Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
19 verses
1پھر لوگوں اور اُنکی بیویوں کی طرف سے اُنکے یہودی بھائیوں پر بڑی شکایت ہوئی۔
2کیونکہ کئی اَیسے تھے جو کہتے تھے کہ ہم اور ہمارے بیٹے بیٹیاں بہت ہیں۔سو ہم اناج لے لیں تاکہ کھا کر جیتے رہیں۔
3اور بعض اَیسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہم اپنے کھیتوں اور انگورِستانوں اور مکانوں کو گرورکھتے ہیں تا کہ ہم کال میں اناج لے لیں۔
4اور کتنے کہتے تھے کہ ہم نے اپنے کھیتوں اور انگورِستانوں پر بادشاہ کے خراج کے لئے روپیہ قرض لیا ہے۔
5پر ہمارے جِسم تو ہمارے بھائیوں کے جِسم کی طرح ہیں اور ہمارے بال بچے اَیسے ہیں جیسے اُنکے بال بچے اور دیکھو ہم اپنے بیٹے بیٹیوں کو نوکر ہونے کے لئے غلامی کے سُپرد کرتے ہیں اور ہماری بیٹیوں میں سے بعض لونڈیاں بن چکی ہیں اور ہمار اکچھ بس نہیں چلتا کیونکہ ہمارے کھیت اور انگورِستان اوروں کے قبضہ میں ہیں۔
6جب میں نے اُنکی فریاد اور یہ باتیں سُنیں تو میں بہت غصہ ہوا۔
7اور میں نے اپنے دِل میں سوچا اور اِمیروں اور حاکموں کو ملامت کرکے اُن سے کہا تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی سے سود لیتا ہے اور میں نے ایک بڑی جماعت کو اُنکے خلاف جمع کیا۔
8اور میں نے اُن سے کہا کہ ہم اپنے مقدور کے موافق اپنے یہودی بھائیوں کو جو اور قوموں کے ہاتھ بیچ دِئے گئے تھے دام دیکر چھڑایا ۔ سو کیا تم اپنے ہی بھائیوں کو بیچو گے؟اور کیا وہ ہمارے ہی ہاتھ میں بیچے جائینگے ؟تب وہ چپ رہے اور اُنکو کچھ جواب نہ سوجھا۔
9اور میں نے یہ بھی کہا کہ یہ کام جو تم کرتے ہو ٹھیک نہیں۔کیا اور قوموں کی ملامت کے سبب سے جو ہماری دُشمن ہیں تم کو خدا کے خوف میں چلنا لازم نہیں؟۔
10میں بھی اور میرے بھائی اور میرے نوکر بھی اُنکو روپیہ اور غلہ سود پر دیتے ہیں پر میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ ہم سب سُود لینا چھوڑ دیں۔
11میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ آج ہی کے دِن اُنکے کھیتوں اور انگورِستانوں اور زیتون کے باغوں اور گھروں کو اور اُس روپے اور اناج اور مے اور تیل کے سو یں حصہ کوجو تم اُن سے جبراً لیتے ہو اُنکو واپس کر دو۔
12تب اُنہوں نے کہا کہ ہم اُنکو واپس کر دینگے اور اُن سے کچھ نہ مانگینگے جیسا تو کہتا ہے ہم ویسا ہی کر ینگے ۔پھر میں نے کاہنوں کو بُلایا اور اُن سے قسم لی کہ وہ اِسی وعدہ کے مطابق کرینگے۔
13پھر میں نے اپنادامن جھاڑا اور کہا کہ اِسی طرح سے خدا ہر شخص کو جو اپنے اِس وعدہ پر عمل نہ کرے اُسکے گھر سے اور اُسکے کاروبار سے جھاڑڈالے۔ وہ اِسی طرح جھاڑ دیا اور نکال پھینکا جاے۔تب ساری جماعت نے کہا آئین اور خدا وند کی حمد کی اور لوگوں نے اِس وعدہ کے مطابق کام کیا۔
14علاوہ اِسکے جِس وقت سے میں یہوداہ کے ملک میں حاکم مُقرہ ہوا یعنی ارتخششتا بادشاہ کے بیسویں برس سے بتیسویں برس تک غرض بارہ برس میں نے اور میرے بھائیوں نے حاکم ہونے کی روٹی نہ کھائی ۔
15لیکن اگلے حاکم جو مجھ سے پہلے تھے رعیت پر ایک بار تھے اور علاوہ چالیس مثقال چاندی کے روٹی اور مے اُن سے لیتے تھے بلکہ اُنکے نوکر بھی لوگوں پر حکومت جتاتے تھے لیکن میں نے خدا کے خوف کے سبب سے اَیسا نہ کیا۔
16بلکہ میںَ س شہر پناہ کے کام میں برابر مشغول رہا اور ہم نے کچھ زمین بھی نہیں خریدی اور میر ے سب نوکروہاں کام کے لئے اکٹھے رہتے تھے۔
17اِسکے سوااُن لوگوں کے علاوہ جو ہمارے آس پاس کی قوموں میں سے ہمارے پاس آتے تھے یہودیوں اور سرداروں میں سے ڈیڑھ سو آدمی میرے دستر خوان پر ہوتے تھے۔
18اور ایک بیل اور چھ موٹی موٹی بھیڑیں ایک دِن کے لئے تیار کی جاتی تھیں۔مُرغیاں بھی میرے لئے تیار کی جاتی تھیں اور دس دس دِن کے بعد ہر قسم کی مے کا ذخیرہ تیار ہوتا تھا باوجوداِس سب کے میں نے حاکم ہونے کی روٹی طلب نہ کی کیونکہ اِن لوگو�� پر غلامی گران تھی۔
19اَے میرے خدا جو کچھ میں نے اِن لوگوں کے لئے کیا ہے اُسے تو میرے حق میں بھلائی کے لئے یاد رکھ۔