Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1پھر سمسون غزہ کو گیا۔ وہاں اس نے ایک کسبی دیکھی اور اس کے پاس گیا۔
2اور غزہ کے لوگوں کو خبر ہوئی کہ سمسون یہاں آیا ہے۔ انہوں نے اسے گھیر لیا اور ساری رات شہر کے پھاٹک پر اس کی گھات میں بیٹھے رہے پر رات بھر چپ چاپ رہے اور کہا کہ صبح کوروشنی ہوتے ہی ہم اسے مار ڈالیں گے۔
3اور سمسون آدھی رات تک لیٹا رہا اور آدھی رات کو اٹھ کر شہر کے پھاٹک کے دونوں پلوں اور دونوں بازوﺅں کو پکڑ کر بینڈے سمیت اکھاڑ لیا اور ان کو اپنے کندھوں پر رکھ کر اس پہاڑ کی چوٹی پر جو حبرون کے سامنے ہے لے گیا۔
4اس کے بعد سورق کی وادی میں ایک عورت سے جس کا نام دلیلہ تھا اسے عشق ہو گیا۔
5اور فلستیوں کے سرداروں نے اس عورت کے پاس جا کر اس سے کہا کہ تو اسے پھسلا کر دریافت کر لے کہ اس کی شہزوری کا بھید کیا ہے اور ہم کیونکر اس پر غالب آئیں تاکہ ہم اسے باندھ کر اس کو اذیت پہنچائیں اور ہم میں سے ہر ایک گیارہ سو چاندی کے سکے تجھے دے گا۔
6تب دلیلہ نے سمسون سے کہا کہ مجھے تو بتا دے کہ تیری شہزوری کا بھید کیا ہے اور تجھے اذیت پہنچانے کےلئے کس چیز سے تجھے باندھنا چاہئے؟
7سمسون نے اسے کہا کہ اگر وہ مجھ کو سات ہری ہری بیدوں سے جو سکھائی نہ گئی ہوں باندھیں تو میں کمزور ہو کر اور آدمیوں کی طرح ہو جاﺅں گا۔
8تب فلستیوں کے سردار سات ہری ہر ی بیدیں جو سکھائی نہ گئی تھیں اس عورت کے پاس لے آئے اور اس نے سمسون کو ان سے باندھا ۔
9اور اس عورت نے کچھ آدمی اندر کوٹھری میں گھات میں بٹھا لئے تھے سو اس نے سمسون سے کہا کہ اے سمسون فسلتی تجھ پر چڑھ آئے ! تب اس نے ان بیدوں کو ایسا توڑا جیسے سن کا سوت آگ پاتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ سو اس کی طاقت کا بھید نہ کھلا۔
10تب دلیلہ نے سمسون سے کہا دیکھ تو نے مجھے دھوکہ دیا اور مجھ سے جھوٹ بولا۔
11اس نے اس سے کہا اگر وہ مجھے نئی نئی رسیوں سے جو کبھی کام میں نہ آئی ہوں باندھیں تو میں کمزور ہو کر اور آدمیوں کی طرح ہو جاﺅں گا۔
12تب دلیلہ نے نئی رسیاں لے کر اس کو ان سے باندھا اور اس سے کہا اے سمسون فلستی تجھ پر چڑھ آئے! اور گھات والے اندر کی کوٹھری میں ٹھہرے ہی ہوئے تھے۔ تب اس نے اپنے بازوﺅں پر سے دھاگے کی طرح ن کو توڑ ڈالا۔
13سو دلیلہ سمسون سے کہنے لگی اب تک تو نے مجھے دھوکہ ہی دیا اور مجھ سے جھوٹ بولا ۔ اب تو بتا دے کہ تو کس چیز سے بندھ سکتا ہے؟ اس نے اس سے کہا اگر تو میرے سر کی ساتوں لٹیں تانے کے ساتھ بن دے۔
14تب اس نے کھونٹے سے اسے کس کر باندھ دیا اور اسے کہا اے سمسون فلستی تجھ ہر چڑھ آئے! تب وہ نیند سے جاگ اٹھا اور بلی کے کھونٹے کو تانے کے ساتھ اکھاڑ ڈالا۔
15پھر وہ اس سے کہنے لگی تو کیونکر کہہ سکتا ہے کہ میں تجھے چاہتا ہوں جبکہ تیرا دل مجھ سے لگا نہیں؟ تو نے تینوں بار مجھے دھوکہ ہی دیا اور نہ بتایا کہ تیری شہزوری کا بھید کیا ہے۔
16جب وہ اسے روز اپنی باتوں سے تنگ اور مجبور کرنے لگی یہاں تک کہ اس کا دم ناک میں آگیا ۔
17تو اس نے اپنا دل کھول کر اسے بتا دیاکہ میرے سر پر استرہ نہیں پھرا ہے۔ اس لئے کہ میں اپنی ماں کے پیٹ ہی سے خدا کا نذیر ہوں۔ سو اگر میرا سر مونڈا جائے تو میرا زور مجھ سے جاتا رہے گا اور میں کمزور ہو کر اور آدمیوں کی طرح ہوجاﺅں گا۔
