Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
26 verses
1لیکن بنی اسرائیل نے مخصوص کی ہوئی چیز میں خیانت کی کیونکہ عکن بن کرمیبن زبدیبن زارحنے جو یہوداہکے قبیلہ کا تھا ان مخصوص کی ہوئی چیزوں میں سے کچھ لے لیا ۔ سو خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑکا ۔
2اور یشوع نے یریحو سے عیکو جو بیت ایل کی مشرقی سمت میں بیت آون کے قریب واقع ہے کچھ لوگ یہ کہہ کر بھیجے کہ جاکرملک کا حال دریافت کرو اور ان لوگوں نے جا کر عی کا حال دریافت کیا ۔
3اور وہ یشوع کے پاس لوٹے اور اس سے کہا سب لوگ نہ جائیں ۔ فقط دو تین ہزار مرد چڑھ جائیں اور عی کو مار لیں۔ سب لوگوں کو وہاں جانے کی تکلیف نہ دے کیونکہ وہ تھوڑے سے ہیں ۔
4چنانچہ لوگوں میں سے تین ہزار مرد کے قریب وہاں چڑھ گئے اور عی کے لوگوں کےسامنے سے بھاگ آئے ۔
5اور عی کے لوگوں نے ان میں سے کوئی چھتِّیس آدمی مار لئے اور پھاٹک کے سامنے سے لے کر شبریم تک ان کو کھد یڑتے آئے اور اُتار پر ان کو مارا۔ سو ان لوگوں کے دل پگھل کر پانی کی طرح ہو گئے ۔
6تب یشوع اور سب اسرائیلی بزرگوں نے اپنے اپنے کپڑے پھاڑے اور خداوند کے عہد کے صندوق کے آگے شام تک زمین پر اُوندھے پڑے رہے اور اپنے اپنے سر پر خاک ڈالی ۔
7اور یشوع نے کہا ہائے لے مالک خداوند ! توہم کو اموریوں کے ہاتھ میں حوالہ کرکے ہمارا ناس کرانے کی خاطر اس قوم کو یردن کے پار کیوں لایا ؟کاش کہ ہم قناعت کرتے اور یردن کے اس پار ہی بُودوباش کرتے۔
8اے مالک اسرائیلیوں کے اپنے دشمنوں کے آگے پیٹھ پھیر دینے کے بعد میں کیا کہوں ! ۔
9کیونکہ کنعانی اور اس ملک کے سب باشندے یہ سن کر ہم کو گھیر لینگے اور ہمارا نام زمین پر سے مٹا ڈالےنگے۔ پھر تو اپنے بزرگ نام کے لئے کیا کریگا ؟ ۔
10اور خداوند نے یشوع سے کہا اُٹھ کھڑا ہو ۔ تو کیوں اس طرح اوندھا پڑا ہے ؟ ۔
11اسرائیلیوں نے گناہ کیا اور انہوں نے اس عہد کو جس کا میں نے ان کو حکم دیا توڑا ہے۔ انہوں نے مخصوص کی چیزوں میں سے کچھ لے بھی لیا اور چوری بھی کی اور ریاکاری بھی کی اور اپنے اسباب میں اسے مِلا بھی لیا ہے۔
12اس لئے بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کے آگے ٹھہر نہیں سکتے ۔ وہ اپنے دشمنوںکے آگے پیٹھ پھیرتے ہیں کیونکہ وہ ملعون ہو گئے ۔ میںآ گے کو تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا جب تک تم مخصوصکی چیز کو اپنے درمیان سے نیست نہ کر دو۔
13اُٹھ لوگوں کو پاک کر اور کہہ کہ تم اپنے آپ کو کل کے لئے پاک کرو کیو نکہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اَے اسرائیلیو! تمہارے درمیان مخصوص کی ہوئی چیز موجود ہے ۔ تم اپنے دشمنوں کے آگے ٹھہر نہیں سکتے جب تک تم اس مخصوص کی ہوئی چیز کو اپنے درمیان سے دور نہ کر دو۔
