Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
64 verses
1خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں بابلؔ پر اور اُس مخالف دارُلسّلطنت کے رہنے والوں پر ایک مہلک ہوا چلا ؤنگا ۔
2اور میں اُسانے والوں کو بابلؔ میں بھیجونگا کہ اُسے اُسائیں اور اُسکی سرزمین کو خالی کریں ۔یقیناًاُسکی مُصیبت کے دن وہ اُسکے دُشمن بنکر اُسے چاروں طرف سے گھیر لینگے ۔
3اُسکے کمانداروں اور زرہ پوشوں پر تیر اندازی کرو ۔تم اُسکے جوانوں پر رحم نہ کرو ۔اُسکے تمام لشکر کو بالکل ہلاک کرو۔
4مقتول کسدیوں کی سرزمین میں گرینگے اور چھدے ہوئے اُسکے بازاروں میں پڑے رہینگے ۔
5کیونکہ اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ کو اُنکے خدا ربُّ الافواج نے ترک نہیں کیا اگرچہ اِن کا ملک اِسراؔ ئیل کے قُدُّوس کی نافرنبرداری سے پُر ہے ۔
6بابلؔ سے نکل بھاگو اور ہر ایک اپنی جان بچا ئے ۔اُسکی بد کرداری کی سزا میں شریک ہو کر ہلاک نہ ہو کیونکہ یہ خداوند کے اِنتقام کا وقت ہے ۔وہ اُسے بدلہ دیتا ہے ۔
7بابلؔ خداوند کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا جس نے ساری دُنیا کو متوالا کیا ۔قوموں نے اُسکی مے پی اِسلئے وہ دیوانہ ہیں ۔
8بابلؔ یکایک گرگیا اور غارت ہوا ۔ اُس پر واویلا کرو ۔اُسکے زخم کے لئے بلسان لو شاید وہ شفا پائے ۔
9ہم تو بابلؔ کی شفا یابی چاہتے تھے پر وہ شفا یاب نہ ہوا ۔تم اُسکو چھوڑو ۔آؤ ہم سب اپنے اپنے وطن کو چلے جائیں کیونکہ اُسکی سزا آسمان تک پہنچی اور افلاک تک بلند ہوئی ۔
10خداوند نے ہماری راستبازی کو آشکارا کیا ۔آؤ ہم صِےُّون میں خداوند اپنے خدا کے کام کا بیان کریں ۔
11تیروں کو صیقل کرو ۔سپروں کو تیار رکھو ۔خداوند نے مادیوں کے بادشاہوں کی رُوح کو اُبھارا ہے کیونکہ اُس کا اِرادہ بابلؔ کو نیست کرنے کا ہے کیونکہ یہ خداوند کا یعنی اُسکی ہیکل کا اِنتقام ہے ۔
12بابلؔ کی دیواروں کے مُقابل جھنڈاکھڑا کرو۔پہرے کی چوکیا ں مضبوط کرو۔ پہرے داروں کو بٹھاؤ ۔کمین گاہیں تیار کرو کیونکہ خداوند نے اہل بابلؔ کے حق میں جو کچھ ٹھہرایا اور فرمایا تھا سو پورا کیا ۔
13اَے نہروں پر سکونت کرنے والی جسکے خزانے فراوان ہیں تیری تمامی کا وقت آپہنچا اور تیری غارت گری کا پیمانہ پُر ہو گیا ۔
14ربُّ الافواج نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے یقیناًمیں تجھ میں لوگوں کو ٹڈیوں کی طرح بھردوُنگا اور وہ تجھ پر جنگ کا نعرہ مارینگے ۔
15اُسی نے اپنی قدرت سے زمین کو بنایا اُسی نے اپنی حکمت سے جہان کو قائم کیا اور اپنی عقل سے آسمان کو تان دیا ہے ۔
