کوئی آدمی وہاں نہ بسیگا نہ آدمزاد اُس میں رہیگا ۔
41دیکھ شمالی ملک سے ایک گروہ آتی ہے اور اِنتہایِ زمین سے ایک بڑی قوم اوربہت سے بادشاہ برانگیختہ کئے جائینگے ۔
42وہ تیر انداز ونیزہ باز ہیں وہ سنگدل وبیرحم ہیں ۔اُنکے نعروں کی صداسُمندر کی سی ہے ۔وہ گھوڑوں پر سوار ہیں ۔اَے دُختر بابلؔ وہ جنگی مردوں کی مانند تیرے مُقابل صف آرائی کرتے ہیں ۔
43شاہِ بابلؔ نے اُنکی شہرت سُنی ہے ۔اُسکے ہاتھ ڈھیلے ہوگئے ۔وہ زچہّ کی مانند مُصیبت اور درد میں گرفتار ہے ۔
44دیکھ وہ شیر ببر کی طرح یردنؔ کے جنگل سے نکلکر محکم بستی پر چڑھ آئیگا پر میں اچانک اُسکو وہاں سے بھگا دُونگا اور اپنے برگزیدہ کو اُس پر مُقررکرونگا کیونکہ مجھ سا کون ہے؟ کون ہے جو میرے لئے وقت مُقر ر کرے ؟ اور وہ چرواہا کون ہے جو میرے مُقابل کھڑا ہوسکے ؟۔
45پس خداوند کی مصلحت کو جو اُس نے بابلؔ کے خلاف ٹھہرائی ہے اور اُسکے اِرادہ کو جو اُس نے کسدیوں کی سر زمین کے خلاف کیا ہے سُنو ۔ یقیناًاُنکا مسکن بھی اُنکے ساتھ بر باد ہوگا۔
46بابلؔ کی شکست کے شور سے زمین کاپنتی ہے اور فریاد کو قوموں نے سُنا ہے۔