Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1یہ وہ کلام ہے جو خداوند کی طرف سے یرمیاہ پر نازل ہوا اور اس نے فرمایا ۔
2تو خداوند کے گھر کے پھاٹک پر کھڑا ہو اور وہاں اس کلام کا اشتہا ر دے اور کہہ اے یہوداہ کے سب لوگو جو خداوند کی عبادت کے لئے ان پھاٹکوں سے داخل ہوتے ہو تو خداوند کا کلام سنو!۔
3رب الافواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اپنی روشیں اور اپنے اعمال درست کرو تو میں تم کو مکان میں بساؤ نگا۔
4جھوٹی باتوں پر بھروسا نہ کرو اور یوں نہ کہتے جاؤ کہ یہ ہے خداوند کی ہیکل ۔خداوند کی ہیکل ۔خداوند کی ہیکل ۔
5کیونکہ اگر تم اپنی روشیں اور اپنے اعمال سراسر درست کرو۔ اگر ہر آدمی اور اسکے ہمسایہ میں پورا انصاف کرو۔
6اگر پردیسی اور یتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو اور اس مکان میں بیگناہ کا خون نہ بہاؤ اور غیر معبودوں کی پیروی جس میں تمہارا نقصان ہے نہ کرو۔
7تو میں تم کو اس مکان اور اس ملک میں بساؤ نگا جو میں تمہارے باپ دادا کو قدیم سے ہمیشہ کے لئے دیا۔
8دیکھو تم جھوٹی باتوں پر جو بے فائدہ ہیں بھروسا کرتے ہو۔
9کیا تم چوری کروگے ۔خون کرو گے ۔ زنا کاری کرو گے جھوٹی قسم کھاؤ گے اور بعل کے لئے بخور جلاؤ گے اور غیر معبودوں کی جنکو تم نہیں جانتے تھے پیروی کروگے۔
10اور میرے حضور اس گھر میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے اگر کھڑے ہوگے اور کہو گے کہ ہم نے خلاصی پائی تاکہ یہ سب نفرتی کام کرو ؟۔
11کیا یہ جو گھر میرے نام سے کہلاتا ہے تمہاری نظر میں ڈاکوؤ ں کا غار بن گیا ؟ دیکھ خداوند فرماتا ہے میں نے خود یہ دیکھا ہے ۔
12پس اب میرے اس مکان کو جاؤ جو سَیلا میں تھا ۔ جس پر پہلے میں نے اپنے نام کو قائم کیا تھا اور دیکھو کہ میں نے اپنے لوگوں یعنی بنی اسرائیل کی شرارت کے سبب سے اس سے کیا کِیا۔
13اور خداوند فرماتا ہے اب چونکہ تم نے یہ سب کام کئے میں نے بر وقت تم کو کہا اور تاکید کی پر تم نے نہ سنا اور میں نے تم کو بلایا پر تم نے جواب نہ دیا۔
14اسلئے میں اس گھر سے جو میرے نام سے کہلاتا ہے جس پر تمہارا اعتماد ہے اور اس مکان سے جسے میں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو دیا وہی کرونگا جو میں نے سَیلا سے کیا ہے ۔
15اور میں تم کو اپنے حضور سے نکال دونگا جس طرح تمہاری ساری برادری افرائیم کی کل نسل کو نکال دیا ہے۔
16پس تو ان لوگوں کے لئے دعا نہ کر اور انکے واسطے آواز بلند نہ کر اور مجھ سے منت اور شفاعت نہ کر کیونکہ میں تیری نہ سنونگا۔
17کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ یہوداہ کے شہروں میں اور یروشیلم کے کوچوں میں کیا کرتے ہیں ؟۔
18بچے لکڑی جمع کرتے ہیں اور باپ آگ سلگاتے ہیں اور عورتیں آٹا گوندھتی ہیں تاکہ آسمان کی ملکہ کے لئے روٹیاں پک��ئیں اور ٖیر معبودوں کے لئے تپاون تپا کر مجھے غضبناک کریں ۔
