Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
20 verses
1لیکن کچھ عرصہ کے بعد گیہوں کی فصل کے موسم میں سمسون بکری کا ایک بچہ لے کر اپنی بیوی کے ہاں گیا اور کہنے لگا میں اپنی بیوی کے پاس کوٹھری میں جاﺅں گا پر اس کے باپ نے اسے اندر جانے نہ دیا۔
2اور اسکے باپ نے کہا مجھ کو یقیناً یہ خیال ہوا کہ تجھے اس سے سخت نفرت ہو گئی ہے اس لئے میں نے اسے تیرے رفیق کو دے دیا۔ کیا اس کی چھوٹی بہن اس سے کہیں خوبصورت نہیں ہے؟ سو اس کے عوض تو اسی کو لے لے۔
3سمسون نے ان سے کہا اس بار میں فلستیوں کی طرف سے جب میں ان سے برائی کروں بے قصور ٹھہروں گا۔
4اور سمسون نے جا کر تین سو لومڑیاں پکڑیں اور مشعلیں لیں اور دم سے دم ملائی اور دو دو دموں کے بیچ میں ایک ایک مشعل باندھ دی۔
5اور مشعلوں میں آگ لگا کر اس نے لومڑیوں کو فلستیوں کے کھڑے کھیتوں میں چھوڑ دیا اور پولیوں اور کھڑے کھیتوں دونوں کو بلکہ زیتوں کے باغوں کوبھی جلا دیا۔
6تب فلستیوں نے کہا کس نے یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ تمنتی کے داماد سمسون نے۔ اس لئے کہ اس نے اس کی بیوی چھین کر اس کے رفیق کو دے دی۔ تب فلستیوں نے آکر اس عورت کو اور اس کے باپ کو آگ میں جلا دیا۔
7سمسون نے ان سے کہا کہ تم جو ایسا کام کرتے ہو تو ضرور ہی میں تم سے بدلہ لوں گا اور اس کے بعد باز آﺅں گا۔
8اور اس نے ان کو بڑی خونریزی کے ساتھ مار مار کر ان کا کچومر کر ڈالا اور وہاں سے جاکر ایتام کی چٹان کی دراڑ میں رہنے لگا۔
9تب فلستی جا کر یہوداہ میں خیمہ زن ہوئے اور لحی میں پھیل گئے۔
10اور یہوداہ کے لوگوں کے ان سے کہا تم ہم پر کیوں چڑھ آئے ہو؟ انہوں نے کہا ہم سمسون کو باندھنے آئے ہیں تاکہ جیسا اس نے ہم سے کیا ہم بھی اس سے ویسا ہی کریں۔
11تب یہوداہ کے تین ہزار مرد ایتام کی چٹان کی دراڑ میں اتر گئے اور سمسون سے کہنے لگے کیا تو نہیں جانتا کہ فلستی ہم پر حکمران ہیں؟ سو تو نے ہم سے یہ کیا کیا ہے؟ اس نے ان سے کہا جیسا انہوں نے مجھ سے کیا میں نے بھی ان سے ویسا ہی کیا۔
12انہوںنے اس سے کہا اب ہم آئے ہیں کہ تجھے باندھ کر فلستیوں کے حوالہ کر دیں۔سمسون نے ان سے کہا مجھ سے قسم کھاﺅ کہ تم خود مجھ پر حملہ نہ کرو گے۔
13انہوں نے اسے جواب دیا نہیں بلکہ ہم تجھے کس کر باندھیں گے اور ان کے حوالہ کر دیں گے پر ہم ہرگز تجھے جان سے نہ ماریں گے۔ پھر انہوں نے اسے دو نئی رسیوں سے باندھا اور چٹان سے اسے اوپر لائے۔
14جب وہ لحی میں پہنچا تو فلستی اسے دیکھ کر للکارنے لگے۔تب خداوند کی روح اس پر زور سے نازل ہوئی اور اس کے بازوﺅں پر کی رسیوں آگ سے جلے ہوئے سن کی مانند ہوگئیں اور اس کے بندھن اس کے ہاتھوں پر سے اتر گئے۔
15اور اسے ایک گدھے کے جبڑے کی نئی ہڈی مل گئی سو اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیا اور اس سے اس نے ایک ہزار آدمیوں کو مار ڈالا۔
16پھر سمسون نے کہا ”گدھے کے جبڑے کی ہڈی سے ڈھیر کے ڈھیر لگ گئے۔گدھے کے جبڑے کی ہڈی سے میں نے ایک ہزار آدمیوں کو مارا۔“
17اور جب وہ اپنی بات ختم کر چکا تو اس نے جبڑا اپنے ہاتھ میں سے پھینک دیا اور اس جگہ کا نام رامت لحی پڑ گیا۔اور اس کو بڑی پیاس لگی ۔
18تب اس نے خداوند کو پکارہ اور کہا تو نے اپنے بندہ کے ہاتھ سے ایسی بڑی رہائی بخشی۔ اب کیا میں پیاس سے مروں اور نا مختونوں کے ہاتھ میں پڑوں؟
19پر خدانے اس گڑھے کو جو لحی میں ہے چاک کر دیا اور اس میں سے پانی نکلا اور جب اس نے اسے پی لیا تو اس کی جان میں جان آئی اور وہ تازہ دم ہوا اس لئے اس جگہ کا نام عین ہقورے رکھا گیا۔ وہ لحی میں آج تک ہے۔
20اور وہ فلستیوں کے ایام میں بیس برس تک اسرائیلیوں کا قاضی رہا۔