Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
33 verses
1اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2تو آدمیوں کو بھیج کر وہ ملک کنعان کا جو میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں حال دریافت کریں ان کے باپ دادا کے ہر قبیلہ سے ایک آدمی بھیجنا جو ان کے ہاں کا رئیس ہو
3چناچنہ موسیٰ نے خداوند کے ارشاد کے موافق دشت فاران سے ایسے آدمی روانہ کیے جو بنی اسرائیل کے سردار تھے
4انکے نام یہ تھے روبن کے قبیلہ سے زکور کا بیٹا سموع
5اور شمعون کے قبیلہ سے حوری کا بیٹا سافط
6اور یہوداہ کے قبیلہ سے یفنہ کا بیٹا لب
7اور اشکار کے قبیلہ سے یوسف کا بیٹا اجال
8اور افرائیم کے قبیلہ سے نون کا بیٹا ہوسیع
9اور بنیمین کے قبیلہ سے رفو کا بیٹا فلتی
10اور زبولون کے قبیلہ سے سودی کا بیٹا جدی ایل
11اور یوسف کے قبیلہ یعنی منسی کے قبیلہ سے سوسی کا بیٹا جدی
12اور دان کے قبیلہ سے جملی ایل کا بیٹا عملی ایل
13اور آشر کے قبیلہ سے میکا ایل کا بیٹا ستور
14اور نفتالی کے قبیلہ سے دفسی کا بیٹا نخنی
15اور جد کے قبیلہ سے ماکی کا بیٹا جیوایل
16یہی ان لوگو ں کے نام ہیں جن کو موسیٰ نے ملک کا حال دریافت کرنے کو بھیجا تھا اور نون کے بیٹے ہوسیع کا نام موسیٰ نے یشوع رکھا۔
17اور موسیٰ نے انکو روانہ کیا تاکہ ملک کنعان کا حال دریافت کریں اور ان سے کہا کہ تم ادھر جنوب کی طرف سے جا کر پہاڑوں میں چلے جانا
18اور دیکھنا کہ وہ ملک کیسا ہے اور جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیںوہ کیسےہیں زور آور ہیں یا کمزور تھوڑے ہیں یا بہت
19اور جس ملک میں وہ آباد ہیں وہ کیسا ہے اچھا ہے یا برا اور جن شہروں میں وہ رہتےہیں وہ کیسے ہیں آیا وہ خیموں میں رہتےہیں یا قلعوں میں۔
20اور وہاں کی زمین کیسی ہے زرخیز ہے یا بنجر اور اس میں درخت ہیں یا نہیں تمہاری ہم تبندھی رہے اور اس ملک کا پھل لیتے آنا اور و ہ موسم انگور کی پہلی فصل کا تھا
21سو وہ روانہ ہوئے اور دشت صین سے سے رحوب تک جو حمات کے راستے میں ہے ملک کو خوب دیکھا بھالا
22اور جنوب کی طرف وے ہوتے ہوئے جبرون تک گئے جہا ں عناق کے بیٹے اخیمان اور سیسی اور تلمی رہتے تھے ( اور جبرون ضعن سے جو مصر میں سے ہے ساتھ برس آگے بسا تھا)
23اور وہ وادیِ اسکال میں پہنچے وہاں انہوں نے انگور کی ایک ڈالی کاٹ لی جس میں ایک ہی گچھا تھا اور جسےدو آدمی ایک لاٹھی پر لٹکائے لے کر گئے اور وہ کچھ انار اور انجیر بھی لائے
24اسی گچھے کے سبب سے جسے اسرائیلیوں نے وہاں کاٹا تھااس جگہ کا نام وادی اسکال پڑ گیا
25اور چالیس دن کے بعد وہ اس ملک کا حال دریافت کر کے لوٹے
26اور وہ چلے اور موسیٰ اور ہارون اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس دشت فاران کے قادس میں آئے اور انکو اور ساری جماعت کو ساری کیفیت سنائی اور اس ملک کا پھل انکو دکھایا
27اور موسیٰ سے کہنے لگے کہ جس ملک میں تو نے ہم کو بھیجا تھا ہم وہاں گئے اور واقعی دودھ اور شہد اس میں بہتا ہے اور یہ وہاں کا پھل ہے
28لیکن وہ لوگ جو وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں اور ان کے شہر بڑے بڑ ے اور فصیل دار ہیں اور ہم نے بنی عناق کو بھی وہاں دیکھا
29اس ملک کے جنوبی حصہ میں تو عمالیقی آباد ہیں اور حتی اور یبوسی اور اموری پہاڑوں پر رہتے ہیں اور سمندر کے ساحل پر اوریردن کے کنارے کنارے کنعانی بسے ہوئے ہیں
30تب کالب نے موسیٰ کے سامنے لوگوں کو چپ کرایا اور کہا کہ چلو ہم ایک دم جا کر اس پر قبضہ کریں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کر لیں
31لیکن جو اور آدمی اس کے ساتھ گئے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں کیونکہ وہ ہم سے زیادہ طاقت ور ہیں
32ان آدمیوں نے بنی اسرائیل کو جسے وہ دیکھنے گئے تھے بری خبر دیا اور یہ کہا کہ وہ ملک جسکا حال دریافت کرنے کے لیے ہم اس میں سے گزرے ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دکیھے وہ بڑے قد آور ہیں
33اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہیں ان کی نگاہ میں تھے۔وَقَدْ رَأَيْنَا هُنَاكَ الجَبَابِرَةَ (بَنِي عَنَاقٍ مِنَ الجَبَابِرَةِ). فَكُنَّا فِي أَعْيُنِنَا كَالجَرَادِ وَهَكَذَا كُنَّا فِي أَعْيُنِهِمْ».