Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1اور خداوند نے یشوع سے کہا خوف نہ کھا اور نہ ہراسان ہو۔ سب جنگی مردوں کو ساتھ لے اور اُٹھ کر عیپر چڑھائی کر۔ دیکھ میں نے عی کے بادشاہ اور اس کی رعیّت اور اس کے شہر اور اس کے علاقہ کو تیرے قبضہ میں کر دیا ہے۔
2اور تُو عی اور اس کے بادشاہ سے وہی کرنا جو تو نے یریحو اور اس کے بادشاہ سے کیا ۔فقط وہاں کے مالِ غنیمت اور چوپایوں کو تُم اپنے لئے لُوٹ کے طور پر لینا ۔ سو تُو اس شہر کے لئے اسی کے پیچھے اپنے آدمی گھات میں لگا دے۔
3پس یشوع اور سب جنگی مرد عی پر چڑھائی کرنے کو اُٹھے اور یشوعنے تِیس ہزار مردجو زبردست سُورما تھے چُن کر رات ہی کو اُن کو روانہ کیا۔
4اور ان کو یہ حکم دیا کہ دیکھو! تم اس شہر کے مقابل شہر ہی کے پیچھے گھات میں بیٹھنا۔ شہر سے بہت دورنہ جانا بلکہ تم سب تیار رہنا۔
5اور میں ان سب آدمیوں کو لے کر جو میرے ساتھ ہیںشہر کے نزدیک آونگااور ایسا ہو گا کہ جب وہ ہمارا سامنا کرنے کو پہلے کی طرح نکل آئینگے تو ہم ان کے سامنے سے باگینگے۔
6اور وہ ہمارے پیچھے پیچھے نکلے چلے آئینگے یہاں تک کہ ہم ان کو شہر سے دور نکال لے جائےنگے کیونکہ وہ کہینگے کہ یہ تو پہلے کی طرح ہمارے سامنے سے بھاگے جاتے ہیں ۔ سو ہم اُن کے آگے سے بھاگینگے۔
7اور تم گھات میں سے اُٹھ کر شہر پر قبضہ کر لینا کیونکہ خداوندتمہارا خدا اسے تمہارے قبضہ میں کر دے گا۔
8اور جب تم اس شہر کو لے لو تواسے آگ لگا دینا ۔ خداوند کے کہنے کے مطابق کام کرنا ۔ دیکھو میں نے تم کو حکم کر دیا۔
9اور یشوع نے ان کو روانہ کیااور وہ کمِین گاہ میں گئے اور بیتایل اور عی کے درمیان عی کے مغرب کی طرف جا بیٹھے لیکن یشوع اس رات کو لوگوں کے بیچ ٹِکا رہا۔
10اور یشوع نے صبح سویرے اُٹھ کر لوگوں موجودات لی اور وہ بنی اسرائیل کے بزرگوں کو ساتھ لے کر لوگوں کے آگے آگے عی کی طرف چلا۔
11اور سب جنگی مرد جو اس کے ساتھ تھے چلے اور نزدیک پہنچ کر شہر کے سامنے آئے اور عی کے شمال میں ڈیرے ڈالے اور یشوع اور عی کی بیچ ایک وادی تھی ۔
12تب اس نے کوئی پانچ ہزار مردوں کو لے کر بیت ایل اور عی کے درمیان شہر کے مغرب کی طرف اُنکو کمین گاہ میں بٹھایا۔
13سو اُنہوں نے لوگوں کو یعنی ساری فوج کو جو شہر کے شمال میں تھی اور اُن کو جو شہر کی مغربی طرف گھات میں تھے ٹھکانے پر کردیا اوریشوع اُسی رات اُس وادی میں گیا۔
14اور جب عی کے بادشاہ نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے جلدی کی اور سویرے اُٹھے اور شہر کے آدمی یعنی وہ اور اُس کے سب لوگ نکل کر مُعین وقت پر لڑائی کے لئے بنی اِسرائیل کے مقابل میدان کے سامنے آئے اور اُسے خبر نہ تھی کہ شہر کے پیچھے اُس کی گھات میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔
15تب یشوع اور سب اسرائیلیوں نے ایسا دکھایا گویا اُنہوں نے ان سے شِکست کھائی اور بیابان کے راستے ہوکر بھاگے۔
16اور جتنے لوگ شہر میں تھے وہ ان کا پیچھاکرنے کے لئے بُلائے گئے اور اُنہوں نے یشوعکا پیچھا کیا اور شہر سے دور نکلے چلے گئے۔
17اور عی اور بیتایل میں کوئی مرد باقی نہ رہا جو اسرئیلیوں کے پیچھے نہ گیا ہواور انہوں نے شہر کو کھُلا چھوڑ کر اسرائیلیوں کا پیچھا کیا ۔
18تب خداوند نے یشوع سے کہا جو برچھا تیرے ہاتھ میں ہے اسے عی کی طرف بڑھا دے کیونکہ میں اسے تیرے قبضہ میں کر دوں گا اور یشوع نے اس برچھے کو جو اس کے ہاتھ میں تھا شہر کی طرف بڑھایا ۔