18جب دلیلہ نے دیکھا کہ اس نے دل کھول کر سب کچھ بتا دیا تو اس نے فلستیوں کے سرداروں کو کہلا بھیجا کہ اس بار اور آﺅ کیونکہ اس نے دل کھول کرمجھے سب کچھ بتا دیا ہے۔ تب فلستیوں کے سردار اس کے پاس آئے اور روپے اپنے ہاتھ میں لیتے آئے۔
19تب اس نے اسے اپنے زانوﺅں پر سلا لیا اور ایک آدمی کو بلا ساتوں لٹیں جو اس کے سر پر تھیں مونڈوا ڈالیں اور اسے اذیت دینے لگی اور اس کا زور اس سے جاتا رہا۔
20پھر اس نے کہا اے سمسون فلستی تجھ پر چڑھ آئے! اور وہ نیند سے جاگا اور کہنے لگا میں اور دفعہ کی طرح باہر جا کر اپنے کو جھٹکوں گا لیکن اسے خبر نہ تھی کہ خداوند اس سے الگ ہو گیا ہے۔
21تب فلستیوں نے اسے پکڑ کر اس کی آنکھیں نکال ڈالیں اور اسے غزہ میں لے آئے اور پیتل کی بیڑیوں سے اسے جکڑا اور وہ قید خانہ میں چکی پیسا کرتا تھا۔
22تو بھی اس کے سر کے بال منڈائے جانے کے بعد پھر بڑھنے لگے۔
23اور فلستیوں کے سردار فراہم ہوئے تاکہ اپنے دیوتا دجون کےلئے بڑی قربانی گذرانیں اور خوشی کریں کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہمارے دیوتا نے ہمارے دشمن سمسون کو ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
24اور جب لوگ اسکو دیکھتے تو اپنے دیوتا کی تعریف کرتے اور کہتے تھے کہ ہمارے دیوتا نے ہمارے دشمن اور ہمارے ملک کو اجاڑنے والے کو جس نے ہم میں سے بہتوں کو ہلاک کیا ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
25اور ایسا ہوا کہ جب ان کے دل نہایت شاد ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ سمسون کو بلاﺅ کہ ہمارے لئے کوئی کھیل کرے۔ سو انہوں نے سمسون کو قید خانہ سے بلایا اور وہ ان کےلئے کھیل کرنے لگا اور انہوں نے اس کو دو ستونوں کے بیچ کھڑا کیا۔
26تب سمسون نے اس لڑکے سے جو اس کا ہاتھ پکڑے تھا کہا مجھے ان ستونوں کو جن پر یہ گھر قائم ہے تھامنے دے تاکہ میں ان پر ٹیک لگاﺅں ۔
27اور وہ گھر مردوں اور عورتوں سے بھرا تھا اور فلستیوں کے سب سردار وہیں تھے اور چھت پر قریباً تین ہزار مرد و زن تھے جو سمسون کے کھیل دیکھ رہے تھے۔
28تب سمسون نے خداوند سے فریاد کی اور کہا اے مالک خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے یاد کر اور میں تیری منت کرتا ہوں اے خدا فقط اس دفعہ اور تو مجھے زور بخش تاکہ میں یک بارگی فلستیوں سے اپنی دونوں آنکھوں کا بدلہ لوں۔
29اور سمسون نے دونوں درمیانی ستونوں کو جن پر گھر قائم تھا پکڑ کر ایک پر دہنے ہاتھ سے اور دوسرے پر بائیں سے زور لگایا ۔
30اور سمسون کہنے لگا کہ فلستیوں کے ساتھ مجھے بھی مرنا ہی ہے۔ سو وہ اپنے سارے زور سے جھکا اور وہ گھر ان سرداروں اور سب لوگوں پر جو اس میں تھے گر پڑا۔ پس وہ مردے جن کو اس نے اپنے مرتے دم مارا ان سے بھی زیادہ تھے جن کو اس نے جیتے جی قتل کیا۔
31تب اس کے بھائی اور اس کے باپ کا سارا گھرانہ آیا اور وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور صرعہ اور استال کے درمیان اس کے باپ منوحہ کے قبرستان میں اسے دفن کیا۔ وہ بیس برس تک اسرائیلیوں کا قاضی رہا۔