16اُسکی آواز سے آسمان میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور وہ زمین کی اِنتہا سے بخارات اُٹھا تا ہے ۔ وہ بارش کے لئے بجلی چمکاتا ہے اور اپنے خزانوں سے ہوا چلاتا ہے ۔
17ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہوگیا ہے ۔سُنار اپنی کھودی ہُوئی مُورت سے رُسوا ہے کیونکہ اُسکی ڈھالی ہُوئی مُورت باطل ہے۔ اُن میں دم نہیں ۔
18وہ باطل فعل فریب ہیں ۔ سزا کے وقت برباد ہو جائینگی ۔
19یعقوب ؔ کا بخرہ اُنکی مانند نہیں کیونکہ وہ سب چیزوں کا خالق ہے اور اِسراؔ ئیل اُسکی میراث کا عصا ہے ۔ربُّ الافواج اُسکا نام ہے۔
20تو میرا گُزر اور جنگی ہتھیار ہے اور تجھی سے میں قوموں کو توڑتا اور تجھی سے سلطنتوں کو نیست کرتا ہوں ۔
21تجھی سے میں گھوڑے اور سوار کو کُچلتا اور تجھی سے رتھ اوراُسکے سوار کو چُور کرتا ہوں ۔
22تجھی سے مرد وزن اور پیر وجوان کو کُچلتا اور تجھی سے نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کو پیس ڈالتا ہوں ۔
23اور تجھی سے چرواہے اور اُسکے گلہ کو کُچلتا اور تجھی سے کسان اور اُسکے جوڑی بیل کو اور تجھی سے سرداروں اور حاکموں کو چُورچُور کردیتا ہوں ۔
24اور میں بابلؔ کو کسدستان کے سب باشندوں کو اُس تما م نقصان کا جو اُنہوں نے صےُِّون ؔ کو تمہاری آنکھوں کے سامنے پہنچایا ہے عوض دیتا ہوں خداوند فرماتا ہے ۔
25دیکھ خداوند فرماتا ہے اَے ہلاک کرنے والے پہاڑ جو تمام رُویِ زمین کو ہلاک کرتا ہے ! میں تیرا مُخالف ہوں اور میں اپنا ہاتھ تجھ پر بڑھاؤنگا اور چٹانوں پر سے تجھے لُڑھکا ؤنگا اور تجھے جلاہُوا پہاڑ بنادوُنگا ۔
26نہ تجھ سے کونے کا پتھر اور نہ بُنیاد کے لئے پتھر لینگے بلکہ تو ہمیشہ تک ویران رہیگا خداوند فرماتا ہے ۔
27ملک میں جھنڈاکھڑا کرو قوموں میں نرسنگا پُھونکو اُنکو اُسکے خلاف مخصوص کرو ۔اراراطؔ اور منّیؔ اور اشکناز ؔ کی مملکتوں کو اُس پر چڑھا لاؤ ۔اُسکے خلاف سپہ سالار مُقرر کرو اور سواروں کو مہلک ٹڈیوں کی طرح چڑھالاؤ ۔
28قوموں کو مادیوں کے بادشاہوں کو اورسرداروں اور حاکموں اور اُنکی سلطنت کے تما م ممالک کو مخصوص کرو کہ اُس پر چڑھائی کریں ۔
29اور زمین کا نپتی اور درد میں مُبتلا ہے کیونکہ خداوند کے اِرادے بابلؔ کی مخالف میں قائم رہینگے کہ بابلؔ کی سر زمین کو ویران اور غیر آباد کر دے ۔
30بابلؔ کے بہادُر لڑائی سے دست بردار اور قلعوں میں بیٹھے ہیں ۔اُنکا زور گھٹ گیا ۔وہ عورتوں کی مانند ہو گئے ۔اُسکے مسکن جلائے گئے ۔اُسکے اڑبنگے توڑے گئے۔
31ہر کارہ ہر کارے سے ملنے کو اور قاصد قاصد سے ملنے کو دُوڑیگا کہ بابلؔ کے بادشاہ کو اِطلاع دے کہ اُسکا شہر ہر طرف سے لے لیا گیا ۔
