Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1جب صدقیاہؔ سلطنت کرنے لگا تو اکیس برس کا تھا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اوراُسکی ماں کا نام حموطل تھا جو لبنا ہی یرمیاہؔ کی بیٹی تھی ۔
2اور جو کچھ یہویقیمؔ نے کیا تھا اُسی کے مطابق اُس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
3کیونکہ خداوند کے غضب کے سبب سے یروشلیم اور یہوداہؔ کی یہ نوبت آئی کہ آخر اُس نے اُن کو اپنے حضور سے دُور ہی کردیا اور صدقیاہؔ شاہِ بابلؔ سے مُسخرف ہو گیا ۔
4اور اُسکی سلطنت کے نویں برس کے دسویں مہینے کے دسویں دِ ن یوں ہوا کہ شاہِ بابلؔ نبورکدؔ رضر نے اپنی ساری فوج سمیت یروشلیم پر چڑھائی کی اور اُسکے مقابل خیمہ زن ہوا اور اُنہوں نے اُسکے مُقابل حصار بنالے ۔
5اور صدقیاہؔ بادشاہ کی سلطنت کے گیارھویں برس تک شہر کا محاصرہ رہا ۔
6اور چوتھے مہینے کے نویں دن سے شہر میں کال ایسا سخت ہو گیا کہ ملک کے لوگوں کے لئے خورش نہ رہی ۔
7تب شہر پناہ میں رخنہ ہو گیا اور دونوں دیواروں کے درمیان جو پھاٹک شاہی باغ کے برابر تھا (اُس سے کسدی شہر کو گھیر ے ہُوئے تھے) اور بیابان کی راہ لی ۔
8لیکن کسدیوں کی فوج نے بادشاہ کا پیچھا کیا اور اُسے یریحوہؔ کے میدان میں جا لیا اور اُسکا سارا لشکر اُسکے پا س سے پراگند ہ ہو گیا تھا ۔
9سو وہ بادشاہ کو پکڑ کر ربلہ ؔ میں شاہِ بابلؔ کے پاس حماتؔ کے علاقہ میں لے گئے اور اُس نے صدقیاہؔ پر فتویٰ دیا۔
10اور شاہِ بابلؔ نے صدقیاہؔ کے بیٹوں کو اُسکی آنکھوں کے سامنے ذبح کیا اور یہوداہؔ کے سب اُمرا کو بھی ربلہؔ میں قتل کیا۔
11اور اُس نے صدقیاہؔ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور شاہِ بابلؔ اُسکو زنجیروں سے جکڑکر بابلؔ کو لے گیا اور اُسکے مرنے کے دِن تک اُسے قید خانہ میں رکھا ۔
12اور شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے عہد کے اُنیسویں برس کے پانچویں مہینے کے دسویں دن جلوداروں کا سردار نبوزؔ رادان جو شاہِ بابلؔ کے حضور میں کھڑا رہتا تھا یروشلیم میں آیا ۔
13اُس نے خداوند کا گھر اور بادشاہ کا قصر اور یروشلیم کے سب گھر یعنی ہر ایک بڑا گھر آگ سے جلادیا ۔
14اور کسدیوں کے سارے لشکر نے جو جلو داروں کے سردار کے ہمراہ تھا یروشلیم کی فصیل کو چاروں طرف سے گرا دیا ۔
15اور باقی لوگوں اور محتاجوں کو جو شہرمیں رہ گئے تھے اور اُنکو جنہوں نے اپنوں کو چھوڑکر شاہِ بابلؔ کی پناہ لی تھی اور عوام میں سے جتنے باقی رہ گئے تھے اُن سب کو نبُوؔ زرادان جلوداروں کا سردار اسیر کرکے لے گیا ۔
16پر جلوداروں کے سردار نبوُزرادانؔ نے ملک کے کنگالوں کو رہنے دیا تا کہ کھیتی اور تاکستانو ں کی باغبانی کریں ۔
