Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
43 verses
1اور یروشلِیم کے بادشاہ اُدونی صدق نے سنا کہ یشوع نے عی کو سر کر کے اسے نیست و نابُودکر دیا اور جیسا اس نے یریحو اور وہاں کے بادشاہ سے کیا ویسا ہی عیاور اس کے بادشا ہ سے کیا اور جبعون کے باشندوں نے بنی اسرائیل سے صلح کر لی اور ان کے درمیان رہنے لگے ہیں۔
2تو وہ سب بہت ہی ڈرے کیونکہ جبعون ایک بڑا شہر بلکہ شہروں میں سے ایک کی مانند اور عی سے بڑا تھا اور اس کے سب مرد بڑے بہادر تھے۔
3اس لئے یروشلِیم کے بادشاہ اُدونی صدق نے حبرون کے بادشاہ ہُوہام اور یرموت کے بادشاہ پِیرام اور لکِیس کے بادشاہ یافیع اور عجلون کے بادشاہ دبِیرکو یوں کہلا بھیجا کہ۔
4میرے پاس آو اور میری کُمک کرو اور چلو ہم جبعون کو ماریں کیونکہ اُس نے یشوع اور بنی اسرائیل سے صلح کر لی ہے۔
5اس لئے اموریوں کے پانچ بادشاہ یعنی یروشلِیم کا بادشاہ اور حبرون کا بادشاہ اور یرموت کا بادشاہ اور لکِیس کا بادشاہ اور عجلونکا بادشاہ اِکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنی سب فوجوں کے ساتھ چڑھائی کی اور جبعون کے مُقابل ڈیرے ڈال کر اس سے جنگ شروع کی۔
6تب جبعون کے لوگوں نے یشوع کو جو جلجال میں خیمہ زن تھا کہلا بھیجا کہ اپنے خادموں کی طرف سے اپنا ہاتھ مت کھینچ ۔جلد ہمارے پاس پہنچ کر ہم کو بچا اور ہماری مدد کر اسلئے کہ سب اموری بادشاہ جو کوہستانی ملک میں رہتے ہیں ہمارے خلاف اکھٹا ہو ئے ہیں ۔
7تب یشوع سب جنگی مردوں اور سب زبردست سورماﺅں کو ہمرا لیکر جلجال سے چل پڑا ۔
8اور خداوند نے یشوع سے کہا ان سے نہ ڈر ۔اس لئے کہ میںنے ان کوتیرے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔ان میں سے ایک مرد بھی تیرے ساتھ کھڑا نہ رہ سکے گا ۔
9پس یشوع راتوں رات جلجال سے چل کر ناگہان ان پر آن پڑا ۔
10اور خداوند نے ان کو بنی اسرائیل کے سامنے شکست دی اور اس نے ان کو جبعون میں بڑی خونریزی کے ساتھ قتل کیا اور بیت خورون کی چڑھائی کے راستہ پر انکو رگیدا اور عزیقاہ اور مقیدہ تک انکو مارتا گیا ۔
11اور جب وہ اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگے اور بیت خورون کے اتار پر تھے توخداوند نے عزیقاہ تک آسمان سے ان پر بڑے بڑے پتھر برسائے اور وہ مر گئے اور جو اولوں سے مرے وہ ان سے جنکو بنی اسرائیل میں تہ تیغ کیا کہیں زیادہ تھے ۔
12اور اس دن جب خداوند نے اموریوں کو بنی اسرائیل کے قابو میں کر دیا یشوع نے خداوند کے حضور بنی اسرائیل کے سامنے یہ کہا ۔ اے سورج !تو جبعون پر اور اے چاند!تو وادی ایالون میں ٹھہرا رہ۔
13اور سورج ٹھہر گیا اور چاند تھما رہا جب تک قوم نے اپنے دشمنوں سے اپنا انتقام لے لیا ۔کیا یہ آشر کی کتاب میں نہیں لکھا ہے ؟اور سورج آسمان کے بیچوں بیچ ٹھہر ا رہا اور تقریباََ سارے دن ڈوبنے میں جلدی نہ کی ۔
14اور ایسا دن نہ کبھی اس سے پہلے ہوا اور نہ اسکے بعد جس میں خداوند نے کسی آدمی کی بات سنی ہو کیونکہ خداوند اسرائیلیوں کی خاطر لڑا ۔
15پھر یشوع اور اسکے ساتھ سب اسرائیلی جلجال کو خیمہ گاہ میں لوٹے ۔
16اور وہ پانچوں بادشاہ بھاگ کر مقیدہ کے غار میںجا چھپے ۔
17اور یشوع کو یہ خبر ملی کہ وہ پانچوں بادشاہ مقیدہ کے غار میں چھپے ہو ئے ملے ہیں۔
18یشوع نے حکم کیا کہ بڑے بڑے پتھر ا س غار کے منہ پر لڑھکا دو اور آدمیوں کو اسکے پاس ان کی نگہبانی کے لئے بٹھا دو ۔
19پر تم نہ رکو ۔تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کر و اور ان میں کے جو جو بچھڑ گئے ہیں ان کو مار ڈالو ۔ان کو مہلت نہ دو کہ اوہ اپنے اپنے شہر میں داخل ہوں ۔اس لئے خداوندتمہارے خدا نے ان کو تمہارے قبضہ میں کر دیا ہے ۔
20اور جب یشوع اور بنی اسرائیل بڑی خونریزی کے ساتھ ان کو قتل کر چکے یہاں تک کہ وہ نیست ونابود ہو گئے اور وہ جو ان میں سے باقی بچے فیصل دار شہر وں میں داخل ہو گئے ۔
21تو سب لوگ مقیدہ میں یشوع کے پاس لشکر گاہ کو سلامت لوٹے اورکسی نے بنی اسرائیل میں سے کسی کے بر خلاف زبان نہ ہلائی ۔
22پھر یشوع نے حکم دیا کہ غار کا منہ کھولو اورو ان پانچوں بادشاہوں کو غار سے باہر نکال کر میرے پاس لا ؤ۔
23انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ ان پانچوں بادشاہوں کو یعنی شاہ یروشلیم اور شاہ حبرون اور شاہ یرموت اور شاہ لکیس اور شاہ عجلون کو غار سے نکال کر ا س کے پاس لائے ۔
24اور جب وہ ان کو یشوع کے سامنے لائے تو یشوع نے سب اسرائیلیوں کو بلوایا اور ان جنگی مردوں کے سرداروں سے جو اس کے ساتھ گئے تھے یہ کہا کہ نزدیک آکر اپنے اپنے پاﺅں ان بادشاہوں کی گردنوں پر رکھو ۔ا نہوں نے نزدیک آکر انکی گردنوں پر اپنے اپنے پاؤں رکھے ۔
25اور یشوع نے ا ن سے کہا خوف نہ کرو اور ہراساں مت ہو ۔مضبوط ہو جاﺅ اور حوصلہ رکھو اس لئے کہ خداوند تمہارے سب دشمنوں سے جن کا مقابلہ تم کرو گے ایسا ہی کریگا ۔
26اس کے بعد یشوع نے ان کو مارا اور قتل کیا اور پانچ درختوں پر ان کو ٹانگ دیا ۔سو وہ شام تک درختوں پر ٹنگے رہے ۔
27اور سورج ڈوبتے وقت انہوں نے یشوع کے حکم سے انکو درختوں پر سے اتار کر اسی غار میں جس میں وہ جا چھپے تھے ڈال دیا اور غار کے منہ پر بڑے بڑے پتھر دھر دئے جو آج تک ہیں ۔
28اور اسی دن یشوع نے مقیدہ کو سر کر کے اسے تہ تیغ کیا اور اس کے بادشاہ کو اور اس کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور مقیدہ کے بادشاہ سے اس نے وہی کیا جو یریحو کے بادشاہ سے کیا تھا ۔
29پھر یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی مقیدہ سے لبناہ کو گئے اور وہ لبناہ سے لڑا۔
30اور خداوند نے اس کو بھی بنی اسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا اور اس نے اسے اور اس کے سب لوگوں کو تہ تیغ کیا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور وہاں کے بادشاہ سے ویسا ہی کیا جو یریحو کے بادشاہ سے کیا تھا ۔
31پھر لبناہ سے یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی لکیس کو گئے اور اسکے مقابل ڈیرے ڈال لئے اور وہ اس سے لڑا ۔
32اور خداوند نے لکیس کو اسرائیل کے قبضہ میں کر دیا ۔اس نے دوسرے دن اس پر فتح پائی اور اسے تہ تیغ کیا اور سب لوگوں کو جو اس میں تھے قتل کیا جس طرح اس نے لبناہ سے کیا تھا ۔
33اس وقت جزر کا بادشاہ ہورم لکیس کی کمک کو چڑھ آیا ۔سو یشوع نے اس کو اور اس کے آدمیوں کو مارا یہاں تک کہ اس کا ایک بھی جیتا نہ چھوڑا۔
34اور یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی لکیس عجلون کو گئے اورا س کے مقابل ڈیرے ڈال کر اس سے جنگ شروع کی۔
35اور اسی دن اسے سر کر لیا اور اسے تہ تیغ کیا اور ان سب لوگوں کو جو اس میں تھے اس نے اسی دن بالکل ہلاک کر ڈالا جیسا اس نے لکیس سے کیا تھا۔
36پھر عجلون سے یشوع اور اسکے ساتھ سب اسرائیلی حبرون کو گئے اور اس سے لڑے ۔
37اور انہوں نے اسے سر کر کے اسے اور اس کے بادشاہ اور اس کی سب بستیوں اور وہاں کے سب لوگوں کو تہ تیغ کیا اور جیسا اس نے عجلون سے کیا تھا ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑا بلکہ اسے وہاں کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا ۔
38پھر یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی دبیر کو لوٹے اور اس سے لڑے ۔
39اور اس نے اسے اور اسکے بادشاہ اور اس کی سب بستیوں کو فتح کر لیا اور انہوں نے ان کو تہ تیغ کیا اور سب لوگوں کو جو اس میں تھے بالکل ہلاک کر دیا ۔اس نے ایک بھی باقی نہ چھوڑا جیسا اس نے حبرون اور اس کے بادشاہ سے کیا تھا ویسا ہی دبیر اور اس کے بادشاہ سے کیا ۔ایسا ہی اس نے لبناہ اور اس کے بادشاہ سے بھی کیا تھا ۔
40سو یشوع نے سارے ملک کو یعنی کوہستانی ملک اور جنوبی قطعہ اور نشیب کی زمین اور دھلانوں اور وہاں کے سب بادشاہوں کو مارا ۔اس نے ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑا بلکہ وہاں کے ہر متقس کو جیسا خداوند اسرائیل کے خدا نے حکم کیا تھا بالکل ہلاک کر ڈالا ۔
41اور یشوع نے ان کو قادس پر نیع سے لے کر غزہ تک اور جشن کے سارے ملک کے لوگوں کو جبعون تک مارا ۔
42اور یشوع نے ان بادشاہوں پر ان کے ملک پر ایک ہی وقت میں تسلط حاصل کیا اس لئے کہ خداوند اسرائیل کا خدااسرائیل کی خاطر لڑا ۔
43پھر یشوع اور سب اسرائیلی ا س کے ساتھ جلجال کو خیمہ گاہ میں لوٹے ۔