Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1خداوند فرماتا ہے کہ اُس وقت وہ یہوداہ کے بادشاہوں اور اُسکے سرداروں اور کاہنوں اور نبیوں اور یروشیلم کے باشندوں کی ہڈیاں اُنکی قبروں سے نکال لائینگے ۔
2اور اُنکو سُورج اور چاند اور تمام اجرام فلک کے سامنے جنکو وہ دوست رکھتے اور جنکی خدمت و پیروی کرتے تھے جن سے وہ صلاح لیتے تھے اور جنکو سجدہ کرتے تھے بچھا ئینگے ۔ وہ نہ جمع کی جائینگی نہ دفن ہونگی بلکہ رُویِ زمین پر کھاوبنینگی ۔
3اور وہ سب لوگ جو اِس بُرے گھرانے میں سے باقی بچ رہینگے اُن سب مکانوں میں جہاں جہاں میں اُنکو ہانک دُوں موت کو زندگی سے زیادہ چاہینگے ربُّ الافوج فرماتا ہے۔
4اور تو اُن سے کہدے کہ خداوند ےُوں فرماتا ہے کیا لوگ گر کر پھر نہیں اُٹھتے ؟ کیا کوئی برگشتہ ہو کر واپس نہیں آتا؟۔
5پھر یروشیلم کے یہ لوگ کیوں ہمیشہ کی برگشتگی پر اڑے ہیں؟ وہ مکر سے لپٹے رہتے ہیں اور واپس آنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
6میں نے کان لگایا اور سُنا ۔ اُنکی باتیں ٹھیک نہیں ۔ کسی نے اپنی بُرائی سے توبہ کرکے نہیں کہا کہ میں نے کیا کِیا ؟ ہر ایک اپنی راہ کو پھرتا ہے جِس طرح گھوڑا لڑائی میں سرپٹ دَوڑتا ہے۔
7ہاں ہوائی لقلق اپنے مُقررہ وقتوں کو جانتا ہے اور قمری اور ابابیل اور کُلنگ اپنے آنے کا وقت پہچان لیتے ہیں لیکن میرے لوگ خداوند کے احکام کو نہیں پہچانتے ۔
8تم کیونکر کہتے ہو کہ ہم تو دانشمند ہیں اور خداوند کی شریعت ہمارے پاس ہے ؟ لیکن دیکھ لکھنے والوں کے باطل قلم نے بطالت پیدا کی ہے۔
9دانشمند شرمندہ ہوئے ۔ وہ حیران ہُوئے اور پکڑے گئے ۔ دیکھ اُنہوں نے خداوند کے کلام کو رّد کیا۔ اُن میں کیسی دانائی ہے؟۔
10پس میں اُنکی بیویاں اور وں کو اُنکے کھیت اُنکو دُونگا جو اُن پر قابض ہونگے کیونکہ وہ سب چھوٹے سے بڑے تک لالچی ہیں اور نبی سے کاہن تک ہر ایک دغا باز ہے۔
11اور وہ میری بنتِ قوم کے زخم کو یوُں ہی سلامتی سلامتی کہکر اچھّا کرتے ہیں حالانکہ سلامتی نہیں ہے۔
12کیا وہ اپنے مکُروہ کاموں کے سبب سے شرمندہ ہُوے ؟ وہ ہرگز شرمندہ نہ ہُوئے بلکہ وہ لجائے تک نہیں ۔ اِس واسطے وہ گرنے والوں کے ساتھ گرینگے ۔ خداوند فرماتا ہے جب اُنکو سزا ملیگی تو پست ہو جا ئینگے ۔
13خداوند فرماتا ہے کہ میں اُنکو بِالکل فنا کُرونگا ۔ نہ تاک میں انگور لگینگے اور نہ انجیر کے درخت میں اِنجیر بلکہ پتے بھی سُوکھ جائینگے اور جو کچھ میں نے اُنکو دِیا جاتا رہیگا ۔
14ہم کیوں چُپ چاپ بیٹھے ہیں؟ آؤ اِکٹھے ہو کر مُحکم شہروں میں بھاگ چلیں اور وہاں چُپ ہو رہیں کیونکہ خداوند ہمارے خدانے ہم کو چُپ کرایا اور ہم کو اِندراین کاپانی پینے کو دیا ہے۔ اِسلئے کہ ہم خداوند کے گُنہگار ہیں۔
15سلامتی کا اِنتظار تھا پر ��چھ فائدہ نہ ہوا اور شفا کے وقت کر پر دیکھو دہشت !۔
16اُسکے جنگی گھوڑوں کے غرانے کی آواز دانؔ سے سُنائی دیتی ہے ۔ اُسکے جنگی گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سے تمام زمین کانپ گئی کیونکہ وہ آپہنچے ہیں اور زمین کو اور سب کچھ جو اُس میں ہے اور شہر کو بھی اُسکے باشندوں سمیت کھا جائینگے ۔
17کیونکہ خداوند فرماتا ہے دیکھو میں تمہارے درمیان سانپ اور افعی بھیجو نگا جِن پر منترکار گر نہ ہوگا اور وہ تمکو کاٹینگے ۔
18کاشکہ میں غم سے تسلی پاتا ! میرا دِل مجھ میں سُست ہوگیا ۔
19دیکھ میری بنتِ قوم کے نالہ کی آواز دُور کے ملک سے آتی ہے۔ کیا خداوند صیوُّن میں نہیں ؟ کیا اُسکا بادشاہ اُس میں نہیں ؟ اُنہوں نے کیوں اپنی تراشی ہُوئی مُورتوں سے بیگانہ معبودوں سے مجھکو غضبناک کیا ؟۔
20فصل کاٹنے کا وقت گذرا ۔ گرمی کے ایام تمام ہُوئے اور ہم نے رہائی نہیں پائی۔
21اپنی بنت قوم کی شکستگی کے سبب سے میں شکستہ حال ہُوا ۔ میں کُڑھتا رہتا ہوں ۔ حیرت نے مجھے دبا لیا ۔
22کیا جِلعاد ؔ میں روغن بلسان نہیں ہے؟ کیا وہاں کوئی طبیب نہیں؟ میری بنتِ قوم کیوں شفا نہیں پاتی ؟۔