Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1اور جب ان سب حِتّی ۔ اموری ۔ کنعانی۔ فرزّی ۔ حوّی اور یبوسی بادشاہوں نے جو یردن کے اس پار کوہستانی ملک اور نشیب کی زمین اوربڑے سمندر کے اس ساحل پر جو لُبنان کے سامنے ہے رہتے تھے یہ سُنا ۔
2تو وہ سب کے سب فراہم ہوئے تاکہ مُتفِق ہو کر یشوع اور بنی اسرائیل سے جنگ کریں۔
3اور جب جبعون کے باشندوں نے سُنا کہ یشوع نے یریحو اور عی سے کیا کیا کِیا ہے ۔
4تو انہوں بھی حِیلہ بازی کی اور جا کر سفِیروں کا بھیس بھرا اور پرانے بورے اور پرانے پھٹے ہوئے اور مرمّت کئے ہوئے شراب کے مشکیزے اپنے گدھوں پر لادے۔
5اور پاوں میں پُرانے پیوند لگے ہوئے جوتے اور تن پر پرانے کپڑے ڈالے اور ان کے سفر کا توشہ سو کھی پھپھوندی لگی ہوئی روٹیاں تھیں۔
6اور وہ جلجال میں خیمہ گاہ کو یشوع کے پاس جا کر اس سے اور اسرائیلیوں مردوں سے کہنے لگے ہم ایک دُور ملک سے آئے ہیں سو اب تم ہم سے عہد باندھو۔
7تب اسرئیلی مردوں نے اُن حویّوں سے کہا کہ شاید تم ہمارے درمیان ہی رہتے ہو ۔ پس ہم تم سے کیونکر عہد باندھیں ؟ ۔
8انہوں نے یشوع سے کہا ہم تیرے خادم ہیں۔ تب یشوع نے ان سے پوچھا تم کون ہو اور کہا سے آئے ہو؟ ۔
9انہوں نے اس سے کہا تیرے خادم ایک دُور کے ملک سے خداوند تیرے خدا کے نام کے باعث آئے ہیں کیونکہ ہم نے اس کی شہرت اور جو کچھ اس نے مصر میں کیا ۔
10اور جو کچھ اس نے امورویوں کے دونوں بادشاہوں سے جو یردن کے اس پار تھے یعنی حسبونکے بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج سے جو عستاراتمیں تھا کِیا سب سُنا ہے۔
11سو ہمارے بزرگوں اور ملک کے سب باشندوں نے ہم سے یہ کہا کہ تم سفر کے لئے اپنے ہاتھ میں توشہ لے لو اور ان سے ملنے کو جاو اور ان سے کہو کہ ہم تمہارے خادم ہیں سوتم اب ہمارے ساتھعہد باندھو۔
12جس دن ہم تمہارے پاس آنے کو نکلے ہم نے اپنے اپنے گھر سے اپنے توشہ کی روٹی گرم گرم لی اور اب دیکھو وہ سُوکھی ہے اور اسے پھپھوندی لگ گئی ۔
13اور مے کے یہ مشکیزے جو ہم نے بھر لئے تھے نئے تھے اور دیکھو ی تو پھٹ گئے اور یہ ہمارے کپڑے اور وجوتے دُور دراز سفر کی وجہ سے پرانے ہو گئے۔
14تب ان لوگوں نے ان کے توشہ میں سے کچھ لیا اور خداوند سے مشورت نہ کی ۔
15اور یشوع نے ان سے صلح کی اور ان کی جان بخشی کرنے کے لئے ان سے عہد باندھا اور جماعت کے اسیروں نے ان سے قسم کھائی ۔
16اور ان کے ساتھ عہد باندھنے سے تین دن کے بعداُن کے سننے میں آیا کہ یہ اُن کے پڑوسی ہیں اور اُن کے دریان ہی رہتے ہیں ۔
17اور بنی اسرائیل کوچ کر کے تیسرے دن اُن کے شہروں میں پہنچے۔ جبعون اور کفیرہ اور بیروت قریت یعرِیم اُن کے شہر تھے۔
18اور بنی اسرائیل نے اُن کو قتل نہ کیا اِس لئے کہ جماعت کے امیروں نے اُن سے خداوند اسرائیل کے خدا کی قسم کھائی تھی اور ساری جماعت ان امیروں پر کُڑکُڑانے لگی ۔
19پر اُن سب امیروں نے ساری جماعت سے کہا کہ ہم اُن سے خداوند اسرائیل کے خدا کی قسم کھائی ہے اس لئے ہم اُنہیں چھو نہیں سکتے ۔
20ہم اُن سے یہی کرینگے اور اُن کو جیتا چھوڑےنگے تا نہ ہو کہ اُس قسم کے باعث جو ہم نے اُن سے کھائی ہے ہم پر غضب ٹوٹے۔
21سو امیروں نے اُن سے یہی کہا کہ اُن کو جیتا چھوڑو۔ پس وہ ساری جماعت کے لئے لکڑہارے اور پانی بھرنے والے بنے جیسا امیروں نے اُن سے کہا تھا ۔
22تب یشوع نے اُن کو بلوا کر ان سے کہا جس حال کہ تم ہمارے درمیان رہتے ہو تم نے یہ کہہ کر ہم کو کیوںفریب دیاکہ ہم تم سے بہت دور رہتے ہیں ۔
23اس لئے اب تم لعنتی ٹھہرے اور میں سے کوئی ایسا نہ رہے گا جو غلام یعنی میرے خدا کے گھر کے لئے لکڑہارا اور پانی بھرنے والا نہ ہو۔
24انہوں نے یشوع کو جواب دیا کہ تیرے خادموں کو تحقیق یہ خبر ملی تھی کہ خداوند تیرے خدا نے اپنے بندہ موسیٰ کو فرمایا کہ سارا ملک تم کو دے اور اس ملک کے سب باشندوں کو تمہارے سامنے سے نیست و نابُود کرے۔ سو ہم کو تمہارے سبب سے اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اس لئے ہم نے یہ کام کیا ۔
25اور اب دیکھ ہم تیرے ہاتھ میں ہیں ۔ جو کچھ تو ہم سے کرنا بھلا اور ٹھیک جانے سو کر۔
26پس اس نے ان سے ویسا ہی کیا اور بنی اسرائیل کے ہاتھ سے ان کو ایسا بچایا کہ انہوں نے ان کو قتل نہ کیا ۔
27اور یشوع نے اُسی دن ان کو جماعت کے لئے اور اس مقام پر جسے خداوند خود چُنے اس کے مذبح کے لئے لکڑہارے اور پانی بھرنے والے مقرّر کِیا جیسا آج تک ہے۔