19خداوند فرماتا ہے کیا وہ مجھ ہی کو غضبناک کرتے ہیں ؟ کیا وہ اپنی ہی روسیاہی کے لئے نہیں کرتے ؟۔
20اسی واسطے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میرا قہرو غضب اس مکان پر اور انسان اور حیوان اور میدان کے درختوں پر اور زمین کی پیداوار پر انڈیل دیا جائیگا اور وہ بھڑکیگا اور بجھیگا نہیں۔
21رب الا فواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اپنے ذبیحوں پر اپنی سوختنی قربانیاں بھی بھڑھاؤ اور گوشت کھاؤ ۔
22کیونکہ جس وقت میں تمہارے باپ دادا کو ملک مصر سے نکال لایا اُنکو سوختنی قربانی اور ذبیحہ کی بابت کچھ نہیں کہااور حکم نہیں دِیا۔
23بلکہ میں نے اُنکو یہ حکم دیا اور فرمایا کہ میری آواز کے شنوا ہو اور میں تمہارا خدا ہونگا اور تم میرے لوگ ہوگے اور جس راہ کی میں تم کو ہدایت کُروں اُس پر چلو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔
24لیکن اُنہوں نے نہ سُنا نہ کان لگایا بلکہ اپنی مصلحتوں اور آگے نہ بڑھے ۔
25جب سے تمہارے باپ دادا ملک مصر سے نکل آئے اب تک میں نے تمہارے پاس اپنے سب خادِ موں یعنی نبیوں کو بھیجا ۔ میں نے اُنکو ہمیشہ بر وقت بھیجا ۔
26لیکن اُنہوں نے میری نہ سُنی اور کان نہ لگایا بلکہ اپنی گردن سخت کی۔ اُنہوں نے اپنے باپ دادا سے بڑھکر بُرائی کی۔
27تو یہ سب باتیں اُن سے کہیگا لیکن وہ تیری نہ سُنینگے ۔ تو اُنکو بُلائیگا لیکن وہ تجھے جواب نہ دینگے ۔
28پس تو اُن سے کہدے کہ یہ وہ قوم ہے جو خداوند اپنے خدا کہ آواز کی شنوا اور تربیت پذیر نہ ہوئی ۔ سّچائی نیست ہو گئی اور اُنکے مُنہ سے جاتی رہی ۔
29اپنے بال کاٹ کر پھینک دے اور پہاڑوں پر جا کر نوحہ کر کیونکہ خداوند نے اُن لوگوں کو جن پر اُسکا قہر ہے ردّ اور ترک کر دیا ہے۔
30اِسلئے کہ بنی یہوداہ نے میری نظر میں بُرائی کی ۔ خداوند فرماتا ہے اُنہوں نے اُس گھر میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے اپنی مکروہات رکھیں تا کہ اُسے ناپاک کریں۔
31اور اُنہوں نے توفت کے اُونچے مقام بن ہنوم کی وادی میں بنائے تاکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں جلائیں جسکا میں نے حکم نہیں دیا اور میرے دِل میں اِسکا خیال بھی نہ آیا تھا ۔
32اِسلئے خداوند فرماتا ہے دیکھ وہ دِن آتے ہیں کہ یہ نہ توفت کہلائیگی نہ بن ہنوم کہ وادی قتل اور جگہ نہ ہونے کے سبب سے توفت میں دفن کرینگے ۔
33اور اِس قوم کی لاشیں ہوائی پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہونگی اور اُنکو کوئی نہ ہنکائیگا ۔
34تب میں یہوداہ کے شہروں میں اور یروشیلم کے بازاروں میں خوشی اور شادمانی کی آواز ۔دُلہے اور دُلہن کی آواز موقوف کُرونگا کیونکہ یہ ملک ویران ہو جائیگا۔