Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1اس کے بعد یشوع نے اسرائیل کے سب قبیلوں کو سکم میں جمع کیا اور اسرائیل کے بزرگوں اور سرداروں اور قاضیوں اور منصبداروں کو بلوایا اور وہ خدا کے حضور حاضر ہوئے۔
2تب یشوع نے ان سے لوگوں سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تمہارے ابا یعنی ابراہام اور بحور کا باپ تارح وغیرہ قدیم زمانہ میں بڑے دریا کے پار رہتے اور دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔
3اور میں نے تمہارے باپ ابراہا م کو بڑے دریا سے لے کر کعنان کے سارے ملک میں اسکی رہبری کی اور اسکی نسل کو بڑھایا اور اسکو اضحاق عنایت کیا۔
4اور میں نے اضحاق کو عیسو اور یعقوب بخشے اور عیسو کو کوہ شعیر دیا کہ وہ اس کا مالک ہو اور یعقوب اپنی اولاد سمیت مصر میں گیا۔
5اور میں نے موسیٰ اور ہارون کو بھیجا اور مصر پر جو جو میں نے اس میں کیا اس کے مطابق میری مار پڑی اور اس کے بعد میں تم کو نکال لایا۔
6تمہارے باپ دادا کو میں نے مصر سے نکالا اور تم سمندر پر آئے۔ تب مصریوں نے رتھوں اور سواروں کو لے کر بحر قلزم تک تمہارے باپ دادا کا پیچھا کیا۔
7اور جب انہوں نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے تمہارے اور مصریوں کے درمیان اندھیرا کر دیااور سمندر کو ان پر چڑھا لایا اور ان کو چھپا دیا اور تم نے جو کچھ میں نے مصر میں کیا اپنی آنکھوں سے دیکھا اور تم بہت دنوں تک بیابان میں رہے۔
8پھر میں تم کو اموریوں کے ملک میں جو یردن کے اس پار رہتے تھے لے آیا۔ وہ تم سے لڑے اور میں نے تم ان کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا اور تم نے ان کے ملک میں قبضہ کر لیا اور میں نے ان کو تمہارے آگے سے ہلاک کیا۔
9پھر صفور کا بیٹا بلق موآب بادشاہ اٹھ کر اسرائیلیوں سے لڑا اور تم پر لعنت کرنے کو بعور کے بیٹے بلعام کو بلوا بھیجا۔
10پر میں نے نہ چاہا کہ بلعام کی سنوں۔ اس لئے وہ تم کو برکت ہی دیتا گیا۔ سو میں نے تم کو اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
11پھر تم یردن پار ہو کر یریحو کو آئے اور یریحو کے لوگ یعنی اموری اور فرزی اور کعنانی اور حتی اور جرجاسی اور حوی اور یبوسی تم سے لڑے اور میں نے ان کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔
12اور میں نے تمہارے آگے زنبوروں کو بھیجا جنہوںنے دونوں اموری بادشاہوں کو تمہارے سامنے سے بھگا دیا۔ یہ نہ تمہاری تلوار اور نہ تمہاری کمان سے ہوا۔
13اور میں نے تم کو وہ ملک جس پر تم نے محنت نہ کی اور وہ شہر جن کو تم نے بنایا نہ تھا عنائت کئے اور تم ان میں بسے ہو اور تم ایسے تاکستانوں اور ایسوں زیتون کے باغوں کا پھل کھاتے ہو جن کو تم نے نہیں لگایا۔
14پس تم خداوند کا خوف رکھو اور نیک نیتی اور صداقت سے اسکی پرستش کرو اور ان دیوتاﺅں کو دور کر دو جن کی پرستش تمہارے باپ دادا دریا کے پار اور مصر میں کرتے تھے اور خداوند کی پرستش کرو۔
15اور اگر خداوند کی پرستش تمہیں بری معلوم ہوتی ہے تو آج ہی اسے جس کی تم پرستش کرو گے چن لو۔ خواہ وہ وہی دیوتا ہوں جن کی پرستش تمہارے باپ دادا بڑے دریا کے اس پار کرتے تھے یا اموریوں کے دیوتا ہوں جن کے ملک میں تم بسے ہو۔ اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو خداوند کی پرستش کریں گے۔