19تب اس کے ہاتھ بڑھاتے ہی جو گھات میں تھے اپنی جگہ سے نکلے اور دَوڑ کر شہر میں داخل ہوئے اور اسے سر کر لیا اور جلد شہر میں آگ لگا دی۔
20اور جب عی کے لوگوں نے پیچھے مُڑ کر نظر کی تو دیکھا کہ شہر کا دُھواں آسمان کی طرف اُٹھ رہا ہے اور ان کا بس نہ چلاکہ اِدھر یا اُدھر بھاگیں اور جو لوگ بیابان کی طرف بھاگے تھے وہ پیچھا کرنے والوں پر اُلٹ پڑے۔
21اور جب یشوع اور سب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ گھات والوں نے شہر لے لیا اور شہر کا دھواں اُٹھ رہا ہے اور انہوں نے پلٹ کر عی کو لوگوں کو قتل کیا۔
22اور وہ دوسرے بھی ان کے مقابلہ کو شہر سے نکلے۔ سو وہ سب کے سب اسرائیلیوں کے بیچ میں جو کچھ تواِدھر اور اُدھر تھے پڑگئے اور اُنہوں نے اُن کو مارا یہاں تک کہ کسی کو نہ باقی چھوڑا نہ بھاگنے دیا۔
23اور وہ عی کے بادشاہ کو زندہ گرفتار کر کے یشوع کے پاس لائے ۔
24اور جب اسرائیلی عی کے سب باشندوں کو میدان میں اس بیابان کے درمیان جہاں انہوں نے ان کا پیچھا کیا تھا قتل کر چکے اور وہ سب تلوار سے مارے گئے یہاں تک کہ بالکل فنا ہو گئے توسب اسرائیلی عی کو پھرے اور اسے تہ تیغ کردیا۔
25چنانچہ وہ جو اس دن مارے گئے مرد اور عورت ملا کر بارہ ہزار یعنی عیکے سب لوگ تھے۔
26کیونکہ یشوع نے اپنا ہاتھ جس سے وہ برچھے کو بڑھائے ہوئے تھا نہیں کھینچا جب تک کہ اس نے عی کے سب رہنے والے کو بالکل ہلاک نہ کر ڈالا۔
27اور اسرائیلیوں نے خداوند کے حکم کے مطابق جو اس نے یشوع کو دیا تھا اپنے لئے فقط شہر کے چوپایوں اور مالِ غنیمت کو لُوٹ میں لیا ۔
28پس یشوع نے عی کو جلا کرہمیشہ کے لئے اُسے ایک ڈھیر اور ویرانہ بنا دیا جو آج کے دن تک ہے۔
29اور اس نے عی کے بادشاہ کوشام تک درخت پر ٹانگ کر رکھا اور جوں ہی سورج ڈوبنے لگا انہوں نے یشوع کے حکم سے اس کی لاش کو درخت سے اُتار کر شہر کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور اس پر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دیا جو آج کے دن تک ہے۔
30تب یشوع نے کوہِ عیبالپر خداوند اسرائیل کے خدا کے لئے ایک مذبح بنایا ۔
31جیسا خداوند کے بندہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا اور جیسا موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھا ہے یہ مذبح بے گھڑے پتھروں کا تھا جس پرکسی نے لوہا نہیں لگایا تھا اور انہوں نے سا پر خداوند کے حضور سوختنی قربانیاں اور سامتی کے ذبِیحے گذرانے۔
32اور اس نے وہاں ان پتھروںپر موسیٰ کی شریعت کی جو اس نے لکھی تھی سب بنی اسرائیل کے سامنے ایک نقل کندہ کی۔
33اور سب بنی اسرئیلی اور ان کے بزرگ اور منصب دار اور قاضی یعنی دیسی اور پردیسی دونوں لاوی کاہنوں کے آگے جو خداوند کے عہد کے صندوق کے اُٹھانے والے تھے صندوق کے اِدھر اور اُدھر کھڑے ہوئے۔ ان میں سے آدھے تو کوہِ گرزیم کے مُقابل اور آدھے کوہ ِ عیبال کے مُقابل تھے جیسا خداوند کے بندہ موسیٰ نے پہلے حکم دیا تھا کہ وہ اسرئیلی لوگوں کو برکت دیں۔
34اس کے بعد اس نے شریعت کی سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جَیسی وہ شریعت کی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں پڑھ کر سنائیں۔ چنانچہ جو کچھ موسیٰ نے حکم دیا تھا اس میں سے ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے یشوع نے بنی اسرئیل کی ساری جماعت اور عورتوں اور بال بچوں اور ان مسافروں کے سامنے جو اُن کے ساتھ مل کر رہتے تھے نہ پڑھا ہو۔