32اور گذرگاہیں لے لی گئیں اور نیستان آگ سے جلائے گئے اور فوج ہڑ بڑا گئی ۔
33کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دُختر بابلؔ کھلیہان کی مانند ہے جب اُسے روندنے کا وقت آئے ۔تھوڑی دیر ہے کہ اُسکی کٹائی کا وقت آپہنچیگا ۔
34شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر نے مجھے کھا لیا ۔اُس نے مجھے شکست دی ہے ۔اُس نے مجھے خالی برتن کی مانند کردیا ۔اژدہا کی مانند وہ مجھے نگل گیا ۔اُس نے اپنے پیٹ کو میری نعمتوں سے بھر لیا ۔اُس نے مجھے نکال دیا ۔
35صےُِّون ؔ کے رہنے والے کہینگے جو ستم ہم پر اور ہمارے لوگوں پر ہوا بابلؔ پر ہو اور یروشلیم کہیگا میرا خون اہل کسدستان پر ہو۔
36اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تیری حمایت کرونگا اور تیرا اِنتقام لُونگا اور اُسکے بحر کو سکھاؤنگا اور اُسکے سوتے کو خشک کردونگا ۔
37اور بابلؔ کھنڈر ہو جائیگا اور گیدڑوں کا مقام اور حیرت اور سُسکا ر کا باعث ہو گا اور اُس میں کوئی نہ بسیگا
38وہ جوان ببروں کی طرح اِکٹھے گر جینگے ۔وہ شیر بچوں کی طرح غُّرا ئینگے ۔
39اُنکی حالت طیش میں مَیں اُنکی ضیافت کرکے اُنکو مست کُرونگا کہ وہ جلد میں آئیں اور دائمی خواب میں پڑے رہیں اور بیدار نہ ہوں خداوند فرماتا ہے
40میں اُنکو برّوں اور مینڈھوں کی طرح بکروں سمیت مسلخ پر اُتار لاؤنگا ۔
41شیشک ؔ کیونکر لے لیا گیا ! ہاں تمام رویِ زمین کا ستودہ یکبارگی لے لیا گیا ! بابل ؔ قوموں کے درمیان کیسا ویران ہوا!۔
42سمندر بابلؔ پر چڑھ گیا ہے ۔ وہ اُسکی لہروں کی کثرت سے چھپ گیا ۔
43اُسکی بستیا ں اُجڑ گئیں ۔وہ خشک زمین اور صحرا ہو گیا ۔ اَیسی سر زمین جس میں کوئی نہ بستا ہو اور نہ وہاں آدمزاد کا گذر ہو ۔
44کیونکہ میں بابلؔ میں بیل ؔ کو سزا دُونگا اور جو کچھ وہ نگل گیا ہے اُسکے منہ سے نکا لُونگا اور پھر قومیں اُسکی طرف روان نہ ہونگی ہاں !بابلؔ کی فصیل گر جائیگی۔
45اَے میرے لوگو! اُس میں سے نکل آؤ اور تم میں سے ہر ایک خداوند کے قہر شدید سے اپنی جان بچائے ۔
46نہ ہو کہ تمہارا دِل سُست ہو اور تم اُس افوا ہ سے ڈرو جو زمین میں سُنی جائیگی۔ ایک افواہ ایک سال آئیگی اور پھر دُوسری افواہ دُوسرے سال میں اور مُلک میں ظلم ہو گا اور حاکم حاکم سے لڑیگا ۔
47اِسلئے دیکھ وہ دن آتے ہیں کہ میں بابلؔ کی تراشی ہُوئی مُورتوں سے اِنتقام لُونگا اور اُسکی تما م سرزمین رُسوا ہو گی اور اُسکے سب مقتول اُسی میں پڑے رہینگے۔
48تب آسمان اور زمین اور سب کچھ جو اُن میں ہے بابلؔ پر شاد یا نہ بجا ئینگے کیونکہ غارتگر شمال سے اُس پر چڑھ آئینگے ۔خداوند فرماتا ہے ۔