17اور پیتل کے اُن سُتونوں کو جو خداوندکے گھر میں تھے اور کُرسیوں کو اور پیتل کے بڑے حوض کو جو خداوند کے گھر میں تھا کسدیوں نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اُنکو سب پیتل بابلؔ کو لے گئے ۔
18اور دیگیں اور بیلچے اور کُلگیر اور لگن اور چمچے اور پیتل کے تمام برتین جو وہاں کام آتھے تھے لے گئے۔
19اور باسن اور انگیٹھیاں اور لگن اور دیگیں اور شمعدان اور چمچے اور پیالے غرض جو سونے کے تھے اُنکے سونے کو اور جو چاندی کے تھے اُنکی چاندی کو جلوداروں کا سردار لے گیا ۔
20وہ دُوستون اور وہ بڑا حوض اورپیتل کے بارہ بیل جو کُرسیوں کے نیچے تھے جنکو سُلیمان ؔ بادشاہ نے خداوند کے گھر کے لئے بنایا تھا اِن سب چیزوں کے پیتل کا وزن بے حساب تھا ۔
21ہر سُتُون اٹھارہ ہاتھ اُونچا تھا اور بارہ ہاتھ کا سُوت اُسکے گرداگر د آتا تھا اور چاراُنگل موٹا تھا ۔ یہ کھو کھلا تھا۔
22اور اُسکے اُوپر پیتل کا ایک تاج تھا اور وہ تاج پانچ ہاتھ بلند تھا ۔اُس تاج پر گرداگرد جالیاں اور انار کی کلیاں سب پیتل کی بنی ہُوئی تھیں اور دُوسرے سُتُون کے لوازِم بھی جالی سمیت اِن ہی کی طرح تھے ۔
23اور چاروں ہواؤں کے رُخ انار کی کلیاں چھیانوے تھیں اور گرداگرد جالیوں پر ایک سو تھیں ۔
24اور جلوداروں کے سردار نے سرایاہؔ سردار کاہن کو اور کاہن ثانی صفیناہؔ کو اور تینوں دربانوں کو پکڑ لیا۔
25اور اُس نے شہر میں سے ایک سردار کو پکڑ لیا جو جنگی مردوں پر مُقرر تھا اور جو لوگ بادشاہ کے حضُور حاضر رہتے تھے اُن میں سات آدمیوں کو جو شہر میں ملے اور لشکر کے سردار کے مُحّرِر کو جو اہل ملک کی موجودات لیتا تھا اور ملک کے آدمیوں میں سے ساٹھ آدمیوں کو جو شہر میں ملے ۔
26اِنکو جلوداروں کا سردار نبوزرادان ؔ پکڑ کر شاہِ بابلؔ کے حُضُور ربلہؔ میں لے گیا۔
27اور شاہِ بابلؔ نے حماتؔ کے علاقہ کے ربلہؔ میں اُنکو قتل کیا ۔سو یہوداہؔ اپنے ملک سے اسیر ہو کر چلا گیا ۔
28یہ وہ لوگ ہیں جنکو نبو کدرؔ ضر اسیر کرکے لے گیا ۔ساتویں برس میں تین ہزار تییس یہودی ۔
29نبوکدرضر ؔ کے اٹھارھویں برس میں یروشلیم کے باشندوں میں آٹھ سو بتیس آدمی اسیر کرکے لے گیا ۔
30نبوکدؔ رضر کے تےئیسویں برس میں جلوداروں کا سردار نبوُزرادانؔ سات سو پینتالیس آدمی یہودیوں میں پکڑ کر لے گیا ۔یہ سب آدمی چار ہزار چھ سوتھے ۔
31اور یہویا کین شاہِ یہوداہؔ کی اسیری کے سینتیسویں برس کے بارھویں مہینے کے پچیسویں دن یوں ہوا کہ شاہِ بابلؔ اویل مُرؔ دوک نے اپنی سلطنت کے پہلے سال یہویاکین شاہِ یہوداہؔ کو قید خانہ سے نکالکر سرفراز کیا۔
32اور اُسکے ساتھ مہربانی سے باتیں کیں اور اُسکی کُرسی اُن سب بادشاہوں کی کُرسیوں سے جو اُسکے ساتھ بابلؔ میں تھے بلند کی ۔
33وہ اپنے قید خانہ کے کپڑے بدلکر عمر بھر برابر اُسکے حُضُور کھانا کھاتا رہا ۔
34اور اُسکو عمر بھر یعنی مرنے تک شاہِ بابلؔ کی طرف سے وظیفہ کے طور پر ہر روز رسد ملتی رہی ۔