14سو تم کل صبح کو اپنے اپنے قبیلہ کے مطابق حاضر کئے جاو گے اور جس قبیلہ کو خداوند پکڑے وہ ایک ایک خاندان کر کے پاس آئے اور جس خاندان کو خداوند پکڑے وہ ایک ایک گھر کر کے پاس آئے اور جس گھر کو خداوند پکڑے وہ ایک ایک آدمی کر کے پاس آئے۔
15تب جو کوئی مخصوص کی ہوئی چیز رکھتا ہوا پکڑا جائے وہ اور جو کچھ اس کا ہو سب آگ سے جلا دیا جائے۔ اسلئے کہ اس نے خداوند کے عہد کو توڑ ڈالا اور بنی اسرائیل کے درمیان شرارت کا کام کیا ۔
16پس یشوع نے صبح سویرے اُٹھ کر اسرائیلیوں کو قبیلہ بہ قبیلہ حاضر کیا اور یہوداہ کا قبیلہ پکڑا گیا ۔
17پھر وہ یہوداہ کے خاندانوں کو نزدیک لایا اور زارح کا خاندان پکڑاگیا ۔ پھر وہ زارح کے خاندان کے ایک ایک آدمی کو نزدیک لایااور زبدی پکڑا گیا ۔
18پھر وہ اس کے گھرانے کے ایک ایک مرد کو قریب لایا اور عکن بن کرمی بن زبدی بن زارح جو یہوداہ کے قبیلہ کا تھا پکڑا گیا ۔
19تب یشوع نے عکن سے کہا ۔اَے میرے فرزند میں تیری مِنت کرتا ہُوںکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی تمجید کر اور اس کے آگے اقرار کر ۔ اب تُو مجھے بتا دے کہ تُونے کیا کیا ہے اور مجھ سے مت چِھپا۔
20اور عکن نے یشوع کو جواب دیا فی الحقیقت میں نے خداوند اسرائیل کے خداگناہ کیا ہے اور یہ یہ مجھ سے سرزد ہوا ہے۔
21کہ جب میں نے لوٹ کے مال میں بابلکی ایک نفیس چادر اور دو سو مِثقال چاندی اور پچاس مِثقال سونے کی ایک اینٹ دیکھی تومیں نے للچا کر ان کو لے لیا اور دیکھ وہ میرے ڈیرے میں زمین میں چھپائی ہوئی ہیں اور چاندی ان کے نیچے ہے۔
22پس یشوع نے قاصد بھیجے ۔ وہ اس ڈیرے کو دُوڑے گئے اور کیا دیکھا کہ وہ اس کے ڈیرے میں چِھپائی ہوئی ہیں اور چاندی ان کے نیچے ہے۔
23وہ ان کو ڈیرے میں سے نکال کر یشوع اور سب بنی اسرائیل کے پاس لائے اور اُن کو خداوند کے حضور رکھ دیا ۔
24تب یشوع اورسب اسرائیلیوں نے زارح کے بیٹے عکن کو اور اس چاندی اور چادر اور سونے کی اینٹ کو اور اُسکے بیٹوں اور بیٹیو ں کو اور اُسکے بیلوں اور گدھوں اور بھیڑبکریوں اور ڈیرے کو اور جو کچھ اسکا تھا سب کو لیا اور وادی عکور میں اُنکو لے گئے۔
25اور یشوع نے کہا کہ تُو نے ہم کو کیوں دُکھ دیا؟ خداوند آج کے دِن تجھے دُکھ دیگا! تب سب اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کیا اور انہوں نے اُنکو آگ میں جلایا اور اُنکو پتھروں سے مارا۔
26اور اُنہوں نے اُسکے اُوپر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دِیا جو آج تک ہے تب خُداوند انپے قہر شدید سے باز آیا ۔اِسلئے اُس جگہ کا نام آج تک وادی عکور ہے۔