49جس طرح بابلؔ میں بنی اِسراؔ ئیل قتل ہُوئے اُسی طرح بابلؔ میں تمام ملک کے لوگ قتل ہونگے ۔
50تم جو تلوار سے بچ گئے ہو کھڑے نہ ہو ۔چلے جاؤ ۔دُور ہی سے خداوند کو یاد کرو اور یروشلیم کا خیال تمہارے دِل میں آئے ۔
51ہم پر یشان ہیں کیونکہ ہم نے ملامت سُنی ۔ہم شرم آلُودہ ہُوئے کیونکہ خداوند کے گھر کے مقدسوں میں اجنبی گُھس آئے ۔
52اِسلئے دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں اُسکی تراشی ہُوئی مُورتوں کو سزا دُونگا اور اُسکی تمام سلطنت میں گھایل کراہینگے ۔
53ہر چند بابلؔ آسمان پر چڑھ جائے اور اپنے زور کی اِنتہا تک مُستحکم ہو بیٹھے تو بھی غارتگر میری طرف سے اُس پر چڑھ آئینگے خداوند فرماتا ہے ۔
54بابلؔ سے رونے کی اور کسدیوں کی سرزمین سے بڑی ہلاکت کی آواز آتی ہے ۔
55کیونکہ خداوند بابلؔ کو غارت کرتا ہے اور اُسکے بڑے شور وغل کو نیست کریگا ۔اُنکی لہریں سمندر کی طرح شور مچاتی ہیں ۔اُنکے شور کی آوا ز بلند ہے ۔
56اِسلئے کہ غارتگر اُس پر ہاں بابلؔ پر چڑھ آیا ہے اور اُسکے زور آور لوگ پکڑے جائینگے ۔اُنکی کمانیں توڑی جائینگی کیونکہ خداوند اِنتقام لینے والا خدا ہے ۔وہ ضرور بدلہ لیگا ۔
57اور میں اُمرا و حکما کو اور اُسکے سرداروں اور حاکموں کو مست کُرونگا اور وہ دائمی خواب میں پڑے رہینگے اور بیدار نہ ہونگے ۔وہ بادشاہ فرماتا ہے جسکا نام ربُّ الافواج ہے ۔
58ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ بابل ؔ کی چوڑی فصیل بالکل گرادی جائیگی اور اُسکے بلند پھاٹک آگ سے جلا دئے جائینگے ۔یوں لوگوں کی محنت بے فائدہ ٹھہر یگی اور قوموں کا کام آگ کے لئے ہو گا اور وہ ماندہ ہونگے ۔
59یہ وہ بات ہے جو یرمیاہؔ نبی نے سرا یاہؔ بن نیریاہؔ بن محسیا ہؔ سے کہی جب وہ شاہِ یہوداہؔ صدقیاہ ؔ کے ساتھ اُسکی سلطنت کے چوتھے برس بابلؔ میں گیا اور یہ سرایاہؔ خواجہ سراؤں کا سردار تھا ۔
60اور یرمیاہؔ نے اُن سب آفتوں کو جو بابلؔ پر آنے والی تھیں ایک کتاب میں قلمبند کیا ۔یعنی اِن سب باتوں کو جو بابلؔ کی بابت لکھی گئی ہیں ۔
61اور یرمیاہؔ نے سرایاہؔ سے کہا کہ جب تو بابلؔ میں پہنچے تو اِن سب باتوں کو پڑھنا ۔
62اور کہنا اَے خداوند ! تو نے اِس جگہ کی بربادی کی بابت فرمایا ہے کہ میں اِسکو نیست کُرونگا اَیسا کہ کوئی اِس میں نہ بسے نہ اِنسان نہ حیوان پر ہمیشہ ویران رہے ۔
63اور جب تو اِس کتا ب کو پڑھ چکے تو ایک پتھر اِس سے باندھنا اور فراتؔ میں پھینکد ینا ۔
64اور کہنا بابلؔ اِسی طرح ڈوُب جائیگا اور اُس مصیبت کت سبب سے جو میں اُس پر ڈالدوُنگا پھر نہ اُٹھیگا اور وہ ماندہ ہونگے ۔یرمیاہؔ کی باتیں یہاں تک ہیں :۔