16تب لوگوں نے جواب دیا کہ خدا نہ کرے کہ ہم خداوند کو چھوڑ کر اور معبودوں کی پرستش کریں۔
17کیونکہ خداوند ہمارا خدا وہی ہے جس نے ہم کو اور ہمارے باپ دادا کو ملک مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکالا اور وہ بڑے بڑے نشان ہمارے سامنے دکھائے اور سارے راستہ جس میں ہم چلے اور ان سب قوموں کے درمیان جن میں سے ہم گزرے ہم کو محفوظ رکھا۔
18اور خداوند نے سب قوموں یعنی اموریوں کو جو اس ملک میں بستے تھے ہمارے سامنے سے نکال دیا۔ سو ہم بھی خداوند کی پرستش کریں گے کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے۔ یشوع نے لوگوں سے کہا تم خداوند کی پرستش نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پاک خدا ہے۔ وہ غیور خدا ہے۔ وہ تمہاری خطائیں اور تمہارے گناہ نہیں بخشے گا۔
19اگر تم خداوند کو چھوڑ کر اجنبی معبودوں کی پرستش کرو تو اگرچہ وہ تم سے نیکی کرتا رہا ہے تو بھی وہ پھر کر تم سے برائی کرے گا اور تم کو فنا کر ڈالے گا۔
21لوگوں نے یشوع سے کہا نہیں ہم پھر بھی خداوند ہی کی پرستش کریں گے۔
22یشوع نے لوگوں سے کہا تم آپ ہی اپنے گواہ ہو کہ تم نے خداوند کو چنا ہے کہ اس کی پرستش کرو۔ انہوں نے کہا ہم گواہ ہیں۔
23تب اس نے کہا پس اب تم اجنبی معبودوں کو جو تمہارے درمیان ہیں دور کر دو اور اپنے دلوں کو خداوند اپنے خدا کی طرف مائل کرو۔
24لوگوں نے یشوع سے کہا ہم خداوند اپنے خدا کی پرستش کریں گے اور اسی کی بات مانیں گے۔
25سو یشوع نے اسی روز لوگوں کے ساتھ عہد باندھا اور ان کےلئے سکم میں آئیں اور قانون ٹھہرایا۔
26اور یشوع نے یہ باتیں خدا کی شریعت کی کتا ب میں لکھ دیں اور ایک بڑا پتھر لے کر اسے وہیں اس بلوط کے درخت کے نیچے جو خداوند کے مقدس کے پاس تھا نصب کیا۔
27اور یشوع نے سب لوگوں سے کہا کہ دیکھو یہ پتھر ہمارا گواہ رہے کیونکہ اس نے خداوند کی سب باتیں جو اس نے ہم سے کہیں سنی ہیں اس لئے یہی تم پر گواہ رہے تا نہ ہو کہ تم اپنے خداوند کا انکار کر جاﺅ۔
28پھر یشوع نے لوگوں کو ان کی اپنی اپنی میراث کی طرف رخصت کر دیا۔
29اور ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ نون کا بیٹ یشوع خڈاوند کا بندہ ایک سو دس برس کا ہو کر رحلت کر گیا۔
30اور انہوں نے اسی کی میراث کی حد پر تمنت سرح میں جو افرائیم کے کوہستانی ملک میں کوہ جعس کے شمال کی طرف کو ہے اسے دفن کیا۔
31اور اسرائیلی خدا کی پرستش یشوع کے جیتے جی اور ان بزرگوں کے جیتے جی کرتے رہے جو یشوع کے بعد زندہ رہے اور خداوند کے سب کاموں سے جو اس نے اسرائیلیوں کے لئے کئے واقف تھے۔
32اور انہوں نے یوسف کی ہڈیوں کو جن بنی اسرائیل مصر سے لے آئے تھے سکم میں اس زمین کے قطعہ میں دفن کیا جسے یعقوب نے سکم کے باپ حمور کے بیٹوں سے چاندی کے سو سکوں میں خریدا تھا اور وہ زمین بنی یوسف کی میراث ٹھہری۔
33اور ہارون کے بیٹے الیعرز نے رحلت کی اور انہوں نے اسے اس کے بیٹے فنحاس کی پہاڑی پر دفن کیا جو افرائیم کے کوہستانی ملک میں اسے دی گئی تھی۔